کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو

۱

سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہویاں بہت رہتے ہو خوش باش کہ واں رہتے ہوان دنوں یاروں کی آنکھوں سے نہاں رہتے ہوخوش رہو میرؔ مری جان جہاں رہتے ہواک طرف بیٹھے ہوئے ہم بھی لہو پیتے ہیںعشق کی جان کو دیتے ہیں دعا جیتے ہیں

۲

دل خوشی ہوتا نہیں سبزے سے یا سنبل سےیعنی اب عشق نہیں مجھ کو خط و کاکل سےہم نشیں داغ کھلے دل پہ مرے سب گل سےآ چمن زار میں گل بازی کروں بلبل سےشاخ گل پر تو وہ ہو اور لب جو پر میںداغ کو دل پہ وہ لے گل کے تئیں رو پر میں

۳

ہے زمیں خشک مرے دیدۂ تر سے نایابشہر و کہسار و بیابان سبھی ہیں شادابہر طرف اشک سے میرے ہیں رواں صد سیلابکام کرتی ہے جہاں تک کہ نظر اب ہے آبہے عبث جیتے جی میرے تجھے بارش کا خیالمیں تو روتا ہوں ترے غم میں علیٰ قدر حال

۴

ریزے الماس کے اور مشت نمک مشک کی بوکس کو یہ سارے بہم پہنچے ہیں ان سے مل تولذت درد سے مقدور ہو جب تک کر خودیکھ زنہار نہ دے مرہم بدرو کو روننگ و ناموس کو مجروحوں کے رکھ مدنظرمنھ بھرائی میں مری جان لے اے زخم جگر

۵

مدتیں گذریں کہ اے شوخ یہ خواری ہے مجھےتجھ سے بے رحم ستمگار سے یاری ہے مجھےروز و شب درد و غم و نالہ و زاری ہے مجھےبلکہ ہر روز کی شب ہجر میں بھاری ہے مجھےاہل دل جان کے رکھتا ہے مجھے عشق بتنگکاشکے دل کے عوض کوئی ملا ہوتا سنگ

۶

عاقبت کا نظر آیا نہ یک آثار ہمیںدل کی بے تابی نے ہرچند رکھا خوار ہمیںحیف صد حیف میسر نہ ہوا یار ہمیںتیرے کوچے میں کہیں سایۂ دیوار ہمیںتاکہ واں نالہ و فریاد کیا کرتے ہماک طرف بیٹھ تجھے یاد کیا کرتے ہم

۷

کب تلک ہاتھ سے خوباں نہ جفاکاری دیںاس وفاداری کے بدلے یہ ہمیں خواری دیںتم کہو کب تئیں ہم داد وفاداری دیںعشق بن جرم جو کچھ ہو تو گنہگاری دیںقصد فریاد ہے گر یار ٹک انصاف کریںپھر وے گو سن کے کدورت سے ہمیں صاف کریں

۸

مت برس خاک پہ عشاق کی ہم کیا کم تھےحرف دیروزہ ہے یہ دیدہ ہمارے یم تھےموج سیلاب سے آنسو کے گئے عالم تھےیعنی اے ابر کسی عہد میں ہم ہی ہم تھےعزم کر رونے کا آبادی سے گر اٹھتے تھےبیٹھ کر دشت میں طوفان ہی کر اٹھتے تھے

۹

کون تھا یاں کہ مجھے دیکھ ندامت رکھےیا مرے سر پہ نصیحت سے قیامت رکھےمیرؔ صدسال خدا تجھ کو سلامت رکھےتو نہ ہووے نہ مجھے کرکے ملامت رکھےورنہ اب تک تو مری خاک بھی ہوجاتی ہوالے گئی ہوتی تبرک کی طرح باد صبا

۵۳۸ / ۵۸۲