کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در بیان دنیا

۱

سنو اے عزیزان ذی ہوش و عقلکہ اس کارواں گہ سے کرنا ہے نقل

۲

پیمبر ہے شہ ہے کہ درویش ہےسبھوں کو یہی راہ درپیش ہے

۳

کہوگے کہ آگے تھا کہتا کوئینہیں اس سرا بیچ رہتا کوئی

۴

بجا ہی کیا کوس رحلت مدامکنھوں نے نہ بجتا سنا یاں مقام

۵

یہ بیٹھے جو ہیں سامنے ہیں کہاںجہاں جملہ ہے ایک بزم رواں

۶

جسے دیکھو چلنے کا گرم تلاشیہ منزل نہیں جاے بود اور باش

۷

گدا ہو کہ ہو شاہ عالی تبارتہ خاک سب کا ہے دارالقرار

۸

نہ یک بوے خوش ہی ہوا ہوگئیوہ رنگینی باغ کیا ہوگئی

۹

ملے خاک میں جھڑکے گل ہاے ترپریشاں ہوئے مرغ گلشن کے پر

۱۰

پتنگوں نے گر خاک مسکن کیاچراغوں نے بھی خانہ روشن کیا

۱۱

گئی خاک دامن فشانی کے ساتھرہا آب سو بھی روانی کے ساتھ

۱۲

رہی راکھ ہوکر اگر آگ تھیرکن ہے جہاں باد کی لاگ تھی

۱۳

نہ جدول رہے گی نہ سرو رواںگلستاں کو پاویں گے ہو کا مکاں

۱۴

زمیں کا رہے گا یہی کیا سبھاؤلپٹ جائیں گے آسماں جیسے تاؤ

۱۵

سکوں یاں کا دیکھا سراسر شتابچلے جاتے ہیں کوہ جیسے سحاب

۱۶

جہاں ایک ماتم سرا ہے عجبنہیں جاے باش اور جا ہے عجب

۱۷

بھلا جی کے جانے کا کیا ہے بیاںعیاں ہے کہ کہتے ہیں جاں کو رواں

۱۸

جوانی گئی موسم شیب ہےشہود ایک دو روز کو غیب ہے

۱۹

ہنسوں کیونکے ہستی میں دنداں نماکہ ہے جاے دنداں ہی دنداں نما

۲۰

گیا شور سر سے جھکا ہے بہتگئی واشد اب دل رکا ہے بہت

۲۱

نہ وہ ذائقہ ہے نہ وہ ہے مشاممزہ کچھ نہیں ہوچکی صبح شام

۲۲

کریں لمس کیا ہر گھڑی ہے صداعنہیں لذت اکل و شرب و وقاع

۲۳

بلا ارتعاش تن زار ہےہر اک عضو چلنے کو تیار ہے

۲۴

ہوا حافظہ بسکہ نسیاں کا صرفنہیں یاد آتا ہے دوشینہ حرف

۲۵

ہوئے شعر کیا کیا فراموش ہائےکہوں کیا گذرتی ہے خاموش ہائے

۲۶

نہ پوچھو لب و لہجہ بے طور ہےسخن کرنے کا ڈھنگ ہی اور ہے

۲۷

نہیں گور کے کام سے کچھ فراغکسے ذوق صحبت کہاں ہے دماغ

۲۸

نہ کچھ یوں ہی عینک نظر چڑھ گئیبصارت کی بے طاقتی بڑھ گئی

۲۹

نہ رکھیے جو عینک نہ آوے نظرکہے تو کہ اعمیٰ ہیں ہم بے بصر

۳۰

رہیں دیکھ بھو حرف زن ہو حریفرہا سننے کے گوں نہ سمع شریف

۳۱

صد افسوس لطف سماعت نہیںصدا دور سے جیسے آوے کہیں

۳۲

شباب آہ داغ جگر دے گیاقد خم زمیں کی طرف لے گیا

۳۳

نہ کچھ زور بازو بہت کم ہواجھکا سر سو زانو کا ہمدم ہوا

۳۴

جوانی کی شب کیا بسر ہوگئیسفیدی مو سے سحر ہوگئی

۳۵

بدن زار اعضا سبھی رعشہ دارکرے کون خوباں سے بوس و کنار

۳۶

جو یہ چال ہے جا رہے ہیں ہم ابدموں پر غرض آرہے ہیں ہم اب

۳۷

کھڑے ہوں تو تھرائے ران اور ساقجئیں بیٹھیں کیوں کر کہ جینا ہے شاق

۳۸

جو یوں پاؤں چلتے بچلتے رہےتو دیکھوگے ہم یاں سے چلتے رہے

۳۹

اگر ضعف سے چپ ہی رہتے ہیں ہمیہ سوچو تو کیا کیا نہ کہتے ہیں ہم

۴۰

کہے میں نہیں اپنے ٹک پا و دستکیا خاک میں مجھ کو پیری نے سخت

۴۱

جو بازو ہیں اپنے وہ بازو نہیںاگر منھ کو دیکھو تو وہ رو نہیں

۴۲

بدن کی ہوئی میرے صورت ہی اوروے آنکھیں نہیں وے نہ چتون کے طور

۴۳

جسد ناتواں جاے مہمان تنگسخن منھ پہ آوے وداعی کے رنگ

۴۴

لبوں پر نہایت ضعیف ایک آہدر و بام پر حسرتوں سے نگاہ

۴۵

شکن جلد میں دل کو پژمردگیغریزی حرارت میں افسردگی

۴۶

برودت بہت جسم میں آگئیمزاجی تھی گرمی سو ٹھٹھرا گئی

۴۷

چھڑکتا رہوں منھ پہ میں آب کاشکہ ہوتا رہے روح کا انتعاش

۴۸

وگرنہ دیا سا بجھا جائے ہےپھر اٹھ بیٹھوں تو جی چلا جائے ہے

۴۹

سیہ روے شیب اک ستم کر گیالکھوں کیا کہ میں جیتے جی مر گیا

۵۰

قلم رکھ دے کر میرؔ ختم کلامتمام اپنی صحبت ہوئی والسلام

۵۰۶ / ۵۸۲