سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو
عاقبت کا نظر آیا نہ یک آثار ہمیںدل کی بے تابی نے ہرچند رکھا خوار ہمیںحیف صد حیف میسر نہ ہوا یار ہمیںتیرے کوچے میں کہیں سایۂ دیوار ہمیںتاکہ واں نالہ و فریاد کیا کرتے ہماک طرف بیٹھ تجھے یاد کیا کرتے ہم
About this couplet
This is couplet 6 of 9 in “سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۶ / ۹