کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در بیان ہولی
ہولی کھیلا آصف الدولہ وزیررنگ صحبت سے عجب ہیں خرد و پیر
جشن نوروزی اہل ہند سبہے یہی تب محو عشرت ہیں گے اب
شیشہ شیشہ رنگ صرف دوستاںصحن دولت خانہ رشک بوستاں
اس چمن میں باغ پر گل سرخ و زردنکہت گل جھاڑیں گے واں آکے گرد
پھول گل آویں نظر دیکھو جدھرلالہ و صدبرگ سب باغ نظر
دستہ دستہ رنگ میں بھیگے جواںجیسے گلدستہ تھے جوؤں پر رواں
زعفرانی رنگ سے رنگیں لباسعطرمالی سے سبھوں میں گل کی باس
رنگ افشانی سے پڑتی ہے پھوہاررنگ باراں تھا مگر ابر بہار
مرغ گلشن گل رخاں کو جان پھولبیٹھتے ہیں پاس آکر پھول پھول
قمقمے جو مارتے بھر کر گلالجس کے لگتا آن کر پھر منھ ہے لال
برگ گل ملواں اڑاتے تھے عبیرتھی ہوا میں گرد تا چرخ اثیر
روشن الدولہ نے کی تھی روشنیکب ہوئی تھی لیکن ایسی روشنی
وہ چراغاں گرچہ تھے درگاہ تکتھے تماشائی گدا و شاہ تک
راہ میں ترپولیے مینار تھےروشنی کے کوچہ و بازار تھے
گرم کچھ ہنگامہ یہ بھی کم نہ تھااس روش کی دھوم کا اودھم نہ تھا
اب تو ہفت اقلیم کا عالم ہے یاںدیکھو تو ہر جنس کا آدم ہے یاں
ٹٹیاں دریا کے باندھیں دو طرفکیا چراغاں آسماں کی ہو طرف
تھا جہاں تک آب دریا کا بہاؤواں تلک تھا اس چراغاں کا دکھاؤ
ایک عالم دیکھتا تھا دور سےرات دن تھی روشنی کے نور سے
کوچہ و بازار بام و در بنےروشنی کے دونوں رستے گھر بنے
سوانگ کیا کیا بن کے آئے درمیاںپیکھنے کا سوانگ تھا سارا جہاں
آئے کس کس رنگ سے دامن سوارباد کے رنگوں جنھوں کا تھا گذار
ہاتھی آئے کوہ پیکر کیا بنےجیسے مدھ ماتے جواں ہوں انمنے
کیسی کیسی دیکھیں شکلیں تازیاںسحر کرتے تھے کہ صورت بازیاں
ان دیوں کے عکس سے دریا کا آبآئینے کے سطح کی رکھتا تھا تاب
کشتیوں میں جو دیے بھر کر جلےپانی میں شعلوں کے ریلے ہی چلے
منعکس تھے جو چراغاں تہ تلکآب کی وسعت تھی بر نجم فلک
کیا ہوائی چھوٹنے کا ہے بیاںذو ذنب جیسے ستارے ہوں عیاں
جاہی جو ہی چھوڑنا ہے یاد بودروشنان ذو ذوانب تھے نمود
گنج چھوٹے ایک سے روشن تھے جھاڑدو طرف جس طرح سے جھڑتی ہے باڑ
اس روش سے تھے ستارے چھوٹتےناگہاں جو ہوویں تارے ٹوٹتے
دیکھے جاتے تھے چراغاں آب میںشعلے تھے لہروں کے پیچ و تاب میں
ہر دو جانب چن گئے ناری انارگل فشانی سے انھوں کی تھی بہار
ماہتابی اک طرف سے جو دغیچاند سا نکلا ہوئے حیراں سبھی
آفریں صناع لوگو آفریںکیا لگایا باغ آکر کاغذیں
گل کتر کر پھول گل ہی کردیےرنگ تازے کاغذوں میں بھر دیے
متصل توپیں ستاروں کی دغیںلوگوں کی آنکھیں فلک سے جا لگیں
دیکھیاں کیا کیا نہ شعلہ خیزیاںتھیں ہوا میں سے ستارہ ریزیاں
نذر کو نواب کی اہل فرنگلے کے آتش بازی آئے رنگ رنگ
عرصہ گل ریزی سے گلشن ہوگیاچرخ ان تاروں سے روشن ہوگیا
داغیاں توپیں ہوائی ایک بارپھیلے تارے آسماں پر بے شمار
کیا ہوائی باد میں لہرا گئیتاری سانپوں کے سے من پھیلا گئی
کیا ہی آتش دستیاں دے کر گئےشعلوں سے پانی کی لہریں بھر گئے
رحمت اے آتش زناں کیا لاگ ہےتہ بساط آب دریا آگ ہے
لکھ غزل اب میرؔ رنگیں تر کوئیسن کے ہو محظوظ جس کو ہر کوئی
غزل
لالہ کنار دریا نکلا ہے کیا زمیں سےاٹھتی نہیں ہیں آنکھیں دیکھو ادھر کہیں سے
بالیدگی سے پہنچے گل آدمی کے سر تکہو واں تو رنگ ٹپکے جیب اور آستیں سے
خوش رنگ تر ہے ہر گل رخسار سے پری کےصدبرگ واں طرف ہے خورشید کی جبیں سے
منھ پر عبیر عاشق اصرار سے ملے ہیںکب ہاتھ کھینچتے ہیں معشوق کی نہیں سے
صندل بھری جبیں سے کیا صبح چہرہ ہووےاس قطعۂ چمن کے محبوب خوش نشیں سے
یک سو گلال منھ پر خوباں کے مل رہے ہیںالجھے ہیں ہاتھ یک سو گیسوے نازنیں سے
جب میرؔ جان دینا بوسے کے بدلے ٹھہراتب خوف کیجیے کیا پیشانیوں کی چیں سے
۵۰۹ / ۵۸۲