سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو

کب تلک ہاتھ سے خوباں نہ جفاکاری دیںاس وفاداری کے بدلے یہ ہمیں خواری دیںتم کہو کب تئیں ہم داد وفاداری دیںعشق بن جرم جو کچھ ہو تو گنہگاری دیںقصد فریاد ہے گر یار ٹک انصاف کریںپھر وے گو سن کے کدورت سے ہمیں صاف کریں

About this couplet

This is couplet 7 of 9 in “⁨سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۷ / ۹