سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو

ہے زمیں خشک مرے دیدۂ تر سے نایابشہر و کہسار و بیابان سبھی ہیں شادابہر طرف اشک سے میرے ہیں رواں صد سیلابکام کرتی ہے جہاں تک کہ نظر اب ہے آبہے عبث جیتے جی میرے تجھے بارش کا خیالمیں تو روتا ہوں ترے غم میں علیٰ قدر حال

About this couplet

This is couplet 3 of 9 in “⁨سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۹