کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

مخمس در مدح حضرت علیؓ

۱

اے مرتفع نشین علی العرش استواوے غیر ماسواے خدا خویش مصطفےٰؐتو تھا کہ تونے دوش نبی پر قدم رکھابت توڑ توڑ شرک کی صورت دی سب مٹالایا بہ زور عرصے میں یکتائی خدا

۲

رکھتے ہیں تجھ سے چشم کرم صاحب نظرافضل ہوئی سبب سے ترے خلقت بشرتو مجمع کمال ہے تو مصدر ہنرہے مورد قبول دعا تیرے گھر کا درہے مولد شریف ترا خانۂ خدا

۳

ہر مو زبان ہو تو کریں وصف ہم تراکرتا رہا ہمیشہ مسیحائی دم ترارونق ہوئی جہاں میں جو آیا قدم ترابرپا نہ ہووے روز جزا گر علم تراخورشید حشر سائے میں کس کے ہو پھر کھڑا

۴

تو وہ ہے نام لیتے ترا بھیجئے درودگذرے اگر تو دل میں تو کر بیٹھیے سجودشخص کرم کی وقت دہش تیرے کیا نمودتو گرم جود ہووے تو پھر کیا بھلا ہے جودتیری سخا کے روبرو کیا چیز ہے سخا

۵

آگہ ہیں تیری قدر سے کاہے کو بے تہاںجانیں ہیں فخر یاں کی گدائی کے تیں شہاںتجھ سا کریم عرصے میں آفاق کے کہاںہے در ترا وہ کان عطا و کرم جہاںہوتی ہے سیر آن کے حرص شہ و گدا

۶

مقدور والے عہد کے گھٹتی سہا کیےافسانے تیرے جود کے مردم کہا کیےدریا گہر کے ہاتھ سے تیرے بہا کیےاحساں پہ تیرے سینکڑوں احساں رہا کیےہمت نے تیری ہمت عالی سے کچھ لیا

۷

دکھلاوے چند چرخ نشیب و فراز کوپیوند کر زمیں کا غم جاں گداز کوکر ناز ایک لطف سے میرے نیاز کوتو وہ امام ہے کہ جب آوے نماز کوپیشینیاں تمام کریں تجھ سے اقتدا

۸

ہر اک کو اس تقدس ذاتی سے کیا خبرپہنچانیں تجھ کو کیونکے عزیزان بے بصرنے تصفیہ دلوں کو نہ باریکی نظرپر علم ہورہے گا کہ تھا حق ہی جلوہ گرپردہ یہ بیچ سے بشریت کا جب اٹھا

۹

جاگہ ہر ایک دل میں تری ہی ولا کی تھیتیرا ظہور آرزو ارض و سما کی تھیتجھ سے شہان عہد کو نسبت گدا کی تھیقدرت جو دیکھی تیری سو قدرت خدا کی تھیگر آسماں حریف ہوا خاک میں ملا

۱۰

زورآوری جہاں میں تری داستاں ہوئیعرصے کے پہلوانوں کی قدرت عیاں ہوئیکتنوں کی جان سامنے تیرے رواں ہوئیکتنوں کی دور بیٹھے ہی خاطرنشاں ہوئیسیسر تری کماں کی نہ کوئی اٹھا سکا

۱۱

فرضاً ہوا غلام سے تیرے اگر بگاڑدشمن سب آئے سامنے ہر ایک جوں پہاڑمارا نہ ایک دو ہی کو میدان میں پچھاڑجس کی کمر میں ہاتھ چلایا لیا اکھاڑجس کی طرف کو آن جھکا پھر جھکا دیا

۱۲

آیا ڈپٹ کے گھوڑے کو جس وقت بھیڑ چیرخرگوش تھے بہیر کے گویا جوان و پیرسرگرم رزم جب کہ ہوا کہہ کے گیر گیراس کی کماں کے ساتھ تھا پیغام مرگ تیرتلوار اس کے ہاتھ میں تھا نامۂ فنا

۱۳

بہتیرے کوہ و دشت کو بھاگے کڈھب گئےبہتیرے زخم تن پہ اٹھا جاں بلب گئےتھے برج سے جوان سو ہیبت سے دب گئےجوڑا ادھر سے تیر ادھر سہم سب گئےچمکی ادھر سے تیغ ادھر سر ہوا جدا

۱۴

ہے کون دادرس جو کہوں دل کے اس سے بھیدجور فلک سے چھاتی میں سب پڑ گئے ہیں چھیدامید ہے کہ پہنچے ترے لطف کی نویدکم بخت بھی پھرا نہ ترے در سے ناامیدازبسکہ وقف کرتے ہیں واں طالع رسا

۱۵

ہر شب یہ دل خفا ہے یونہیں عمر ہوگئیہر روز اک جفا ہے یونہیں عمر ہوگئیجی پر غرض بلا ہے یونہیں عمر ہوگئیہر شام غم غذا ہے یونہیں عمر ہوگئیہر صبح خون دل ہے مجھے آب ناشتا

۱۶

آشفتہ کوہ و دشت میں مدت پھرا ہوں میںآوارہ گرد بادیۂ ابتلا ہوں میںجوں گردباد خاک میں یکسر ملا ہوں میںیعنی برہنگی سے تو ٹک بچ رہا ہوں میںتہ گرد کی جو بیٹھے ہے تن پر سو ہے قبا

۱۷

اس شہر میں ہوں دیر سے آوارہ بے وطنمرنا بنا نہ اس سے کہ پیدا نہ تھا کفنالقصہ حال بد سے کروں تاکجا سخناحوال میرؔ تجھ پہ ہویدا ہے من و عناظہار اس پہ ہے یہ طبیعت کا مقتضا

۱۸

ہوں مبتلاے رنج و بلا سینہ چاک ہوںپھوڑا سا پک رہا ہوں سبھی دردناک ہوںدور آستاں سے تیرے کہاں تک ہلاک ہوںیہ جی میں آرزو ہے کہ جب مر کے خاک ہوںلاوے نجف کی اور اڑاتی ہوئی صبا

۱۹

امداد کر کہ پہنچوں ترے آستاں تلکلے جاوے اشتیاق مجھے کھینچ واں تلکہر در پہ اضطراب پھراوے کہاں تلکیوں اتفاق ہوکہ کروں صرف جاں تلکمقصد یہی ہے دل کا یہی جی کا مدعا

۲۰

یوں کشتہ چند مرتبہ و جاہ کا رہوںکب تک ہلاک مطلب دلخواہ کا رہوںجی چاہتا ہے خاک ہو اس راہ کا رہوںپامال تیرے زائر درگاہ کا رہوںتاج شرف ہو سر پہ مرے عاقبت کو تا

۲۱

بے اختیار روؤں ہوں ہر صبح اور شامیعنی کہ شوق در کا ترے دل کو ہے تماممقصد اسی کو جانوں ہوں سمجھا یہی ہوں کاماے جدپاک حضرت موسیٰ رضا اماماپنی تو آرزو ہے یہ آگے تری رضا

۵۴۴ / ۵۸۲