کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در مدح نواب آصف الدولہ بہادر
رات کو مطلق نہ تھی یاں جی کو تابآشنا ہوتا نہ تھا آنکھوں سے خواب
لوٹتا تھا سوز غم سے آگ میںدل جگر سکتے تھے دونوں جوں کباب
ہر زماں تھی ساتھ اپنے گفتگوکیا کروں شہر اور میں دونوں خراب
تھا کرم شیوہ جنھوں کا اٹھ گئےبیٹھے بیٹھے کھینچئے کب تک عذاب
جایئے کس کے در اوپر کون ہےملیے کس سے کون ملنے کا ہے باب
لے جوانی سے پھرے پیری تلکامتحاں میں آگئے سب شیخ و شاب
ناگہاں مجھ سے لگا کہنے سروشرہگذر سے لطف کی کر کر خطاب
ہے کریم اب بھی وزیر ابن وزیرآصف الدولہ فلک قدر و جناب
آسماں رتبہ ہے جس کا آستاںناز کر طالع پہ جو ہو باریاب
اس کی ہمت سے سخن کیا سر کروںبات کہتے دے در و یاقوت ناب
اس کے دست و دل کے رشک و شرم سےخون ہے دل کان کا دریا ہے آب
جم حشم انجم سپہ گردوں شکوہمرجع خرد و کلاں عالم مآب
دست ہمت اس کا گر دربار ہوپانی پانی شرم سے ہووے سحاب
مال کیا ہے ہفت گنج خسرویاک ہی کو نواب بخشے ہے شتاب
فخر سام و رستم اس کی بندگیداخل خدام یاں افراسیاب
جس سحر جرأت سے کھینچی ان نے تیغڈھال رکھے منھ پہ نکلا آفتاب
رزم کے عرصے میں ہلچل پڑ گئیآسماں کے خیمے کی کانپی طناب
مدعی گر کوہ تھا مارا اکھاڑور زمیں تھا بے سکوں پایا شتاب
خرمن آسا جل گیا انبوہ خصمچل پڑی جو اس کی تیغ برق تاب
دیو تھے گو معرکے میں بے شمارایک ٹھہرا ہو مقابل کیا حساب
زین رکھا جائے مرکب پر اگرراجا پرجا آن کر دابیں رکاب
زلزلہ پڑ جائے سارے ملک میںملک داروں سے کہیں ہاں سرحساب
مطلع ثانی کی اب مائل ہے طبعکفر ہے حرف و سخن سے اجتناب
مطلع ثانی
اے ترے ڈر سے جگر شیروں کے آبدشمنوں کو روبہانہ اضطراب
مدعی کی صف ہے کونجوں کی قطارلشکری اس فوج کا ہر اک عقاب
موج زن جیدھر ہو وہ دریاے فوجبستیاں اس سمت کی جیسے حباب
گرد اس لشکر کی گر ہووے بلندپھر زمین و آسماں میں ہے حجاب
جاوے دشمن جوں سگ پاسوختہوقت گرگ و میش لے منھ پر نقاب
داوری و منصفی سن دلبراںچھوڑ دیں عشاق پر کرنا عتاب
رفع بدعت چاہے تو پھر کیا مجالاٹھ سکے جو نغمۂ چنگ و رباب
منع مے ہووے تو پھر قدرت ہے کیاجو گلے سے شیشے کے اترے شراب
بحر کیا ہے جو کرے تہ سے سوالکوہ تیرے حلم کا کیا دے جواب
خوبیاں ہی خوبیاں سر تا قدمتب کیا صانع نے تجھ کو انتخاب
لطف طبع صاحب مجلس کہوںیا لکھوں پاکیزہ اس صحبت کا داب
نکلی مستعمل نہایت ورنہ شبچاندنی کی جاے بچھتی ماہتاب
گر نہ ہو ممدوح علم ظاہریپر نہیں ہوتی ہے یہ رائے صواب
جو کہے تو چاہیے وہ لکھ رکھیںحرف ہر یک تیرے منھ کا ہے کتاب
کر دعا پر میرؔ اب ختم سخنتو کہے جو کچھ کرے حق مستجاب
زیردست اس کے رہیں گردن کشاںتا قیامت وہ رہے مالک رقاب
دوست اس کے جوش زن جیسے محیطخاک بر سر مدعی جیسے سراب
۵۱۱ / ۵۸۲