کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ

۱

اک شب کیا تھا یار تری زلف کا خیالاب تک ہے دشمنی میں مری میرا بال بال

۲

میں مر گیا فراق میں پر اب یہ کیا ہے ظلمجیتی گڑی ہے ساتھ مرے حسرت وصال

۳

جنبش ہوئی مژہ کو ادھر گر گئی سناںابرو ہلے ترے کہ ادھر کٹ گیا ہلال

۴

آیا ہے یاد قیس بہت اب کہ ہوں بتنگاس کے بھلاوے مجھ کو نہیں چھوڑتے غزال

۵

خوش وقت ٹک تو ہوں پہ کہیں کا نہیں ہوں پھرآزردہ ہوئے مجھ سے اگر خاطر ملال

۶

رنگ اڑ گیا تبھی کہ ہوا تجھ سے چہرہ گلرکھے ہے اب نسیم کی سیلی سے منھ کو لال

۷

دوزخ ہے میرے شرم گنہ کے عرق میں غرقلیکن نہیں ہنوز مجھے ٹک بھی انفعال

۸

خوش قامتی کو آہ کے کب پہنچتا ہے سروہے یہ تو باغ رنگ شکستہ کا نونہال

۹

حیرت بساہی جان کو اپنی تمام عمرٹک چشم آئینہ نے ترا دیکھ کر جمال

۱۰

یک روز بے نقاب ہوا تھا تو صبح کواب تک ہے آفتاب جہاں تاب پر زوال

۱۱

تھی سیر تیرے کوچے میں عشاق کی معاشکتنے شکستہ دل تھے بہت تھے خراب حال

۱۲

جتنے غرض تھے سب کو یقیں تھا کہ مرچکےکوئی نہ تھا کہ جس کو ہو جینے کا احتمال

۱۳

کب تک صفت بتوں کی خدا سے تو خوف کراے طبع رہ نہ اتنی بھی پابند خط و خال

۱۴

پڑھ منقبت یہ شاہ کی جس سے نجات ہووہ شاہ جس کے ایک گدا کو ہے یہ کمال

۱۵

بخشش سے جس کی حرف طلب محو ہوگیاکم اس کے وقت میں ہے بہت نوبت سوال

۱۶

ہے معن اس کے مطبخ عالی کا کاسہ لیسدستارخواں کا اس کے ہے حاتم اک آشمال

۱۷

آوے اگر عطا و کرم پر وہ ایک دمخسرو کے ہفت گنج تو پھر کیا ہیں چیز مال

۱۸

کہتا ہوں اب میں مطلع ثانی کہ ہوں بتنگوسعت رکھے ہے بس کہ یہ میدان قیل و قال

مطلع ثانی

۱۹

اے نائب مصاحب دادار بے ہمالوے مشورت شریک خداوند لایزال

۲۰

تو ہے کہ تیرے عدل کی نظم و نسق کو سناٹھ جائے دفعتہ ہی مزاجوں سے اختلال

۲۱

چاہے خدانخواستہ اس کا اگر تو رغمتو منحرف مقام سے ہو خط اعتدال

۲۲

شاہا ترا غلام ہو ایک اور اک طرفسنگیں ہو فوج دشمن اگر کوہ کی مثال

۲۳

تیر و کماں کو ہاتھ میں لے جب ہو سامنےہے اس کو اپنے زور شجاعت سے یہ کمال

۲۴

جس دم کہ زور بازو سے آکر لگاوے تیرپھوٹیں دوسار ہوویں اگر آہنیں جبال

۲۵

چٹکی سے اس کی ہو کے جدا تیر پر لگائےجو اس کے سامنے ہو اسے اڑ کے لاگے بھال

۲۶

اٹکل سے جس کے سینے میں مارے ہو تیرتخشمنھ دیکھو مدعی جو رکھے اپنے تیں سنبھال

۲۷

پشت عدو کی اور ہو پیکان یوں نمودجیسے کہ سانپ بیٹھے ہے بانبی سے سر نکال

۲۸

بالفرض اس پہ چوٹ کرے آکے مدعیخالی دے اس کے وار کو دیوے زمیں پہ ڈال

۲۹

اس جھوک ہی میں ہاتھ مع تیغ ٹوٹ جائےگردن کٹادے مفت گرے بس کہ ہو نڈھال

۳۰

سنتے تھے وہ مثل سو یہیں ہوتی ہے درستدست شکستہ اپنی ہی گردن کا ہے وبال

۳۱

جو کوہ آہنیں ہوں ترے مدعی شہاتنہا ترا غلام لے تلوار اور ڈھال

۳۲

دو ہاتھ ایسے گڑ کے کرے سب کو دے اکھاڑمارے زمیں پہ جس کو پکڑ کر کمر دوال

۳۳

ٹھہرے ورے پرے تو نہایت غریب ہےتحت الثریٰ سے گر نہ پرے جائے بدسگال

۳۴

یوں دیکھ ایک دو کو کنارہ کرے شتابمیدان کارزار سے رستم بہ رنگ زال

۳۵

شیر فلک کو راہ بھلا دیوے وہ دھمکاس زلزلے میں گاو زمیں سیکھ جائے چال

۳۶

من بعد اور باقی رہیں جتنے کشتنیکر جمع ان کو زور شجاعت سے پیل پال

۳۷

تلوار لے پھرے وہ تو پھر جائے روزگارنعرہ کرے تو تن سے کرے روح انتقال

۳۸

اہل سلاح ترس سے گر گر پڑیں بہتجتنوں کے ہو گلے میں زرہ ان کا ہو یہ حال

۳۹

نعرے سے اس کے لیویں بہت یوں رہ گریزبھاگے ہیں جیسے شیر کی آوازسے شغال

۴۰

حصہ رسد کوئی ہو وہ رکھ جائے ایک تیغگذرے نہ ایک دم بھی کہ قضیہ ہے انفصال

۴۱

زخم اس کے ہاتھ کا جو لگے بہ نہ ہو کبھیمٹ جائے کائنات مگر تب ہو اندمال

۴۲

تر ہوگئی ہے بس کہ لہو میں گل زمیںگر خشک ہووے خاک کہیں بعد ماہ و سال

۴۳

ہو پھر گذار باد صبا سے یہ واں کا رنگاڑتا ہے جیسے ہولی کے ایام میں گلال

۴۴

میلان طبع مطلع ثالث کی اور ہےتا خیر پر قصیدۂ غرا کا ہو مآل

مطلع ثالث

۴۵

لائق تری صفت کے صفت میری ہے محالآشفتہ طبع شاعر خستہ کی کیا مجال

۴۶

تو وہ در مدینۂ علم علیم ہےجس شخص کو نہ آوے الف بے تے دال ذال

۴۷

آوے تری جناب مقدس میں ایک دمکرتے ہیں واں تو وقف سبھی طرز کے مقال

۴۸

عالم ہو اس قدر کہ بیاں کیا کرے کوئیپھر بحث اس سے عقل فلاطون پر ہے دال

۴۹

لیتے ہیں تیرے در سے گدا پوست تخت فقرپاتے ہیں تیرے در سے شہا مکنت و جلال

۵۰

جب تک جیوں میں دل میں مرے آرزو ہے یہہوں سر سے تیرے زائر درگہ کا پائمال

۵۱

پھر بعد مرگ حوض پہ کوثر کے یا علیؓجاگہ مری ہو حشر کی تیری صف نعال

۵۲

جب ہوں میں گرم راہ ترے سائے میں شہاہوجائے سرد آتش دوزخ کی اشتعال

۵۳

جب تک جیے گا محو ثنا ہی رہے گا میرؔہے تیری منقبت سے نپٹ اس کو اشتغال

۵۴

ہوئے حرام تیرے محبوں کو درد و غمشمشیر دوستاں پہ ہو خون عدو حلال

۵۱۲ / ۵۸۲