سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو

ریزے الماس کے اور مشت نمک مشک کی بوکس کو یہ سارے بہم پہنچے ہیں ان سے مل تولذت درد سے مقدور ہو جب تک کر خودیکھ زنہار نہ دے مرہم بدرو کو روننگ و ناموس کو مجروحوں کے رکھ مدنظرمنھ بھرائی میں مری جان لے اے زخم جگر

About this couplet

This is couplet 4 of 9 in “⁨سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۴ / ۹