سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو
کون تھا یاں کہ مجھے دیکھ ندامت رکھےیا مرے سر پہ نصیحت سے قیامت رکھےمیرؔ صدسال خدا تجھ کو سلامت رکھےتو نہ ہووے نہ مجھے کرکے ملامت رکھےورنہ اب تک تو مری خاک بھی ہوجاتی ہوالے گئی ہوتی تبرک کی طرح باد صبا
About this couplet
This is couplet 9 of 9 in “سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۹ / ۹