کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
در مذمت برشگال کہ باراں دراں سال بسیار شدہ بود
کیا کہوں اب کی کیسی ہے برساتجوش باراں سے بہہ گئی ہے بات
بوند تھمتی نہیں ہے اب کی سالچرخ گویا ہے آب در غربال
وہی یکساں اندھیر برسے ہےآسماں چشم وا کو ترسے ہے
ماہ و خورشید اب نکلتے نہیںتارے ڈوبے ہوئے اچھلتے نہیں
آب بن کوئی بولتا ہی نہیںآسماں دیدہ کھولتا ہی نہیں
چرخ تک ہوگیا ہے پانی جوماہ و ماہی ہیں ایک جا ہر دو
لے زمیں سے ہے تا فلک غرقابچشمۂ آفتاب ہیں گرداب
خشک بن اب کی بار سبز ہوئےموش دشتی کے خار سبز ہوئے
ابر کس کس سیاہ مستی سےہوتے جا ہیں بلند پستی سے
لڑکوں نے کی زمانہ سازی ہےخاک بازی اب آب بازی ہے
ابر کرتا ہے قطرہ افشانیپانی پانی رہے ہے بارانی
تنک آبی سے جان مت اغراقڈوبنے پر ہے کشتی آفاق
عقل مینہوں نے سب کی کھوئی ہےبات باراں نے یاں ڈبوئی ہے
کیسا طوفان مینھ چھایا ہےزخم دل نے بھی آب اٹھایا ہے
بیٹھے اٹھتے نہیں ہیں بام و دریہ خرابی ہے شہر کے اندر
سقف آماج بوند پیکاں ہےمینھ ہے یاکہ تیر باراں ہے
جیسے دریا ابلتے دیکھے ہیںیاں سو پرنالے چلتے دیکھے ہیں
ابر رحمت ہے یاکہ زحمت ہےایک عالم غریق رحمت ہے
لے گئے ہیں جہان کو سیلابنقشہ عالم کا نقش تھا برآب
نہ ہے جلسہ نہ ربط یاراں ہےشہر میں ہے تو باد و باراں ہے
روز و شب یاں ہمیشہ جھمکا ہےان دنوں رنگ برق چمکا ہے
بڑی بوندوں کی چوٹ سے ڈریےسنگ باراں جہاں ہو واں مریے
پڑھتے ہیں یار درس حیرانیآرسی کے بھی گھر میں ہے پانی
آدمی ہیں سو کب نکلتے ہیںمردم آبی پھرتے چلتے ہیں
کتے ڈوبے گئے کہاں ہیں ابسگ آبی ہی ہیں جہاں ہیں اب
وسعت آب پوچھ مت کچھ یارکوچے موجوں کے ہوگئے بازار
معبد اب سارے گرتے آتے ہیںزاہد خشک ڈوبے جاتے ہیں
تھا ٹھہرنا برابر ان کے شاقمسجدوں میں کیا ہے استغراق
مینھ تو یاں لگے ہی رہتے ہیںسارے عالم کے کان بہتے ہیں
غرق ہے چڑیا اور گلہری ہےخشکی کا جانور بھی بہری ہے
مینھ ازبسکہ بہبہا ہے گااک جہاں کو ڈبو رہا ہے گا
تر ہیں جو خشک اور تروں میں ہیںجانیں اک سوکھتی گھروں میں ہیں
شعر کی بحر میں بھی ہے پانیبہتی پھرتی ہے اب غزل خوانی
لائی بارندگی کی چالاکیآب خشک گہر پہ نمناکی
ہے زراعت جو پانی نے ماریہوگئی آبخست ترکاری
آب ہے گا جہاں کے سر تا سرخوف سے سوکھتا ہے میوۂ تر
مست ہو ہوگئے ہیں مست شرابغوطے کھاتے پھرے ہیں عالم آب
مستی ہے اب جو چاہیں سیر آبیبط مے تو ہوئی ہے مرغابی
جتنی قحبائیں خشک تھیں مشہوران کی فرجوں سے سیل ہیں محشور
بھینگ خشتک انھوں کی تھیلا ہےیہ خرابہ برے میں پھیلا ہے
دست غم اس قدر بہ طغیاں ہےکہ ہر اک گوشہ بیچ طوفاں ہے
سیل دیکھے ہیں کوہساراں کےلیے کشتی گدا ہیں باراں کے
جزر و مد جس کا تا فلک جا ہےجو ہے تالاب قہر دریا ہے
ہر طرف ہیں نظر میں ابر سیاہپانی ہے جس طرف کو کریے نگاہ
سیل ہا در رکاب دیدۂ ماستچشم تا کار می کند دریاست
پانی عالم کے تا بہ سر ہے گاخشک مغزوں کا مغز تر ہے گا
خضر کیوں کرکے زیست کرتا ہےآب حیواں میں پانی مرتا ہے
لکھے کیا میرؔ مینھ کی طغیانیہوگئی ہے سیاہی بھی پانی
۵۲۷ / ۵۸۲