کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
قاسم کی شادی اس دم رچائی
قاسم کی شادی اس دم رچائیجس دم کہ شہ سے کچھ بن نہ آئیدلہن سمیں نے ایسی بنائیوہ بزم جن نے ساری رلائی
بھائی نہ تھے جو ہوتے براتیبزم عروسی رونق بھی پاتیسو تو جلائی ہر اک نے چھاتیآگے ہی جا جا گردن کٹائی
دولھا اگر تھا ظاہر نویلالیکن نہایت بیکس اکیلابابا کا مرنا اس طور جھیلاطاقت سے آگے ایذا اٹھائی
دل کے الم سے رخ زرد جوں زرآنسو کا سہرا چہرے کے اوپرجوں پارۂ ابر رومال سب ترغم کی نہ دل میں مطلق سمائی
بابا موا تھا ہو کرکے مسمومشفقت عنایت غیروں سے معلوماب جو چچا ہے سو بھی ہے مظلومڈھونڈے ہے اپنے غم سے رہائی
دولھا گدازاں ہووے نہ کس مسنے کوئی غم خوار نے کوئی مونسدولہن جلے تھی جوں شمع مجلسایسی لگن تھی یہ کب دھرائی
دلہن کو روتی لاکر بٹھایادولھا بھی کڑھتا پاس اس کے آیامرآت و مصحف لاکر دکھایااک دم بھی فرصت ہرگز نہ پائی
چاہا مبارز دشمن نے آکرغیرت سے طاقت مطلق نہ لاکراٹھتے ہی واں سے جی کو چلا کرسر پر اٹھائی ساری لڑائی
اک زخم سا زخم آخر اٹھایادیکھا چچا نے طاقت نہ لایاگھوڑے سے گرتے چھاتی لگایانازک وہ پیکر بے جان پائی
مر جو گیا وہ جا الضرورتکچھ اور ہوگئی مجلس کی صورتبڑھتی چلی پھر دل کی کدورتاس پر کہ گھر کی سب تھی صفائی
آرائش بزم کیا کہیے بارےآہوں کے شعلے گل ریز سارےگرتے تھے آنسو جیسے ستارےچھوٹے تھی منھ پر سب کے ہوائی
کس پردگی کے معجر بہ سر تھاسینے میں کس کے اس دم جگر تھابزم عروسی ماتم کا گھر تھااچرج ہوئی ہے یہ کدخدائی
القصہ اکثر بیکس بچارےجور و ستم سے دشمن نے مارےباقی جو ہیں اب کتنے دکھارےپانی کی ان کو ہے گی منائی
اصغر پیاسا مرنے لگا جبمردم حرم کے گریاں ہوئے سبلاچار ہو شہ آپھی اٹھا تباک چلو پانی کرنے گدائی
لائے سو اس کو خوں میں ڈبو کرایسے گہر کو یوں بیٹھے کھو کررکھا جو سب میں گودی سے رو کرچھوٹے بڑے کی چھاتی بھر آئی
گردن کٹائی اکبر نے جب کیتر چشم ہے گی ہر خشک لب کیعالم سیہ ہے آنکھوں میں سب کیدیتا نہیں کچھ اس بن دکھائی
اس واقعے نے شہ کو کھپایاآتش نے غم کی سینہ جلایاخود کو بخود پھر ہرگز نہ پایادشوار کاٹی اس کی جدائی
افراط غم سے بس تنگ آکرجینے سے بیٹھا دل کو اٹھاکروعدے پہ آخر میداں میں جاکرخنجر کے کارن ضربت اٹھائی
واماندگاں سب کہتے تھے رو رووارث نہیں اب جز عابدیں سوبیمار ایسا دیکھیں تو کیا ہوپھر لاعلاجی پھر بے دوائی
سر دے کے شہ تو چھوٹا الم سےعزت تھی ساری اس کے ہی دم سےوابستہ خواری اب ہے گی ہم سےموت اس کی آئی ہم کو نہ آئی
تھی چشم ہم کو جن سے وفا کیآخر انھوں نے ایسی جفا کییارب برائی ہم نے وہ کیا کیکرتی نہیں جو امت بھلائی
اپنا کیا تھا حیدر نے جس کوجانی خصومت ہم سے ہے وس کوہم غم زدہ اب دیں دوش کس کوکی آشنا نے یہ بے وفائی
چھوڑا مدینہ جس کے بھروسےنیکی نہ دیکھی اس زشت خو سےمارے گئے مل اس مردہ شو سےبیٹے بھتیجے خویش اور بھائی
دنیا کی خاطر دیں ان نے چھوڑاابن علی سے سر رشتہ توڑایک بار ادھر سے منھ اپنا موڑاتھا آشنا سو نکلا دغائی
تالیف جس کی کی تھی نبیؐ نےایذا اٹھائی اس سے علیؓ نےبیٹے سے اس کے اب ہم سبھی نےیہ آگ گھر کو ان نے لگائی
جانوں سے مارا خیمہ جلایاپانی کے بدلے لوہو چٹایاسر اس کے اوپر کٹوا منگوایاناموس ساری شہ کی لٹائی
غربت میں مارا لاکر وطن سےمحروم رکھا تس پر کفن سےہاتھ اک پسر کے باندھے رسن سےکی ناتواں پر زورآزمائی
اہل حرم کو لوٹا لٹایاہر پردگی کو سب میں پھرایااونٹوں کے اوپر ظاہر بٹھایاخوش کی ہماری یہ بے ردائی
اب شام کو ہم جاتے ہیں سارےشب کر دکھایا دن کو ہمارےکیا پیش آوے واں پہنچے بارےطالع میں اپنے ہے نارسائی
جاتے تھے کہتے یوں وے گرفتارنے کوئی ہمدم نے کوئی غم خوارآگے سبھوں کے عابد ہو بیمارچوٹ ان کے دل پر ہر گام کھائی
پامال کریے اس کام جاں کودیجے ریاست سگ زادگاں کوچپ میرؔ نالاں رکھ لے زباں کوکہیے سو کیا اب یہ بھی خدائی
۵۴۳ / ۵۸۲