کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا

۱

دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالالے یار مرے سلمہ اللہ تعالی

۲

کچھ میں نہیں اس دل کی پریشانی کا باعثبرہم ہی مرے ہاتھ لگا تھا یہ رسالا

۳

معمور شرابوں سے کبابوں سے ہے سب دیرمسجد میں ہے کیا شیخ پیالہ نہ نوالا

۴

گزرے ہے لہو واں سر ہر خار سے اب تکجس دشت میں پھوٹا ہے مرے پاؤں کا چھالا

۵

گر قصد ادھر کا ہے تو ٹک دیکھ کے آنایہ دیر ہے زہاد نہ ہو خانۂ خالا

۶

جس گھر میں ترے جلوے سے ہو چاندنی کا فرشواں چادر مہتاب ہے مکڑی کا سا جالا

۷

دشمن نہ کدورت سے مرے سامنے ہو جوتلوار کے لڑنے کو مرے کیجو حوالہ

۸

ناموس مجھے صافی طینت کی ہے ورنہرستم نے مری تیغ کا حملہ نہ سنبھالا

۹

دیکھے ہے مجھے دیدۂ پر خشم سے وہ میرؔمیرے ہی نصیبوں میں تھا یہ زہر کا پیالا

۵۳۰ / ۵۸۲