سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو
مت برس خاک پہ عشاق کی ہم کیا کم تھےحرف دیروزہ ہے یہ دیدہ ہمارے یم تھےموج سیلاب سے آنسو کے گئے عالم تھےیعنی اے ابر کسی عہد میں ہم ہی ہم تھےعزم کر رونے کا آبادی سے گر اٹھتے تھےبیٹھ کر دشت میں طوفان ہی کر اٹھتے تھے
About this couplet
This is couplet 8 of 9 in “سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۸ / ۹