کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در ہجو عاقل نام، ناکسے کہ بہ سگاں انسے تمام داشت
اک جو لچر کو رزق کی وسعت سی ہوگئیتنگی کی حوصلے نے تو رجعت سی ہوگئی
کتوں کے ساتھ کھانے لگا کتوں سے معاشچچڑی کی طرح شام و سحر کتوں کی تلاش
پاکیزگی طبع و لطافت وہ برطرفکتا بغل میں مارے لگا پھرنے ہر طرف
دتکارو کتے کو تو لہو اپنا وہ پیےہے اس کی استخواں شکنی کتوں کے لیے
یا جھوٹے ہاتھ کتے کو مارا نہ تھا کبھییا کتوں سے چٹایا ہے اب اپنے منھ کو بھی
آیا جو ایک روز وہ بے تہ چلا ہواکتا ازار اس کے سے نکلا بندھا ہوا
یک سگ گزیدہ کی سی طرح جھومنے لگاپھر کھول اس کے منھ کے تئیں چومنے لگا
ایسی بھی ہم نے دیکھی نہیں کتوں کی ہوسگردن میں اپنے ڈالے پھرے روز و شب مرس
ٹکڑا ہوجس کے ہاتھ میں یہ اس کا یار ہےجیسے سگ سراے سگ ہر سوار ہے
کتوں کی جستجو میں ہوا روڑا باٹ کادھوبی کا کتا ہے کہ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا
تھکتا ہے پھر جو کرتے ہوئے دوڑ اور دھپاڑلیتا ہے بے دماغ ہو لوگوں کے کپڑے پھاڑ
جو ہڈیوں پہ لڑتا رہا ہو بسان سگہو آدمیت اس کو بھلا کس مقام لگ
انساں کو انس کتے سے اتنا ہوا ہے کبناپاک اس کو جانے ہیں پاکیزہ لوگ سب
اصحاب کہف کا بھی جو سگ ہو تو ہے وہ سگنجم الدیں کے بھی کتے کو کتا کہے ہے جگ
کر سگ تخلص اپنا جو آیا بروے کاراکراہ سگ لوند سے کرنے لگا دیار
رہتے نہیں نفور تو سگ بان بے شعورکھاتے میں وہ بھی کہتے ہیں کتے کو دور دور
کیا جانیے کہ یہ گہہ سگ کیا متاع ہےبازار میں جو دیکھے ہے سگ کو سماع ہے
آدم گری اڑا رکھی حرف و سخن گیادیکھا جو خوب تو سگ دیوانہ بن گیا
دم لابہ جو دبے تو لگے کرنے بدخصالدوڑے وگرنہ کاٹنے کو کتے کی مثال
کم بخت یک غریب جو مردہ سا پائے یہمرگھٹ کے کتے کی سی طرح پھاڑ کھائے یہ
ور مدعی ہو ٹک بھی قوی دل قوی نصیبپھر آگے اس کے سوکھی سی بلی ہے یہ غریب
رہتا ہے سخت شیفتہ کتوں کے بال کاپلا یہ ہے کہے تو کسی کتے وال کا
کتوں کی لے کے زرد و سیاہ و سپید پشمکس کس طرح سے دیکھتا ہے داب داب چشم
کتوں کے شوق میں جو یہ آتش ہے زیر پاکہنا ہے اس کو اب سگ پاسوختہ بجا
اس کی پلیدی شہرۂ ہر شہر ہی رہیکتے کے کاٹے کی سی اسے لہر ہی رہی
دلی میں تین کتیاں کہیں لے کے پالیاںہمسایوں کی جنھوں کے لیے کھائیں گالیاں
وہ مرگئیں تو دیر رہا روتا غم زدہپشتی کے پیچھے پھر نہ ہنسا ٹک ستم زدہ
لونگی کا گرم غم جو رہا سوکھ نخ ہوابرفی کی تعزیت میں سگ روے یخ ہوا
بلی جو پالتا تو بھلا ایک بات تھیآئیں میں اس کی دوستی ایماں کے ساتھ تھی
توراں کے لوگ ہوویں کہ ہوں اہل اصفہاںکتا تو کشتنی ہے سب اسلامیوں کے ہاں
جس کو خدا خراب کرے پھر وہ کیا کرےکیوں کر زباں نکالے نہ جوں سگ پھرا کرے
آواز دے دے کتوں کو توڑے ہے اپنی جانمر جائے گا یہ بھونکتے ہی بھونکتے ندان
ہے بسکہ سگ پرست مرے گا جو یہ دنیتوشے میں اس کے ہوگا نہ کچھ غیر سگ کنی
کتوں کے پیچھے پھرتا ہے گلیوں میں ڈور ہویہ سب ہے اس لیے کہ ہر اک جاے شور ہو
اس وضع ساختہ کے ہوں احمق فریفتہبہرہ ہے جن کو عقل سے وے کیوں ہوں شیفتہ
ہے اس طرح کے معرکہ گیروں سے پر جہاںبہتیرے ایسے کتے نچاتے پھرے ہیں یاں
۵۲۴ / ۵۸۲