کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در بیان کدخدائی نواب آصف الدولہ بہادر
ہے جہان کہن تماشاگاہآصف الدولہ کا رچا ہے بیاہ
آؤ ساقی کہ کدخدائی ہےطبع نواب ادھر کو آئی ہے
دل خوش احباب و شاد بہر دہربستہ آئیں دو راستہ ہے شہر
نئے سر سے جواں ہوا ہے جہاںعیش و عشرت کے محو خرد و کلاں
ہر طرف شہر میں ہے آرائشرہرواں کی نہیں ہے گنجائش
شیشہ باز فلک ہے آتش بازکہکشاں سے ہوا ہوائی ساز
ماہ سے ماہتاب کی ہے طرحکس سے ہو لطف روشنی کی شرح
نہیں رستوں میں روشنی کے دیےنجم ہیں چشم روشنی کے لیے
کیا ستاروں کا چھوٹنا کہیےآسماں کی طرف ہی تک رہیے
شب شادی کی دھوم کی کیا باتروز روشن تھی روشنی سے رات
دو طرف چھوٹتے جو ہیں گے انارراہ و رستے ہوئے ہیں باغ و بہار
آؤ ساقی کہ جمع ہیں احبابسب مہیا ہیں عیش کے اسباب
لا وہ جوں آفتاب ساغر زرآب گل رنگ سے لبالب کر
آج جھوما ہے ابر بخشش زورکچھ نظر ہے تجھے ہوا کی اور
دست دستور ابر نیساں ہےیعنی یک دست گوہرافشاں ہے
کر چمن زار دست و دل کی سیرہیں نہال آج آشنا و غیر
گل نمط دل شگفتہ سب کے کیےخلعت فاخرہ سبھوں کو دیے
لا کہاں ہے وہ لالہ رنگ شرابجس سے مست گذارہ ہوں احباب
آؤ مطرب لیے رباب و چنگکاڑھ منھ سے نواے سیرآہنگ
ہر طرف رقص میں ہیں گل رویاںپاے کوباں ہیں سلسلہ مویاں
شادمانی سے ہو نواپردازدے بہار گذشتہ کو آواز
گل و لالہ سے چشم باز کرےرنگ صحبت کو دیکھ ناز کرے
چھیڑ ساز طرب نوا کے تئیںباندھ آواز سے ہوا کے تئیں
وجد میں لاؤ مے پرستوں کویاد دے ٹک سرود مستوں کو
آؤ ساقی کہ روشنی ہے خوبمحو آرائش آج ہیں محبوب
کاغذیں باغ کیا تماشا ہےپھول کترا کہ گل تراشا ہے
بکّے سی مشعلوں کا ہوں بندہنور کا ماہ نے کیا چندہ
شیشہ شیشہ شراب ہے درکارصحبت عیش کو چھکا یک بار
لالہ رنگ رخ نکویاں کومایۂ ناز خوب رویاں کو
اس پری کو نکال شیشے سےرنگ مجلس میں ڈال شیشے سے
ہوئے سرمست ہو تماشائیحکم کش ہے سپہر مینائی
چھوڑ آئین بردباری کاسیر کرلے تزک سواری کا
چل گلابی کو ہاتھ میں لے لےایک دم جام متصل دے لے
ہے سواری کے فیل کی وہ دھومجیسے ابر بہار آوے جھوم
آئے دولت سرا سے ہو کے سوارلعل ناب و گہر ہیں صرف نثار
اک مہابت کے ساتھ فیل نشاںآگے مانند کوہ زر کے رواں
اور ہاتھی ہیں جھومتے جاتےجیسے آویں جوان مدھ ماتے
جل زربفت کی ہے ساری شبروکش انجم فلک ہیں سب
پلٹنیں جاتی ہیں برابر یوںصف ہو مژگان دلبروں کی جوں
بال بستہ رکاب میں ہیں سرنگجن کے دیکھے کمیت چرخ ہے دنگ
خوش سواری و خوش جلو خوش راہباگ اچکی تو پھر نہ ٹھہری نگاہ
گردنوں میں پڑی حمائل گلہے جلو میں بصد شمائل گل
تھا بہت تیزگام اسپ خیالرہ گیا دیکھ کر انھوں کی چال
تھے پری زاد چھیڑے اڑ جاویںآنکھ پھیرو تو کل سے مڑ جاویں
کسمسانے میں باؤ سے آگےہاں کہے جیسے وہم جا لاگے
نوبتی اب طبیعتوں کو رجھاؤچل سواری کا ٹک اصول بجاؤ
چوب نقارے پر لگا اس ڈھبکہ رکھیں گوش اس صدا پر سب
ایک دو دم بجائے جاؤ یوں ہیدل کش آواز گائے جاؤ یوں ہی
پھینکتے ہیں جو دستہ دستہ گلرہگذر میں ہیں رستہ رستہ گل
وہ جو دیوے تو کیا لیا جاوےخوشہ خوشہ گہر دیا جاوے
ساقیا دے وہ مے جو باقی ہےشادی ایسی بھی اتفاقی ہے
ہو مبارک یہ جشن خوش انجامدور گردوں بہ کام عیش مدام
آ مغنی غزل سرائی کرکچھ مزے سے بھی آشنائی کر
پڑھ غزل میرؔ کی جو ہووے یادان کو تو اس میں کہتے ہیں استاد
غزل
موسم ابر ہو سبو بھی ہوگل ہو گلشن ہو اور تو بھی ہو
کب تک آئینے کا یہ حسن قبولمنھ ترا اس طرف کبھو بھی ہو
ہو جو تیرا سا رنگ گل گاہےریجھیں ہم تب جب ایسی بو بھی ہو
ہے غرض عشق صرف ہے لیکنشرط یہ ہے کہ جستجو بھی ہو
سرکشی گل کی خوش نہیں آتیناز کرنے کو ویسا رو بھی ہو
کس کو بلبل ہے دم کشی کا دماغہو تو گل ہی کی گفتگو بھی ہو
دل تمناکدہ تو ہے پر میرؔہو تو اس کی ہی آرزو بھی ہو
۵۰۴ / ۵۸۲