کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در ہجو اکول

۱

اک ہے پرخور آشنا بے پیرسینہ سوراخ جس سے ہے کف گیر

۲

صدمنی دیگ ہے شکم اس کانفس اژدہا ہے دم اس کا

۳

آنت شیطان کی ہے اس کی آنتدانت اس کا ہے ہاتھی کا سا دانت

۴

خستۂ جوع وہ جو آوے نہارمنھ ہے گویا کہ زخم دامن دار

۵

شکل مت پوچھ کھانے کا ہے بلیمنھ ہے چھیپوں سے جیسے روٹی جلی

۶

گال کلچے سے پھر توے سے سیاہکاسۂ سر ہے جیسے اوندھا کڑاہ

۷

توند کالی جو کھول جاوے لیٹآہنیں ہے تنور اس کا پیٹ

۸

راہ مطبخ میں پاوے ہے جو کبھیچاٹ جاتا ہے دیگچوں تک بھی

۹

کھینچے باورچیوں کے کیا کیا نازکتری گئی اس کے چوتڑوں پر پیاز

۱۰

کھانا نکلے پر آوے ہے کیسےچیل ٹوٹے ہے گوشت پر جیسے

۱۱

وقت کھانے کے ہاتھ سے اس کاقاب پر نان پنجہ کش گویا

۱۲

کیا وہ دوپیازہ کھا کے ہو تازہاک نوالہ ہے ملا دوپیازہ

۱۳

گوشت ہانڈی بھرا ہے ختک میںہنڈیاں گویا تھیں اس کی خشتک میں

۱۴

خام طمعی سے اک کرے ہے آہدیکھ کر شب کو نان ہالۂ ماہ

۱۵

نہ ٹلے دیکھ کر وہ قاب پلاؤمنھ ہے منھ بیٹھا گرچہ کھاوے گھاؤ

۱۶

کھانے پر جب وہ جی چلاتا ہےلاٹھی پاٹھی بھی کھائے جاتا ہے

۱۷

نہیں پہنچے جو کھانا کھانے لگہڈیوں پر لڑے ہے جیسے سگ

۱۸

بھوکھ کا باولا جو آتا ہےلوگوں کو کاٹ کاٹ کھاتا ہے

۱۹

دہوں میں دشمنوں سے بھی وہ لئیمجائے گھل مل اگر سنے ہے حلیم

۲۰

آش بغرا پہ مار بھی کھاوےاس میں گو بوغرا نکل جاوے

۲۱

کسی مفلس کے گھر جو جاتا ہےکچھ نہیں خفتیں ہی کھاتا ہے

۲۲

بھوکھ سے جب کہ غصے میں آوےبز کوہی کی طرح جھنجھلاوے

۲۳

ٹھڈیوں کو نگہ سے کھا جاوےچنے لوہے کے بھی چبا جاوے

۲۴

دہر کا جلنا آگ سے مانوںبھوکھ اس کی جلے تو میں جانوں

۲۵

نکلے بازار میں وہ جب چربوزسر ہی پھوڑے ہے دیکھ کر تربوز

۲۶

گھاس پات اور کانس کھاتا ہےنیشکر پر وہ بانس کھاتا ہے

۲۷

اس کے آنے کی سن کے بازاریکرتے ہیں سودوں کی خریداری

۲۸

کوئی تختہ کرے ہے دوکاں کوکوئی لاوے بلا گزرباں کو

۲۹

کنجڑے ڈھانکے ہیں ساگ پات اپناتکتے ہیں بنیے داؤ گھات اپنا

۳۰

کہ مبادا ادھر کو آجاوےسودے یک سو ہمیں نہ کھا جاوے

۳۱

اینٹ پتھر بھی کھا گذر جاوےالغرض پیٹ اپنا بھر جاوے

۳۲

کیا کیا جینے کے کہیے چکھتا ہےلیک پیٹ اس کو مارے رکھتا ہے

۳۳

پیٹ اپنا بڑا جو پاتا ہےگوہ تک کا بھی جیفہ کھاتا ہے

۳۴

وہ قضارا ہوا مرا مہمانکھا گئی اس کی میزبانی جان

۳۵

گھر میں جو کچھ تھا بیچ منگوایاکھانا اس کے لیے میں پکوایا

۳۶

کتنا کھانا بیاں کروں تجھ سےجس پہ سو میہماں کروں تجھ سے

۳۷

مجھ سے تھی روزگار سے ان بنخوب کھانا جو تجھ پہ ہے روشن

۳۸

چار من گاجروں کا قلیہ تھادہ منی دیگ بیچ دلیہ تھا

۳۹

روٹیاں کس قدر بتاؤں میںجس کو دوچار سال کھاؤں میں

۴۰

چاہ کرکے گرا جو وہ بلاعمدد روح اشعب طماع

۴۱

کہنے لاگا میں ہوکے بجوالاکیا ہوا یاں سے قلیے کا پیالہ

۴۲

تھی ابھی روٹیوں کی جیٹ کی جیٹمیں رہا کہتا کھا گیا وہ سمیٹ

۴۳

کھانا کوئی اور کیا کہے اس کاسارے منھ دیکھتے رہے اس کا

۴۴

جب مرے گا وہ بھوکھ کا روگیروح توشے کی روٹی میں ہوگی

۴۵

کھانے کی بو جو ناک میں پیٹھےمر گیا ہووے تو بھی اٹھ بیٹھے

۴۶

عقل باور اگرچہ کرتی نہیںوہ مرے بھوکھ اس کی مرتی نہیں

۴۷

بھوکھے اس کا جو جی نکل جاوےگور میں بھی کفن نگل جاوے

۵۲۶ / ۵۸۲