کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
درہجو خواجہ سراے
ایک جو خوجے سے ملا اک حکیمدونوں وے آپس میں ہوئے ہم کلام
خوجے نے یوں اس سے کہا تجھ سے ہیمردے حکیموں کا ہوا زندہ نام
کتنے دنوں سے ہے مجھے درد سراس کی میں پامالی میں ہوں صبح و شام
نیند نہیں رات کو نے دن کو چینخواب و خورش مجھ پہ ہوئی ہے حرام
تیری توجہ ہے ضروری ادھرکیوں کہ یہ ناکام کا ہے اتنا کام
کہنے لگا سن کے وہ حاذق طبیبمجھ کو یہی کام رہے ہے مدام
تیرے تملق کی نہیں احتیاجاور نہ دے درد سر اے تلخ کام
نسخہ میں پاشوئے کا لکھ دوں تجھےکر تو اسے جا کے اذیت تمام
سن کے تعجب سے کہا خوجے نےپختہ تجھے جانا تھا نکلا تو خام
کچھ بھی ہے سر پاؤں تری بات کاچپ نہ ہنسیں سن کے کہیں خاص و عام
پاؤں کہاں سر کہاں ناداں کہ ہیںتجھ سے تو دانا بہ مراتب عوام
سخت تر آشفتہ ہو بولا طبیبخوجوں میں ہوتا نہیں ہوش ایک دام
نقل ہے اک یاد چنانچہ مجھےرات کو خوجے کو ہوا احتلام
آلت جنبش تو منی کی نہ تھیبہہ کے گئی اس کی دبر پر تمام
اس کو کہا زعم نے لوطی کوئیدے گیا تکلیف ہی یہ لاکلام
صبح کو اٹھ قینچی کھڑی گھر میں کیکیا کہوں میں کیسی ہوئی دھوم دھام
ٹھہرے امین آکے کئی معتبرایک حویلی میں ہوا ازدحام
بانس تلک ٹوٹ چکے نفروں پرپوچھ چکے لوگوں کا لے لے کے نام
نسبت پا سر سے ہے کیا پوچھ متاپنی طرف دیکھ تو ٹک تیرہ فام
خوجے کے اپنے ہی سے کرلے قیاسریش کجا خایہ کجا اے غلام
سمجھے نہ سمجھے تو مرے خائے سےمیں تو نظیر اس کی کہی والسلام
۵۲۹ / ۵۸۲