کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در بیان بز

۱

کہتے ہیں جو غم نداری بز بخرسو ہی لی میں ایک بکری ڈھونڈھ کر

۲

شعر زور طبع سے کہتا ہوں چاردزدی بزگیری نہیں اپنا شعار

۳

دزد ہے شائستہ خوں ریزی کا یاںبلکہ بابت ہے بزآویزی کا یاں

۴

میں پڑھوں ہوں اس کے آگے شعر گہاپنے ہاں گویا بز اخفش ہے یہ

۵

بکروں کی داڑھی کے تیں جانے ہیں سبتکہ ریشی بکری کی ہے بوالعجب

۶

رنگ سر سے پاؤں تک اس کا سیاہچکنی ایسی جس پہ کم ٹھہرے نگاہ

۷

چار پستاں اس کے آئے دید میںدو جہاں ہوتے ہیں دو ہیں جید میں

۸

ایک میں ان میں سے تھا مطلق نہ شیرایک کو کہتے ہیں اندھے خرد و پیر

۹

اس پہ کالے بکرے دو خیلا جنےنازنخرے سے رہے پھر انمنے

۱۰

چارہ بیٹھے کھاتے اک انداز سےدیتی پٹھ تو ہوتے خوش اس ناز سے

۱۱

دودھ ہو چوچی میں تو بچہ پیےبیٹھا دیکھے اس طرف منھ کو کیے

۱۲

بھوک سے گرم تظلم وے ہوئےاپنے شایان ترحم وے ہوئے

۱۳

دودھ منگوایا کیے بازار سےپھوہوں سے دینا کیا انفار سے

۱۴

گھاس دانہ بارے کچھ کھانے لگےگرتے پڑتے پاس بھی آنے لگے

۱۵

پرورش سے حق کی بارے جی گئےآب و دانہ دوڑ کر کھا پی گئے

۱۶

اب جوانی پر جو ہیں وہ شیر مستکودتے ہیں ہر زماں ہر دم ہیں جست

۱۷

مستی اپنی ماں پہ کرتے شاد ہیںعاقبت بکرے ہی کی اولاد ہیں

۱۸

زور و قوت سے حریفوں کے ہیں ڈھینگآہوے جنگی کو دکھلاتے ہیں سینگ

۱۹

ٹکر ان کی کیا جگر مینڈھا اٹھائےقوچ سرزن سامنے ہرگز نہ آئے

۲۰

سرزنی میں شہرۂ آفاق ہیںلوگ بزگیری کے سب مشتاق ہیں

۲۱

رنگ کو اس جنگ کا کیا ڈھنگ ہےدھنستے ہی میداں کا عرصہ تنگ ہے

۲۲

ہوتے ہی استادہ طاری ہو غشیکیا بز کوہی سے ہو میداں کشی

۲۳

تیس ان کی دھاک سن کر مر گیاغم گوزنوں کو انھوں کا چر گیا

۲۴

گووہ ٹکر کھا جو ڈکراتا رہابزدلی سے گرگ بھی جاتا رہا

۲۵

مارے پانی پانی کر بکرے اصیللکھنؤ سے غل ہے تا بکرے کی جھیل

۲۶

پاس جانا ان کے اب مسدود ہےذبح کرنے کو ہر اک موجود ہے

۲۷

اس ادا سے جائیں گے چھریوں تلےکاشکے ہوتے نہ ہاتھوں میں پلے

۵۰۷ / ۵۸۲