کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در ہجو نااہل مسمیٰ بہ زبان زد عالم

۱

سنیو اے اہل سخن بعد از سلامچھیڑتا ہے مجھ کو اک تخم حرام

۲

پر نہیں مرغی کا گرم طیر ہےوہم میں شہباز کا ہم سیر ہے

۳

کام مجھ کو کچھ نہیں ہے اور سےبلکہ اس بھی طرز سے اس طور سے

۴

شاعری کو میری ہوگے جانتےتم چنانچہ سب مجھے ہو مانتے

۵

میں ہمیشہ سے رہا ہوں باوقارکن دنوں تھا ہجو کا کرنا شعار

۶

گر کنھوں نے کچھ کہا میں چپ رہاہجو اس کی ہوگئی اس کا کہا

۷

کیا ہوا گر چاند پر پھینکے ہیں خاکپڑتی ہے ان سب کے منھ پر میں ہوں پاک

۸

رہیو شاہد کچھ نہیں میرا گناہمدعی بے ہیچ ہے یہ روسیاہ

۹

تھا تحمل مجھ کو میں درویش تھادردمند و عاشق و دل ریش تھا

۱۰

پر کروں کیا لاعلاجی سی ہے ابغصے کے مارے چڑھی ہے مجھ کو تب

۱۱

ایسے کتنے ہیں جو اب شاعر بنےمدتوں یہ لونڈے آئے مجھ کنے

۱۲

ایک باتوں سے مری آدم ہوااک نظر سے شہرۂ عالم ہوا

۱۳

ایک نے دیواں کی میرے نقل لیاس دوانے کی کنھوں نے عقل لی

۱۴

ایک میرے طرز پر کہنے لگادوسرا پیرو مرا رہنے لگا

۱۵

سارے عالم میں ہوں میں چھایا ہوامستند ہے میرا فرمایا ہوا

۱۶

دور سے کرتا ہوں بیٹھا سب کی دیدکوئی سر کھینچو ہے میرا مستفید

۱۷

کوئی بے تہ گو نہ جانے میری قدرپائیں ہے پائین آخر صدر صدر

۱۸

ہے گی شخصیت خدا کی اور سےہاتھ کب آوے بزرگی زور سے

۱۹

ایک لچا دے جو اک عمدہ کو بھوگتو اسے کیا کچھ طرف جانیں گے لوگ

۲۰

جو بڑے ہیں وے ہی آخر ہیں بڑےایسے لچے بہت پھرتے ہیں پڑے

۲۱

شہر میں آیا میں بعد از بست سالگم تھا یاں سررشتۂ قال و مقال

۲۲

کسب جو کرتے تھے یہ فن شریفان میں سے کوئی نہ تھا میرا حریف

۲۳

کتنے اک نو مشق تھے گرم سخنسو بچارے آپھی ناآگاہ فن

۲۴

مدعی میرا ہوا یہ بے ہنرمردۂ صدسال سا بے نور تر

۲۵

کاسہ لیس و مایۂ خبث و حسودقلیۂ دہ روز سے بھی بدنمود

۲۶

آتے اچھا ہے جو اس کو روک دوورنہ منھ دیکھو تو ووہیں اوک دو

۲۷

باپ اس کا سخت ناداں نادرستکوڑے کی سی گندی بلی قاق و سست

۲۸

ایک جا آیا شترقد گھر گیاواں شتر غمزہ سا مجھ سے کر گیا

۲۹

رہ گیا میں پی کے لوہو کا سا گھونٹیعنی دیکھوں بیٹھے ہے کس کل یہ اونٹ

۳۰

اس تحمل پر نہ کی مطلق نظرخار پہلو کا ہوا ہر جا لچر

۳۱

جب لگا ہے ناچنے مستی سے خوبتب لیا میں نے قلم کے زیر چوب

۳۲

مستی اس کی ساری اب جھڑ جائے گیدھوم ساری گلیوں میں پڑ جائے گی

۳۳

جب بڑوں سے مار ناہموار کھائیںکج خرامی سے تب اپنی باز آئیں

۳۴

راہ سیدھا ہو کے چلتا ہے بلےاونٹ جب آیا پہاڑوں کے تلے

۳۵

اونٹ کی خلقت پہ ہے قدرت کو نازاس کی خلقت کم ہے کیا اے بے نیاز

۳۶

ہیئت اس کی مضحکہ ہے سوانگ ہےجید عوج ابن عنق کی ٹانگ ہے

۳۷

سر کے تیں اس کے جو دیکھوں کر نگاہبانس پر اک اوندھی ہانڈی ہے سیاہ

۳۸

تیرہ رو مضحک سراپا زور ہےدم اگر ہووے تو پھر لنگور ہے

۳۹

شکل و صورت دیکھ کر حیراں رہوبے گماں سب مل کے لگ لگ ہی کہو

۴۰

بیٹھے تو بیٹھا ہے گویا بوتیمارآتے جاتے جاویں اس کو جوتی مار

۴۱

چال جب چلنے لگے سر جھاڑ کرپاؤں کو پہلے رکھے منھ پھاڑ کر

۴۲

بال و پر رکھتا نہیں بے پا و سرورنہ تھا یہ بھی عجائب جانور

۴۳

ایک دن بیٹھے تھے یاں ذات شریفوارد اس دن ہوگئے کتنے ظریف

۴۴

ایک بولا دیکھ کر حیران ہویہ جزائر کا کوئی حیوان ہو

۴۵

یاں تو ایسا جانور دیکھا نہیںسر کہیں ہے پاؤں اس کے ہیں کہیں

۴۶

ایک کے آیا مکوڑا وہم میںایک کے مور سواری فہم میں

۴۷

ایک نے ہنس کر دیا اس کو ڈھکیلاور بولا اے تری قدرت کے کھیل

۴۸

کیسا اعجوبہ نیا پہنچا ہے یاںچونچ ہو تو ہے شتر مرغ کلاں

۴۹

ایک بولا کرکے چشمک میری اورواہ صاحب جانور پالا ہے زور

۵۰

ایک دن باہر تو ہو لے کر کھڑےیہ اچنبھے یوں نہیں رہتے پڑے

۵۱

جائے اس وحشی کا ٹک وسواس بھیچوک بھی ہے پاس یہ نسناس بھی

۵۲

اس کو یاروں نے غرض کیا کیا کہالیک یہ خر نامشخص ہی رہا

۵۳

یہ جو ہے موشک دوان و شور چشمموش دشتی چہرہ و شب کور چشم

۵۴

بے سبب سرگرم کیں پیہم ہوامستحق لعنت عالم ہوا

۵۵

چل قلم اب ہے ارادہ جنگ کاپاس کب تک کیجے نام و ننگ کا

۵۶

یاں زبردستوں کو دعویٰ کھا گیایہ چھپارستم کہاں سے آگیا

۵۷

ناقباحت فہم کو دعویٰ پڑاہو کے تنکا سا پہاڑوں سے اڑا

۵۸

ہاتھی کی ٹکر کو ہاتھی ہی اٹھائےچیونٹی کا کیا جگر جو منھ پر آئے

۵۹

جنگ ہاتھی کی ہو گو اس کو ہوسپر اسے ہے موت کا ریلا ہی بس

۶۰

ایک دھکے میں کہاں وہ کامنیپودنے کی سی ہے اس کی ضامنی

۶۱

میں نے پاس اس کا کیا حد سے زیادپر کمی کرتا ہے یہ ابن زیاد

۶۲

قبلہ کہتے کہتے ہاجی ہوگیاپاس ظاہر چھوڑ پاجی ہوگیا

۶۳

رشک شہرت سے مرے مرنے لگامیری عزت کا حسد کرنے لگا

۶۴

لگ گئی چپ اس کو میرے شور سےیہ نہ سمجھا ہے خدا کی اور سے

۶۵

یہ قبول خاطر و لطف سخندے ہے کب سب کو خداے ذوالمنن

۶۶

ایک دو ہی ہوتے ہیں خوش طرز و طوراب چنانچہ میرؔ و مرزاؔ کا ہے دور

۶۷

خصمی وہ کریے کہ ہو معقول خلقنے انھوں سے جو کہ ہوں مقبول خلق

۶۸

دشمنی تھی اس کو مجھ سے کیا ضرورحیف ایسی عقل لعنت یہ شعور

۶۹

ہوں جو میں پرتوفگن تو ہے یہ کیاخور کے آگے ذرہ کب ٹھہرا رہا

۷۰

خون دل آشام ہیں جو صبح و شاموے بھی لیتے ہیں ادب سے میرا نام

۷۱

یہ مری رہ کا نہ حائل ہوسکےیہ موئی جوں کیا مقابل ہوسکے

۷۲

میں نے الٹی اجگروں کی دم میں صفادھ موئی سی چھپکلی کیا ہو طرف

۷۳

رکھتی ہے میری شرافت اشتہارگو یہ ناسید کہے ہے کیا چمار

۷۴

ہجو کی جو ان نے میں کیا دب گیابھونکنے پر سگ کے ہاتھی کب گیا

۷۵

ننگ ہے میری توجہ اس طرفحیف ہے میلان دریا سوے کف

۷۶

دار و دستہ سے ہے اس کے مجھ کو شرمتب تو میں باتیں کروں ہوں نرم نرم

۷۷

ان عزیزوں کا نہایت پاس ہےورنہ یہ ملعون کیا کناس ہے

۷۸

جو نہ سمجھا تیغ خامے کی ہے پاسکاٹوں گا یوں جس طرح کٹتی ہے گھاس

۷۹

جب سے لے آیا قدم اپنا یہ شومتب سے ویراں ہوگئی یہ مرزبوم

۸۰

ایک بدیمنی ہی ہے گی بوم میںلطف وہ پاتے ہیں ہم اس شوم میں

۸۱

دیدنی ہے قدرت رب ودودایسی اچرج کم ہی ہوتی ہے نمود

۸۲

کیا کمی ہے یہ جو عزت کم کرےگو نہ شیطاں سجدۂ آدم کرے

۸۳

کرتی ہے تعظیم میری کائناتلعنت اس پر ہوتی ہے دن اور رات

۸۴

یا بلا ہے یہ سمج خایہ گزکمیرے دتکارے گئے جھٹ سے دبک

۸۵

میری ہیبت سے نکل جاتا ہے موتدشمنی کی ان نے اپنی ماں کی چوت

۸۶

بیت کہنا چاہتا ہے سو ہنرشاعری سمجھا تھا کیا خالہ کا گھر

۸۷

نامبارک ہی نہیں سادہ بھی ہےالو ہے اور الو کی مادہ بھی ہے

۸۸

عقل سے کس طرح ہووے بہرہ ورہے کسو حافظ کا نطفہ پاچہ خر

۸۹

پر وہ حافظ جو ہو قرآں خوان قبراس سے لیں کار تلاوت گو بہ جبر

۹۰

جھڑ گیا ہووے دماغ اس کا تمامپڑھتے پڑھتے شور سے ہر صبح و شام

۹۱

وہ خرف جورو سے جا یکجا ہواایسا الو ماخرا پیدا ہوا

۹۲

دیکھ کر ان کی خرامی پاے سروایک کوے نے کی تقلید تدرو

۹۳

کود کر چلنے لگا آخر کو راہاپنی بھی رفتار بھولا رو سیاہ

۹۴

کاشکے ہوویں مخدر شیخ و شابپھٹے سے منھ جو پکارے کا ہے باب

۹۵

گوکہ یہ لچپن کرے کیا مال ہےآگے میرے جھانٹ کا سا بال ہے

۹۶

چاہوں گا جب پھینک ہی دوں گا اکھاڑایسی پشمیں سیکڑوں ڈالی ہیں جھاڑ

۹۷

بدنمائی اس کی ہے بے ساختہکیا ہے یاں میش بچہ انداختہ

۹۸

دیکھ اسے یاد آوے قدرت کاملہکیا بلا ہے مادہ خوک حاملہ

۹۹

گرگ گردن خوک چشم و غوک سرغول صحرائی کا بچہ ہے مگر

۱۰۰

چار سکھیاں کہہ کے شاعر ہوگیااس فن مشکل کا ماہر ہوگیا

۱۰۱

باپ کو ان نے بنا رکھا ہے اوتہیں کہاں ایسے سعادت مند پوت

۱۰۲

کم ہوا ہے گا جو اس کا زور پاجانتا ہے اس کو پیری کا عصا

۱۰۳

کچھ نہیں معلوم اس کو سر کارتب تو ٹھہرایا ہے اس کو رازدار

۱۰۴

اس زنازادے نے جو لب وا کیاپہلے ماں کا راز ہی رسوا کیا

۱۰۵

ایک دن سب کے تئیں جلوا دیےیار ماں کے باپ کو دکھلا دیے

۱۰۶

پھر حقیقی باپ سے جاکر ملااس مجازی کا کیا اس سے گلہ

۱۰۷

پیسے اس کے کھاکے جب کٹا ہوایاں کسی تقریب آ پیدا ہوا

۱۰۸

تب سے روز و شب اسی کے ساتھ ہےاس خرف کی ڈاڑھی اس کے ہاتھ ہے

۱۰۹

بس قلم نفریں ہے میری بس اسےہے دماغ بحث پاجی اب کسے

۱۱۰

رکھ زباں کیدھر گیا تیرا مزاجپوچ گو بہتیرے پھرتے ہیں پواج

۵۲۳ / ۵۸۲