کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

در مذمت آئینہ دار

۱

آج سے مجھ کو نہیں رنج و نکالجب سے نکلے بال تب سے ہے یہ حال

۲

موشگافوں کا نہیں ہے نام ابمدعی شعر ہیں حجام اب

۳

ان سے کیں اک مو برابر بھی نہیںجلف اشرافوں کے ہمسر بھی نہیں

۴

پر ہوئے سر چڑھ کے یہ موے دماغدود ہو جانے لگے سوے دماغ

۵

ہوگئے گرم سخن تب تو قلمورنہ یوں بیہودہ کب نکلا ہے دم

۶

ایسے مونڈے میں نے کتنے بے شعورہے حجامت اس بھی فرقے کی ضرور

۷

یاں نہ سید کچھ ہے نے نائی ہے شرطہو کسو کسوت میں دانائی ہے شرط

۸

سگ کو نجم الدیں کے سرداری ہوئینوح کے بیٹے کی وہ خواری ہوئی

۹

میرؔ و مرزاؔ میں حکم ہو ذی خردنے کہ نائی جن پہ سب کا دست رد

۱۰

سمجھے مرزاؔ میرؔ کو مرزاؔ کو میرؔنے وہ رگ زن جو نہ سمجھے سیر شیر

۱۱

مجھ میں مرزاؔ میں تفاوت ہے بہتیاں تانی واں عجالت ہے بہت

۱۲

جس جگہ میں نے رکھی منھ میں زباںہوتے اس جاگہ جو مرزاؔ بے گماں

۱۳

استرے کانوں میں اپنے باندھ کرکب کے اب تک گھس گئے ہوتے ادھر

۱۴

ان کمینوں کا گلہ کیا کیجیےایسے دس پیدا ہوں گر نہ لیجیے

۱۵

کہتے ہیں سرگرم بے باکی ہے یہہوں تو ہوں ناپاک کیا پاکی ہے یہ

۱۶

لکھیے اس فرقے کے اب تاچند ذمخط بناویں ایسا کریے کف قلم

۱۷

گرچہ ان کو کہتے ہیں آئینہ دارلیک ان کا منھ نہ دیکھیں کاش یار

۱۸

صاف قینچی پر انھیں چڑھوایئےگر نمدمو اس میں پھر ہوجایئے

۱۹

چاہو ہو اس قوم کی کیا شرح حالآگے ہی آویں گے جتنے ہوں گے بال

۲۰

اک سفید ان کو نہیں چننے کے تکہوتے ہیں دشمن یہ کالے بال تک

۲۱

کیا کہوں کیسے ہیں اوندھے یہ لچرکیجیے اصلاح عائد ہووے شر

۲۲

کھرچیں ایسا سر کہ کردیں پائمالسیدھیاں جب سن لیں تب لیں الٹے بال

۲۳

معتبر ان کے جو حمامی ہیں ابہند میں وہ تیرہ رو شامی ہیں اب

۲۴

کوئی لے جائے جو حاجت غسل کیچلو چلو پانی پر دیتے ہیں جی

۲۵

لعنتیں کرتے ہی گذرے اس کو واںغسل میں فرصت تشہد کی کہاں

۲۶

بیٹھے جامہ خانے میں کیا غسل کرجیب شاگردوں نے واں رکھی کتر

۲۷

لیک پھر اجرت کے اوپر جنگ ہےلات ہے گالی ہے پھر سرچنگ ہے

۲۸

اس سقاوے میں گیا تھا اک حریفاس کی فی الجملہ طبیعت تھی ظریف

۲۹

دھوکے پاجامہ نہانے بھی گیایک طرف پھر پائے خانے بھی گیا

۳۰

غسل کے پیچھے جو منھ گھر کو کیاہاتھ نائی کے سوا پیسہ دیا

۳۱

نائی نے پوچھا کہ پیسہ یا ٹکادمڑی یہ کیسی ہے میں قرباں گیا

۳۲

ہنس کے بولا تو نہ بد لے جائیویاں ہگا بھی ہے اسے اٹھوائیو

۳۳

چوہڑے نائی ہیں سارے ایک ذاتان میں ہے بدذات جو ہو نیک ذات

۳۴

آیا اک نائی زنانہ سا نظرہاتھ میں نلوا لیے بے پا و سر

۳۵

میں کہا آتا ہے نلوا کام کیابولتا ہے آگے سے بدنام کیا

۳۶

آلت اس میں لوطیوں کی ڈال کرمونڈتے ہیں جھانٹیں اک اک بال کر

۳۷

ہاتھ میں رکھیے تو شہوت ہو انھیںضبط کی شاید نہ طاقت ہو انھیں

۳۸

عذر اگرچہ واں تلک بھی یاں نہیںلیک اک دن اس میں اپنی جاں نہیں

۳۹

دھکے چڑھ جاویں نہ جانے کیسے کےجی بھی جاوے واسطے دو پیسے کے

۴۰

سن کے اس سے ایسی اچرج بات کومیں کہا لعنت تری اوقات کو

۴۱

کاٹیے ان کے تئیں مثل گزرپنڈے کے ہلکے ہیں اکثر پاچہ خر

۴۲

بعضے بعضے ان میں سے جراح ہیںبحر خون و ریم کے ملاح ہیں

۴۳

زرد و زنگاری کوئی ڈبہ ہے ساتھحیض کے سے ایک دو لتے ہیں ہاتھ

۴۴

موم ڈالیں تیل میں مرہم کریںپھر مسیحائی کا دم اس پر بھریں

۴۵

پھیر پگڑی بیٹھیں ایسی شان سےآئے ہیں گویا ابھی ایران سے

۴۶

باپ سے اپنے اگر پیسے نہ پائیںداغ کو اس کے جراحت کر دکھائیں

۴۷

بعضے بعضے ان میں رعنا ہیں اگرسو مشعلچی ہیں بھگت کے بیش تر

۴۸

رنڈی گت ناچے یہ اس کا منھ دکھائیںپا بہ پا مشعل لیے مجلس میں جائیں

۴۹

روشنی لے دوڑتے ہیں وقت شامگھورتے ہیں کرکے اندھیارا مدام

۵۰

تیل کی کپی لیے خوش ہیں کھڑےایک بھڑوے ہوتے ہیں چکنے گھڑے

۵۱

لگ چلیں تو ہیں گے جیسے موچنےکھائیں جب سر میں لگیں تب سوچنے

۵۲

چھیڑیو تو مغز بھی لے جائیں گےسر کے تیں سہلا کے بھیجا کھائیں گے

۵۳

بے حقیقت ہیں نہیں شایان کارصحبت ان سے بگڑی ہے پایان کار

۵۲۸ / ۵۸۲