کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در بیان مرغ بازاں

۱

دلی سے ہم جو لکھنؤ آئےگرم پرخاش مرغ یاں پائے

۲

پر و پرزہ درست و یکساں ہےمرغ تصویر کا بھی حیراں ہے

۳

مرغ ہے ایک ایک جیسے کلنگقاز و سارس سے جنگ جس کا ننگ

۴

حوصلہ کس قدر حواصل کاذکر کیا کرگس شتردل کا

۵

لات کی گھات کر جو مڑ جاوےنسر طائر کا رنگ اڑ جاوے

۶

زہرہ ققنس کا اس خطر سے آبشب نہ سووے ہراس سے سرخاب

۷

بکری سا فیل مرغ کو ماراکب شتر مرغ سے ہوا چارہ

۸

آدمی جو بڑے کہاتے ہیںمرغ مارے بغل میں آتے ہیں

۹

سرخہ و سبزوار کے سب مرغہیں ثناگستر ایسے تھے کب مرغ

۱۰

ہو جو کیں مرغ خانگی کے تئیںمت سن اس ہرزہ چانگی کے تئیں

۱۱

لات ماری جو کاٹ کر حلقومحیدرآباد تک پڑی ہے دھوم

۱۲

کھا کے سینے کی مدعی سووےنسر واقع کا واقعہ ہووے

۱۳

نے ثنا سے بطیں ہی ہیں تر لبمرغ عیسیٰ ہیں مدح خواں ہر شب

۱۴

ٹینی کے سر پہ آج ٹیکا ہےاس کے آگے کنیل پھیکا ہے

۱۵

کیا عجب ان کی رہگذر کا فرشہوں پرافشاں تو ہو خروس عرش

۱۶

اڑ گیا حلق کا جو لڑتے پوستکی صدا مرغ دوست نے ہے دوست

۱۷

کیس اس رنگ ہوتے ہیں محسوسجوں گلستاں میں ہوویں تاج خروس

۱۸

شور جنگ آوری کا تاکہسارکبک کا گھر خروس پر ہے بار

۱۹

کب ہیں پہلے سے مرغ زریں بالحسن لاکھے کا سمجھے مرغ خیال

۲۰

کرسکے وصف مرغ کیا کوئیمرغ آمین کو دعاگوئی

۲۱

وقر اتنا کہ دیر بچے لیںجان دے کوئی تخم مرغ نہ دیں

۲۲

مرغ بازوں سے ساز کر دیکھادر الطاف باز کر دیکھا

۲۳

ربط رکھا بہت انھوں کے ساتھایک پر مرغ کا نہ آیا ہاتھ

۲۴

مرغ کا مرغ ہووے مرغ اندازمرغ ایسا ہو تو بجا ہے ناز

۲۵

یعنی اپنا حریف جب پاوےپر ہلانے نہ دیوے کھا جاوے

۲۶

سینہ کیا سینہ بال کیا پر و بالجیسے چشم خروس آنکھیں لال

۲۷

بازی بدبد کے جب لڑاتے ہیںکانٹے لوہے کے باندھ لاتے ہیں

۲۸

آیا حلقوم کے کہ حلق کے پارپھوٹا چھاتی میں ایک لگ کے دوسار

۲۹

ہاتھ جس مرغ باز کے تھا وہپانی کرنے لگا ترارا وہ

۳۰

کچھ جو ٹھہرا تو دم دیا ان نےتعبیہ کرکے رکھ لیا ان نے

۳۱

اور جو سست ہو ہوا تھیلادونوں بازو کے پر دیے پھیلا

۳۲

ہوچکا ہوچکا ہوا یہ شورڈھلکی گردن گیا وہ سارا زور

۳۳

پھیلا پانی میں وہ غم جاں سوزدل زدہ پھر ہیں مرغ دست آموز

۳۴

جانور رنگ باختہ سب ہیںیعنی حیران فاختہ سب ہیں

۳۵

مرغ قبلہ نما کو وحشت ہےبال کھولے ہیں پر نہ طاقت ہے

۳۶

ورنہ اڑ کر کہیں چلا جاتادیر اپنے مقام پر آتا

۳۷

جمعے منگل کو پالی کی ہے دھومگلیوں میں روز حشر کا ہے ہجوم

۳۸

مرغ بازوں کو ہے قیامت جوشجس کو دیکھو تو مرغ در آغوش

۳۹

مرغ لڑتے ہیں ایک دو لاتیںسیکڑوں ان سفیہوں کی باتیں

۴۰

ان نے پر جھاڑے یہ پھڑکنے لگےان نے کی نوک یہ کڑکنے لگے

۴۱

وہ جو سیدھا ہوا تو یہ ہیں کجساتھ اس کے بدلتے ہیں سج دھج

۴۲

مرغ کی ایک پرفشانی ہےان کی صد رنگ بدزبانی ہے

۴۳

ایک بولے کہ کاری آئی چوٹایک کہتا ہے بس گیا اب لوٹ

۴۴

جھکتے ہیں آپ کو تڑاتے ہیںلاتیں گویاکہ یہ ہی کھاتے ہیں

۴۵

ایک کے منھ میں مرغ کی منقارایک کے لب پہ ناسزا گفتار

۴۶

منھ پہ آیا جو کچھ وہ بکنے لگےتیکھی نظروں سے سب کو تکنے لگے

۴۷

طرفہ ہنگامہ طرفہ صحبت ہےبعد نصف النہار رخصت ہے

۴۸

کھانچے سر پر بغل میں مارے مرغلے گئے جیتے ہارے سارے مرغ

۴۹

پھر جو روز معین آوے گانالہ مرغ سحر سناوے گا

۵۰

عالم آوے گا گرد ویسا ہیگرم ہنگامہ ہوگا ایسا ہی

۵۱

میرؔ ان کا نہ ہووے گو قائلمرغ معنی پہ وہ بھی ہے مائل

۵۰۵ / ۵۸۲