کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در مدح نواب آصف الدولہ بہادر
ہوا کیے ہیں زبس شکوۂ فلک تحریرسیہ ہے کاغذ مشقی کے رنگ لوح ضمیر
کروں نہ شکر جفاہاے آسماں کیوں کرمری خرابی میں ان نے نہ کی کبھو تقصیر
دیا ہزاروں کو دست ان نے خانہ سازی کادل شکستہ کو میرے کیا نہ ٹک تعمیر
جو میں نے چاہا کہ جلد اپنا کام کریے تمامتو روسیاہ نے اس کام میں بھی کی تاخیر
سیا تھا چشم طمع کو میں اک سحر اس پرسو جام خون دیا ان نے جاے کاسۂ شیر
دماغ رفتہ شگفتن سے آشنا نہ ہواکہ اس چمن میں رکھا ان نے غنچۂ دل گیر
در قبول سے نومید پہنچی میری دعاپھرایا عرش سے نالے کو میرے بے تاثیر
نہ دیکھا صفحۂ عالم کو میں کہ ان نے رکھاہمیشہ اپنا ہی حیران کار جوں تصویر
براے یک لب ناں مجھ ضعیف کو ان نےہلال وار کیا سارے شہر میں تشہیر
فلک کے شکوے میں تھا میں کہ ہم نشیں بولاکہ اے جوان ستم کشتۂ سپہر پیر
غزل نہ لطف کی اک تونے میرؔ صاحب کیسنی نہ ہم نے کوئی آشیانہ سوز صفیر
یہ سن کے فکر نے کی مطلع غزل کی فکرفلک نے صفحۂ کاغذ پہ جو کیا تحریر
غزل (مطلع ثانی)
ہماری یار سے صحبت ہو کس طرح درگیرگرہ میں نالۂ آتش فشاں سو بے تاثیر
سمجھ کے زلف کے کوچہ میں پاؤں رکھیو نسیمکہ نکلی ہے یہیں سے راہ خانۂ زنجیر
ہزار قافلے یوں مصر سے چلے لیکنکیا نہ ایک نے کنعاں کی سمت کو شب گیر
کھلا نہ منھ پہ ہمارے کہ ہے زباں پر آہبہ رنگ خامۂ شنجرف خوں چکاں تقریر
جگر ہے رشک کی جا اس شکار کا تیرےکہ صیدگاہ میں پہلے ہی آگیا سرتیر
جہاں میں اہل جہاں کو ہو کشمکش بن کیاکہ ایک تنگ قفس اور جس میں اتنے اسیر
سفر ہے دور کا درپیش آ ٹک آئینہ روکہ زاد راہ عدم ہو نگاہ وقت اخیر
نہیں تو دیر محبت کی رسم سے آگاہکرے ہیں کعبے کے سکاں کی بھی یہاں تکفیر
تمام نالہ ہوں اس بن مگرکہ روز نخستکیا تھا تن کا مرے سودۂ جگر سے خمیر
غزل کو سن کے کہا ہم نشیں نے تجھ سا شخصبجا ہو خاک ہو گر پیش آستان وزیر
وہ آستانہ کہ گویا ہے راستوں کی جبیںکرے ہے سجدہ جسے آن کر صغیر و کبیر
شرف ہے جس سے یہ اس آستاں کو کیسا ہےوزیر کہیے کہ فرماں روا ہے کوئی امیر
غرض جلیس سے شب کو کہ غم شریک جو تھایہ سن کے اے گنہ آمرز اور عذرپذیر
مطلع ثالث
خلل پذیر ہوا ہے دماغ خامۂ میرؔکہ تیری مدح میں کھولا زباں کو کر تقصیر
تمام قدرت و آصف صفت سلیماں جاہسوار دولت و گنجینہ بخش و دشمن گیر
فلک شکوہ و ستارہ حشم خدیو جہاںترے جلال کو کن لفظوں میں کروں تعبیر
زہے یہ حشمت و جاہ و جلال و قدرت و زورکہ تیرے حکم کے آگے ہے سہل امر خطیر
ترے محرر دفتر کا ہے سدا محتاججہاں میں شہرہ عطارد جو ہے فلک کا دبیر
زہے علوے مراتب کہ در پہ بار نہ پائےہزار بار اگر چرخ مارے چرخ اثیر
شریک مشورۂ کارخانۂ عالم
کیا ہے تجھ کو قضا و قدر ہیں تیرے مشیررواں ہو صبح کا گر مرکب ظفرپیکر
تو تابہ شام کرے روم و شام تک تسخیرکف سخا کی تری ریزش کرم کے حضور
گیا ہے قطرہ زناں شرمگیں ہو ابر مطیرہمم کو تیری بیاں کیا کروں کہ اے ممدوح
ہوئے ہیں خلق ترے بخشنے کو تاج و سریرکروں میں عرض سو کیا ہفت گنج خسرو کو
کہ تیرے بخش دیے کے نہیں ہیں عشر عشیرلکھوں سو کیا ترے خدام کی سخاوت کو
نہ پاوے وقت دہش رتبۂ قلیل و کثیرثبات حرف کو تیرے قلم کی کیا لکھیے
کہے تو خامۂ فولاد سے کیا تحریربرات روزی کسو کی شرف کو دستخط کے
پہنچتی ہے تو نہیں مٹتی جوں خط تقدیرنہیں ہے شہر میں نام و نشان منہیات
رہی ہے نے کوئی جنگل میں سو براے حصیرمزاج رفع پہ بدعت کے ہو تو پھر نہ اٹھے
صداے نے کا تو کیا ذکر ہے قلم کی صریرنسق کو کام تو فرماوے ایک آن اگر
تو پھر زمانہ قیامت تلک نہ پاوے تغیرگیا ہے شور ترے عدل کا جو گردوں تک
کتاں سے آنکھ جھپکتا رہے ہے بدر منیربغیر غمزۂ خوباں رہا نہیں اب ایک
جہاں کے پردے پہ اوباش خانہ جنگ و شریرجو چاہے تو کہ رہے فرش چاندنی دن کو
اٹھا کے تہ کرے پردے ظلام کے شب قیرکرے ہے قطع امید آپ سے ووہیں دشمن
سنے ہے مجھ سے تری جب کہ صولت شمشیرجو نکلے میان سے تو نامۂ فنا کہیے
کہ پہنچے جس کو اسے مٹنے سے نہیں ہے گزیررہے تو زخم لگا اس کا بہ نہ ہووے مگر
فلک زمیں سے ملے تب ہو اندمال پذیرنہیں ہے فیل کہ زربفت پوش کوہ ہے وہ
کروں شکوہ کو اس کے سو کس روش تسطیررواں رکاب میں ہے آسمان زر گویا
ستارے جھول کے ایک ایک آفتاب نظیرکمیت خامہ مرے ہاتھ کی ہے ران تلے
صفت کروں میں سمند وزیر کی تحریرکسو کی آنکھ نہ پڑ سکتی تھی چھلاوے میں
پھرے تھا سطح زمیں پر وہ یوں سپہرمسیرنظر جو ایک مصور کی آگیا جاتے
یہ ان نے ریجھ کے چاہا کہ کھینچئے تصویرخیال دور سے دوڑا کے رہ گیا آخر
ہوا نہ گرد میں گردا بھی اس کا شکل پذیرسن اس قماش کی مدحت کو مت سمجھیو یہ
کہ ہے غرض خز و دیبا و پرنیان و حریرغرض یہ ہے کہ تری خاک آستان زہے
کہ اس کے رتبے کو ہرگز نہ پہنچے پھر اکسیروہ آستاں کہ گدا و غنی کا ہے مسجود
بقیہ عمر کرے صرف اس پہ یہ بھی فقیرہمیشہ ساتھ ترے دوستوں کے ہو اقبالترے عدو کی سدا مدبری کرے تدبیر
۵۱۰ / ۵۸۲