کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

خواب و خیال

۱

خوشا حال اس کا جو معدوم ہےکہ احوال اپنا تو معلوم ہے

۲

رہیں جان غمناک کو کاہشیںگئیں دل سے نومید سو خواہشیں

۳

زمانے نے رکھا مجھے متصلپراگندہ روزی پراگندہ دل

۴

گئی کب پریشانی روزگاررہا میں تو ہم طالع زلف یار

۵

وطن میں نہ اک صبح میں شام کینہ پہنچی خبر مجھ کو آرام کی

۶

اٹھاتے ہی سر یہ پڑا اتفاقکہ دشمن ہوئے سارے اہل وفاق

۷

جلاتے تھے مجھ پر جو اپنا دماغدکھانے لگے داغ بالاے داغ

۸

زمانے نے آوارہ چاہا مجھےمری بیکسی نے نباہا مجھے

۹

رفیقوں سے دیکھی بہت کوتہیغریبی نے اک عمر کی ہمسری

۱۰

مجھے یہ زمانہ جدھر لے گیاغریبانہ چندے بسر لے گیا

۱۱

بندھا اس طرح آہ بار سفرکہ نے زاد رہ کچھ نہ یار سفر

۱۲

دل اک یار سو بے قرار بتاںغبار سر رہگذار بتاں

۱۳

گرفتار رنج و مصیبت رہاغریب دیار محبت رہا

۱۴

چلا اکبرآباد سے جس گھڑیدر و بام پر چشم حسرت پڑی

۱۵

کہ ترک وطن پہلے کیونکر کروںمگر ہر قدم دل کو پتھر کروں

۱۶

دل مضطرب اشک حسرت ہواجگر رخصتانے میں رخصت ہوا

۱۷

کھنچا ساری رہ دامن چاک دلرہا بر قفا روے غمناک دل

۱۸

پس از قطع رہ لائے دلی میں بختبہت کھینچے یاں میں نے آزار سخت

۱۹

جگر جور گردوں سے خوں ہوگیامجھے رکتے رکتے جنوں ہوگیا

۲۰

ہوا خبط سے مجھ کو ربط تماملگی رہنے وحشت مجھے صبح و شام

۲۱

کبھو کف بہ لب مست رہنے لگاکبھو سنگ در دست رہنے لگا

۲۲

کبھو غرق بحر تحیر رہوںکبھو سر بہ جیب تفکر رہوں

۲۳

یہ وہم غلط کار یاں تک کھنچاکہ کار جنوں آسماں تک کھنچا

۲۴

نظر رات کو چاند پر گر پڑیتو گویا کہ بجلی سی دل پر پڑی

۲۵

مہ چاردہ کار آتش کرےڈروں یاں تلک میں کہ جی غش کرے

۲۶

توہم کا بیٹھا جو نقش درستلگی ہونے وسواس سے جان سست

۲۷

نظر آئی اک شکل مہتاب میںکمی آئی جس سے خور و خواب میں

۲۸

اگرچند پرتو سے مہ کے ڈروںولیکن نظر اس طرف ہی کروں

۲۹

ڈروں دیکھ مائل اسے اس طرفبحدے کہ آجائیں ہونٹوں پہ کف

۳۰

پڑی فکر جاں میرے احباب کواڑا دیویں سب گھر کے اسباب کو

۳۱

کوئی پاس کوئی تفاوت سے ہوسراسیمہ کوئی محبت سے ہو

۳۲

کوئی فرط اندوہ سے گریہ ناکگریباں کسو کا مرے غم سے چاک

۳۳

جو دیکھوں تو آنکھوں سے لوہو بہےنہ دیکھوں تو جی پر قیامت رہے

۳۴

کہے چشم بندی کو ہر یار و غیرولے منزل دل میں اس مہ کی سیر

۳۵

وہی جلوہ ہر آن کے ساتھ تھاتصور مری جان کے ساتھ تھا

۳۶

اگر ہوش میں ہوں وگر بے خبروہ صورت رہے میرے پیش نظر

۳۷

اسے دیکھوں جیدھر کروں میں نگہوہی ایک صورت ہزاروں جگہ

۳۸

نگہ گردش چشم سے فتنہ سازمژہ آفت روزگار دراز

۳۹

عجب رنگ پر سطح رخسار کامگر وہ تھا آئینہ گلزار کا

۴۰

جو آنکھ اس کی بینی سے جاکر لڑےدم تیغ پر راہ چلنی پڑے

۴۱

مکاں کنج لب خواہش جان کاتبسم سبب کاہش جان کا

۴۲

دہن دیکھ کر کچھ نہ کہیے کہ آہسخن کی نکلتی تھی مشکل سے راہ

۴۳

سزا ہے جگر اس کسو کے لیےجو سیب ذقن اس کا بوکر جیے

۴۴

گل تازہ شرمندہ اس رو سے ہوخجل مشک ناب اس کے گیسو سے ہو

۴۵

سراپا میں جس جا نظر کیجیےوہیں عمر اپنی بسر کیجیے

۴۶

کہیں مہ کا آئینہ در دست ہےکہیں بادۂ حسن سے مست ہے

۴۷

کہیں نقش دیوار دیکھا اسےکہیں گرم رفتار دیکھا اسے

۴۸

کہیں دلبری اس کو درپیش ہےکہیں مائل خوبی خویش ہے

۴۹

کہیں جملہ تن مہر صرف سلوککہیں مجھ سے سرگرم حرف سلوک

۵۰

لطافت سے یک جان ہووے تمیزسبک سیر مانند عمر عزیز

۵۱

کہیں جلوہ پرداز وہ عشوہ سازکہیں ایستادہ بصد رنگ ناز

۵۲

ہر اک جاے لے ناز سے وہ سبقدر و بام تصویر کا سا ورق

۵۳

رہے سامنے اس طرح پر کبھورکھے وضع سے پاؤں باہر کبھو

۵۴

بغل میں کبھو آرمیدہ رہےکبھو اپنے برخویش چیدہ رہے

۵۵

کبھو صورت دلکش اپنی دکھائےکبھو اپنے بالوں میں منھ کو چھپائے

۵۶

کبھو گرم کینہ کبھو مہرباںکبھو دوست نکلے کبھو خصم جاں

۵۷

کبھو یک بہ یک یار ہو جائے وہکبھو دست بردار ہو جائے وہ

۵۸

گلے میں مرے ہاتھ ڈالے کبھوطرح دشمنی کی نکالے کبھو

۵۹

کبھو چیں بہ ابرو کبھو ہنس کے باتکبھو بے وفائی کبھو التفات

۶۰

جو میں ہاتھ ڈالوں وہاں کچھ نہیںبجز شکل وہمی عیاں کچھ نہیں

۶۱

ہر اک رات چندے یہ صورت رہیاسی شکل وہمی سے صحبت رہی

۶۲

دم صبح ہو گرم رہ سوے ماہکہ درپیش آوے یہ روز سیاہ

۶۳

کہ جھوما کروں بید مجنوں کی طرزرہے یاد اس سرو موزوں کی طرز

۶۴

رہوں زرد میں گاہ بیمار ساپریشاں سخن گہ پری دار سا

۶۵

پری خواں کو لا کوئی افسوں پڑھائےکسو سے کوئی جاکے تعویذ لائے

۶۶

طبیبوں کو آخر دکھایا مجھےنہ پینا جو کچھ تھا پلایا مجھے

۶۷

دوا جو لکھی سو خلاف مزاجکھنچا اس خرابی سے کار علاج

۶۸

کہ سررشتہ تدبیر کا گم ہوادل اوپر ہجوم توہم ہوا

۶۹

دروں خودبخود بے حواسی رہیپریشاں دلی اور اداسی رہی

۷۰

کروں بے کلی جاؤں تا ہر کہیںنہ گھر میں لگے جی نہ باہر کہیں

۷۱

قیامت جنوں کا رہے سر میں شورکھنچا جائے دل کوہ و صحرا کی اور

۷۲

رہے شوق سر در گریبان دلہوا کھینچے صحرا کو دامان دل

۷۳

سر آشفتہ زلف گرہ گیر کاقدم حلقہ در گوش زنجیر کا

۷۴

جنوں آہ در پے ہوا جان کےمجوز ہوئے یار زندان کے

۷۵

کیا بند اک کوٹھری میں مجھےکہ آتش جنوں کی مگر واں بجھے

۷۶

لب نان اک بار دینے لگےدم آب دشوار دینے لگے

۷۷

کہاں علم کا کسب فرصت نہ آہہوا کا بھی واں گشت روزن کی راہ

۷۸

نہ آوے کوئی ڈر سے میرے کنےکہ کیا جانیے کیسی صحبت بنے

۷۹

وہ آشفتہ سر ہوش مندی سے دورنہیں رابطہ مقتضاے شعور

۸۰

وہ حجرہ جو تھا گور سے تنگ تردر اس کا نہ کھلتا تھا دو دو پہر

۸۱

جو اس میں کبھو میں سنبھل بیٹھتاتو باہر بھی اک دم نکل بیٹھتا

۸۲

سر شام بیٹھا تھا میں ایک روزافاقت نہ آئی تھی مجھ کو ہنوز

۸۳

کہ یاروں نے برجستہ تدبیر کیمرے خون میں کچھ نہ تقصیر کی

۸۴

اگرچند کہنے کو خوں کم کیالیا لوہو اتنا کہ بے دم کیا

۸۵

بڑی دیر تک خون جاری رہامیں بے ہوش وہ رات ساری رہا

۸۶

جگایا سحر مجھ کو اک شور سےکھلی آنکھ میری بڑے زور سے

۸۷

وہی دست فصاد میں نیشتروہی رنگ صحبت کا پیش نظر

۸۸

وہی لوہو لینے کا ہنگامہ پھروہی تر لہو میں مرا جامہ پھر

۸۹

لگے نشتر ایسے کہ لگتے نہیںچبھے جیسے مژگاں کسو کے تئیں

۹۰

ہوا خون سے دامن و جیب تررگ جاں تلک زخم پہنچا مگر

۹۱

ٹپکتا رہا دیر تک خون نابمجھے لے گئی بے خودی کی شراب

۹۲

سخن ضعف سے سخت دشوار تھاپلک کا اٹھانا بھی اک بار تھا

۹۳

کئی روز بالیں پہ یہ سر رہاخمار ایک مدت تلک پھر رہا

۹۴

کھڑا ہوں اگر پاؤں لغزاں رہےبدن بید کی طرح لرزاں رہے

۹۵

چلا جائے سر پاؤں تھرتھر کرےنسیم سحر کار صرصر کرے

۹۶

جفا ضعف سے مجھ کو کیا کیا نہ تھیافاقت گئی یوں کہ گویا نہ تھی

۹۷

پس از چند آنکھیں ٹھہرنے لگیںنگاہیں بھی کچھ کام کرنے لگیں

۹۸

بندھا ناتوانی کا رخت سفرکیا طاقت رفتہ نے منھ ادھر

۹۹

کسے تھا مری زندگانی کا دھیانولیکن نہایت تھا میں سخت جان

۱۰۰

لگی جان سی آنے اعضا کے بیچکوئی روز رہنا تھا دنیا کے بیچ

۱۰۱

پھرا ناتواں میں بہت دور سےکہ نزدیک تھا عالم گور سے

۱۰۲

غلط کاری وہم کچھ کم ہوئیوہ صحبت جو رہتی تھی برہم ہوئی

۱۰۳

وہ صورت کا وہم اور دیوانگیلگی کرنے درپردہ بیگانگی

۱۰۴

پس از دیر آنکھوں میں آنے لگینہ دو دو پہر منھ لگانے لگی

۱۰۵

نہ دیکھے مری اور اس پیار سےغریبانہ سر مارے دیوار سے

۱۰۶

کہیں ٹک تسلی کہیں بے قرارکہیں شوق سے میرے بے اختیار

۱۰۷

کہیں واسطے میرے روتی ہے خونکہیں دست زیر زنخ ہے ستون

۱۰۸

کہیں دل کو اپنے دکھاوے مجھےمری بے وفائی جتاوے مجھے

۱۰۹

کہیں دست بر دل وہ رشک قمرکہیں حسرت آلودہ مجھ پر نظر

۱۱۰

کہیں بے دماغانہ سرگرم نازکہیں آتش شوق سے جاں گداز

۱۱۱

کہیں چشم گریاں سے دامان پاککہیں سو جگہ سے گریبان چاک

۱۱۲

کہیں کام دل کی شکایت سے ہےکہیں نقش دیوار حیرت سے ہے

۱۱۳

کہیں مجھ سے کہتی ہے رخصت مجھےکہ مطلق نہیں غم کی طاقت مجھے

۱۱۴

کہیں لب پہ وہ شکوۂ خوں چکاںکہ ٹپکا کرے جس سے آزار جاں

۱۱۵

کہیں وہ نگہ جس سے یہ پایئےکہ یہ درد دل ہے تو مر جایئے

۱۱۶

کہیں وہ روش جس سے نکلے عتابکہیں وہ طرح جس سے رہیے خراب

۱۱۷

کہیں حرف زن اس طرح ناز سےکہ دیکھا گیا دل کس انداز سے

۱۱۸

کہیں وہ ادا جس سے معلوم ہوکہ جیسے وہ عاشق کہ محروم ہو

۱۱۹

کہیں وہ سخن جو جگر خوں کرےکہیں طرز ایسی کہ مفتوں کرے

۱۲۰

کہیں وضع ایسی کہ بیگانہ ہےکہیں آشنا ہے تو دیوانہ ہے

۱۲۱

کسو جا ہے جلوے میں اس آن سےکہے تو کہ بیزار ہے جان سے

۱۲۲

کسو وقت اس کا یہ اسلوب ہےکہ شرم محبت سے محجوب ہے

۱۲۳

کبھو بے قراری ہے اس رنگ سےکہ پھرتی ہے سر مارتی سنگ سے

۱۲۴

کبھو بے ادائی و دشنام ہےکبھو باؤ کے ہاتھ پیغام ہے

۱۲۵

کہ اے بے وفا آہ دل نرم کرمحبت کے منھ سے بھی کچھ شرم کر

۱۲۶

کبھو وہ تبختر کہ پروا نہیںکبھو کیونکے کہیے کہ سودا نہیں

۱۲۷

کبھو یہ سخن جس سے ہو مستفادکہ اے بے وفا حرف من یاد باد

۱۲۸

کہ ظاہر میں میرؔ اب تو آنا گیاکہ وہ دوستی کا زمانہ گیا

۱۲۹

غرض ناامیدانہ کر اک نگاہوہ نقش توہم گیا سوے ماہ

۱۳۰

نہ آیا کبھو پھر نظر اس طرحنہ دیکھا اسے جلوہ گر اس طرح

۱۳۱

مگر گاہ سایہ سا مہتاب میںکبھو وہم سا عالم خواب میں

۱۳۲

دل خوپذیر وصال دوامرہے خواب میں روز و شب صبح و شام

۱۳۳

اگر وصل خواب فراموش تھاولیکن وہی خواب کا جوش تھا

۱۳۴

پلک سے پلک آشنا ہے وہیزخود رفتگی کی ادا ہے وہی

۱۳۵

کھڑا ہوں تو سوتا ہوں اک ذوق میںرگ خواب دل ہے کف شوق میں

۱۳۶

جو بیٹھا ہوں خواب گراں ہے مجھےوہ غفلت جہاں در جہاں ہے مجھے

۱۳۷

خیال اس کا آوے کہ سن ہو رہوںتلے سر کے پتھر رکھوں سو رہوں

۱۳۸

مجھے آپ کو یوں ہی کھوتے گئیجوانی تمام اپنی سوتے گئی

۱۳۹

دکھایا نہ اس مہ نے رو خواب میںنہ دیکھا پھر اس کو کبھو خواب میں

۱۴۰

بہت بے خود و بے خبر ہوچکاہم آغوش طالع بہت سوچکا

۱۴۱

نہ دیکھا کبھو میرؔ پھر وہ جمالوہ صحبت تھی گویا کہ خواب و خیال

۵۰۸ / ۵۸۲