کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در ہجو شخصے ہیچمداں کہ دعواے ہمہ دانی داشت

۱

اس چرخ بے مدار کے کیا کیا کروں گلےمیرے جگر میں جیسے ستارے ہیں آبلے

۲

تنکا سا ان نے جور و جفا کر سکھا دیاپھر تس پہ میرے رونے نے مجھ کو بہا دیا

۳

اس مجمع کمال کے گھر لے گیا بہ زورجس کو تمام فنوں میں گویاکہ تھا عبور

۴

توحید گر کہے تو وہ حق حق بہت کرےایسا بکے کہ بات تصوف میں ڈال دے

۵

مصروف علم صرف کا تھا ایک اس سے حرفپوچھو جو اسم آلہ سے تو بول اٹھے کہ ظرف

۶

یہ سن کے تم ہنسو ہو تو وہ روکے ایک بارکہنے لگے کہ اپنا یہ صیغہ نہیں ہے یار

۷

کرتا ہو بحث نحو میں جس دم وہ مارگیرہر نحو کا ہے لفظ فقط حرف بارگیر

۸

موضوع اپنا جانتا منطق کو تس اپرمحمول ابتدا ہی کو کہتا تھا بے خبر

۹

وصف حذاقت اس کا بیاں کیجیے تو کیاتجویز کرتا دیکھ کے مبطون کو سنا

۱۰

فن بیاں میں کیسا ہے تشبیہ کس سے دوںعالم کنایہ اس سے کیا ہے میں کیا کہوں

۱۱

پوچھو مجاز کی جو حقیقت ہو لاعلاجکہنے لگے کہ رات سے پھیکا ملا مزاج

۱۲

اور لفظ بھی مزاج ہے ناداں نہ ہے مجازمعنی کہے تو اس کے کہے قصۂ دراز

۱۳

پھر معنی پوچھے حکمت و خلط و مزاج کےانواع یوں بیاں کرے اس کے علاج کے

۱۴

اس کی دوائیں کتنی مقرر ہیں طب کے بیچتعریض ایک ان میں ہے یعنی سیاہ کیچ

۱۵

اس کا ضماد کرتے ہیں دوچار روز تکپھر استعارہ دیویں ہیں تھوڑا کہ جائے پک

۱۶

ہذیان معنی اس کا ہوا برطرف جہاںپھر وہ مجاز مرسل اسے صبر کر وہاں

۱۷

اجمالی معنی یہ کہے آخر کو یہ کہاتفصیل کرنے کا تو دماغ اب نہیں رہا

۱۸

علم معانی سے جو کیا ایک دن سوالکہنے لگا حقیقت عقلی تو ہے محال

۱۹

لیکن مجاز عقلی کو نادان یاد رکھیاں کون پوچھتا ہے دل اپنے کو شاد رکھ

۲۰

ہے اب فصاحت اور بلاغت سو جانے دےیہ دونوں عیب شعر میں اپنے نہ آنے دے

۲۱

اک دن سوال علم قوافی سے میں کیاکہنے لگا کہ قید نہیں اس میں مطلقا

۲۲

تم آب قافیہ نہ کرو لفظ خاک کایا آتش اور باد کا زنجیر و تاک کا

۲۳

لیکن مغائرہ ہو مقرر ردیف میںآتا ہے یہ کچھ اپنے تو ذہن شریف میں

۲۴

پھر شعر وصل و ہجر کے موزون تم کروعرصہ ہوا وسیع جو اب چاہو سو کہو

۲۵

دعویٰ بتاؤں کیا ہے انھیں فن شعر کامعنی جو قافیہ کے کوئی پوچھتا تھا آ

۲۶

بے علم کرتا قافیہ تنگ اس کی جان پردے مارتا تھا ہاتھوں کو وہ اپنی ران پر

۲۷

کہتا تھا ہائے ہائے مرے بعد ہوگا کیاان احمقوں کے جینے کے پیچھے تو مر گیا

۲۸

پھر تربیت سے ان کی مجھے فائدہ بھلاٹوٹے ہے بکتے بکتے انھوں کے لیے گلا

۲۹

مرجاؤں گا تو گور پہ میری نہ آئیں گےدو کوزے آب کے بھی یہ ہرگز نہ لائیں گے

۳۰

لیکن مجھے تو بخل نہیں ہے سنا عزیزسنیو تو گوش دل سے اگر ہے تجھے تمیز

۳۱

ایماں اشارہ رہنے دے کہتا ہوں اب صریحاول ہی لفظ کا نہیں ہے قافیہ صحیح

۳۲

میں جو سنا ہے کافیہ ہے چھوٹے کاف سےپس پڑھنا تو غلط ہوا اب اس کا قاف سے

۳۳

اور اس میں ایک نکتہ بھی کرتا ہوں میں بیاںپھر بولا ہائے ہائے نہیں کوئی قدرداں

۳۴

ورنہ مرے دہن کو جواہر سے پر کرےیہ لعل اگلوں ہوں میں مجھے سر اپر دھرے

۳۵

بارے وہ نکتہ یہ ہے لگا کہنے کر خطابہے ایک علم جفر میں بھی کافیہ کتاب

۳۶

تصحیح صرف ہوچکی اب معنی اس کے سنورنہ لگے ہے ذہن میں ان معنیوں کو گھن

۳۷

استادوں سے سنا تھا جو میں نے نہیں ہے یاداور اب جہاں کے بیچ نہیں کوئی اوستاد

۳۸

ہر اک سے پوچھنے کو نہیں چاہتا ہے جیلائق نہیں جو پوچھیے اب قافیہ روی

۳۹

یہ کہہ کے بولا آپ ہی کہنے کا کیا حصولاس معنی کو کہے یہ مرے کیجیو قبول

۴۰

اس شخص کا جو حدث ہے سو یہ ہے میرے یارہرچند اس کو گوز شتر جانے سب دیار

۴۱

پر دید کر کہوں ہوں بنابر میں احتیاطحرف غلط کا تانہ ہو معنی سے اختلاط

۴۲

یا پھل ہے وہ سنا کا جو لگتا ہے جھاڑ میںیا کاہ خشک ہے جو اگے ہے پہاڑ میں

۴۳

گر پوچھتا کوئی کہ کسے کہتے ہیں رویکہتا روی غلط ہے مجھے یاد ہے ردی

۴۴

پھر جاکے کھول جد کی اپنے کتاب کوکہتا مرے قیاس میں آتا ہے ہو نہ ہو

۴۵

اغلب کہ اے عزیز وہ جنگل کی ہے جڑیہوتی ہے جس کی بیل ببولوں اپر پڑی

۴۶

اک دن بدیع میں جو اسے امتحاں کیااک بار باز سامنے اس نے دہاں کیا

۴۷

کر جمع قلب مستوی و قلب بعض کوکہنے لگا کہ عکس ہے اکثر کہاں ہے دو

۴۸

حالانکہ تین صنعتیں کی جاتیاں بیاںاور ایک سمجھا ان کے تئیں ایسے ہیں کہاں

۴۹

پوچھا جو اس سے معنی ایہام کے تئیںدینے لگا نشاں مجھے اک نام کے تئیں

۵۰

یعنی تھا ایک وقت میں اک پہلوان زوردو انگلیوں سے ان نے اکھاڑے تھے شاخ گور

۵۱

بہرام گور اس ہی کو کہتے ہیں سب عوامدرگور یہ تمام کہ کتنے ہیں ناتمام

۵۲

تجنیس کا سوال کیا اس سے ایک روزکہنے لگا اس اسپ کو کہتے ہیں جو ہو یوز

۵۳

نادان تونے اسپ مجنس نہیں سنامشتق اسی سے جانے ہے جو ہے پڑھا گنا

۵۴

لاتے جہاں ہیں شعر میں تجنیس شاعراںمذکور ان سے ہوتے ہیں گھوڑوں کے وصف واں

۵۵

میں نے کہا کہ کہتے ہیں تم کو عروض داںبحر رمل کی مجھ سے حقیقت کرو بیاں

۵۶

بولا کہ تیری عقل سے آتا ہے بس عجبدریا کا ایک نام ہے پھر کیا کہوں سبب

۵۷

پھر میں کیا سوال بصد انکسار و عجزبحر طویل بحر مدید اور بحر رجز

۵۸

ان میں جو ہے گا فاصلہ مجھ کو بتایئےکامل سے مل کے حیف ہے ناقص جو جایئے

۵۹

بولا کہ تجھ کو عقل نہیں تاکجا کہوںیوں تربیت میں تجھ سے کی میں کب تلک رہوں

۶۰

یہ تینوں رودخانے ہیں دہر بسیط میںملتے ہیں رفتہ رفتہ سبھی جا محیط میں

۶۱

پھر آپھی آپ بولا کہ اک اور افادہ سنگر قابل اپنے ہونے کی دل میں رکھے ہے دھن

۶۲

بحر طویل ایک ہے دریا بہت بڑابحر خفیف ایک ہے پاس اس کے آبنا

۶۳

تمثیل اس کی ڈھونڈنے اب جایئے کہاںجمنا کے پاس جیسے ہے ہینڈن تمھارے ہاں

۶۴

تشریح میں بھی ایک تھا وہ تلخ بے مثالہر استخواں کو کہنے لگا نیم کی ہے چھال

۶۵

تاریخ داں تھا قطع نظر سب کمال کےکرتا سخن ضرور ہے نبیوں کے حال کے

۶۶

کہنے لگا تمھارے پیمبر کے عہد میںتاریخ میں جو دیکھا تو عیسیٰ تھا مہد میں

۶۷

یکبارگی غصا اٹھے دجال کے اپرپھر تب سے مجھ کو علم نہیں ہے کہ ہیں کدھر

۶۸

علم نجوم میں بھی بڑا تھا اسے کمالشاید کہ اس ستارے کا ہے گا حمل وبال

۶۹

اک دن کیا سوال شہان سلف سے میںپرویز کے انھوں میں خصوصاً خلف سے میں

۷۰

اس نے کہا کہ خوب کہا طرفہ نقل ہےرکھتا ہے حافظہ میں اسے جس کو عقل ہے

۷۱

امرد تھا ایک ان دنوں شیریں تھا اس کا نامیہ اس کی دشمنی میں ہوا یوں ہی تلخ کام

۷۲

یہ سن کے مارا خسرو پرویز نے اسےبے دم کیا ہے خنجر تبریز نے اسے

۷۳

ہے ماجرا یہی جو کہے کوئی کیا ہے کہہاور شعر جو زباں سے پڑھا اپنی سو ہے یہ

۷۴

از آب زر بہ خنجر شیرویہ نقش بودکیں را نسب بہ تیشۂ فرہاد می رسد

۷۵

گنتا تھا خوب آپ کو علم حساب میںلیکن بیاں وہ کرتا نہیں جو کتاب میں

۷۶

کہتا تھا جفت پانچ کا ہوتا ہے کر شمارگر دیکھیے تو اس کو وہ ہووے ہزار بار

۷۷

پھر طرفہ ہے یہ کہتا اگر ہے نہ چار طاقپس کیوں لکھا لغت میں عناصر کو چار طاق

۷۸

علم لغت میں عمر بھی اس کی ہوئی تھی صرفکرتا سوال اس سے جو جاکر میں ایک حرف

۷۹

مثلاً کہا کہ نخل ہے کیا اس کو کر بیاںوہ در جواب اس کے وہیں کھول کر زباں

۸۰

بولا کہ اک جزیرۂ سمت فرنگ کومارا تھا ان فرنگیوں نے اس نہنگ کو

۸۱

اب خاک سے نہنگ کی واں اک نہال ہےشیر و پلنگ کا وہ سدا پائمال ہے

۸۲

اس کے ثمر کو بعض تو کہتے ہیں تاڑ پھلبے مغزوں کا جو فرقہ ہے کہتا ہے ناریل

۸۳

کہتا ہے کوئی مکہ کا خرما ہے اس کا بیجاک کہتے ہیں فرنگ میں ہے ایک بادلیج

۸۴

جس کی صدا سے گوش صدف بحر میں ہے کرصدمہ سے جس کے ٹوٹ گئی کوہ کی کمر

۸۵

یہ کچھ لکھا ہے ساری لغت کی کتابوں میںزبدہ ضریری شرح وقایہ کے بابوں میں

۸۶

تحقیق اپنی یہ ہے کہ ہے نخل اصل حرفتصحیف ہوگئے سے جو ہوتا ہے خ سے خرف

۸۷

وہ نخل کیا کہ جانور و چارپایہ ہےدم اتنی لمبی ہے کہ وہی سر کا سایہ ہے

۸۸

سوداگر اس سے بار کریں ہیں چنار کواس پر بناتے ہیں گے رہوں میں منار کو

۸۹

سر کے میں اس کے بالوں کا بھی کرتے ہیں اچاراس ہی کو کہتے ہیں گے مدائن میں سوسمار

۹۰

یہ کہہ کے آپھی بولا بآں ریش اور فشآتا ہے جوکہ اپنے تئیں سو ہے پیش کش

۹۱

کرتا تھا شہ کمانی میں اپنے تئیں دخیلزاغ کماں کو دیکھ کے کہتا کہ ہے یہ چیل

۹۲

دعویٰ تھا علم تیر میں اس کو بہت بڑاپر لے کے لیس ہاتھ میں ہوتا جو وہ کھڑا

۹۳

پھر دیکھ بھال اس کو وہ کہتا کہ مجھ کو بھیمعلوم کیا ہے خوب ولیکن یہ ہے وہی

۹۴

جب سوکھتا ہے اس کی سلاخوں کا کر خمیرچاکوں اپر کمھار بناتے ہیں لیس و تیر

۹۵

غرہ تھا ڈھولک اپنی بجانے پہ اور کبھوآتا جو کوئی ہاتھ میں لے اس کے روبرو

۹۶

اس پر لگا ٹکور تعجب سے پھر شتابکہتا روئی بھری ہے بہت اس میں داب داب

۹۷

آواز خوش کی اس کی گلوسوزی میں نہ بولگاتا تو باجتا تھا گلا جیسے پھوٹا ڈھول

۹۸

لکڑی بھی پھینکتا تھا بہت خوب سج سے وہہوتا تھا کج بہت جو کھڑا ہوتا دھج سے وہ

۹۹

شاگرد اس کا پوچھتا گر اس سے آن کرمونڈھے اپر لگاتے ہیں جو وار تان کر

۱۰۰

اس کو اگر کہیں تو کہیں کیا وہ سر اٹھاکہتا کڑک وہی ہے جو تجھ کو دیا بتا

۱۰۱

تھا گھوڑے کا بھی خوب مبصر وہ خر ولیکاک میرے مہربان تھے گھوڑا تھا ان کا ایک

۱۰۲

گھوڑے کی آنکھ پر تھی رسولی پہ گندہ تررہتی تھی اس کمیت کی وہ حائل نظر

۱۰۳

تشریف لائے ذات شریف اس جگہ کہیںواں گھوڑوں کی رسولی کی تھیں باتیں چل رہیں

۱۰۴

کہنے لگا کہ ایک نظر مجھ کو بھی دکھاؤیہ چشم ہے خدا سے کہ اس کا اثر نہ پاؤ

۱۰۵

اس گھوڑے کے سوار کے پھر جی میں آگیاکھلوا منگایا تھان سے وہ اسپ انکھ مندا

۱۰۶

لاگا سئیس سامنے اس کے پھر آونےاور آنکھ اپنے گھوڑے کی اس کو دکھاونے

۱۰۷

ہرچند انکھیاں پھاڑ کے دیکھے یہ ہر کہیںاس کو تو پھوٹی آنکھوں سے پر سوجھتا نہیں

۱۰۸

یک چشم دیکھ کہنے لگا نوچ نوچ حلقگھوڑے کے موتھرا ہے رسولی کہے ہے خلق

۱۰۹

پھر اس نظرپہ طرفہ تو یہ ہے کہ رو کے خوبکہنے لگا کہ تب تو جہاں میں پڑی ہے ڈوب

۱۱۰

شوخی کرے ہے ابلق ایام نابکارورنہ پیادے مجھ سے پھریں ایسے ہوں سوار

۱۱۱

جو جو ہوئے ہیں چرخ سے مجھ پر ستم مدامجیتا رہا تو میرؔ کروں گا گلے تمام

۱۱۲

اپنی تو بدزبانی نہ تھی خامے کا شعارپر یہ بھی ہے جریدۂ عالم میں یادگار

۵۲۵ / ۵۸۲