کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

مخمس در مدح حضرت علیؓ

۱

زور و ثبات و تاب و تواں مرتضےٰ علیامیدگاہ خرد و کلاں مرتضےٰ علیمقصود خلق و خواہش جاں مرتضےٰ علیذکر روان و ورد زباں مرتضےٰ علیجو کچھ کہو سو اپنے ہیں ہاں مرتضےٰ علی

۲

اس کی ولا ہے باعث بہبود کائناتاس کی ولا ہی شرط پڑی ہے پئے نجاتکیا کیا نمود کرتے ہیں اتنے عجائباتوا ہو جو چشم دل تو تماشا ہے اس کی ذاتیکتاے عرصۂ دوجہاں مرتضےٰ علی

۳

ہرچند کام ایسی جگہ کیا کرے سمجھاس راز کو سمجھ جو سکے تو ارے سمجھیعنی نہ ذات پاک سے اتنا ورے سمجھعقل نخست سے بھی اسے کچھ پرے سمجھہے آں سوے خیال و گماں مرتضےٰ علی

۴

موجود اس کے ہونے سے روشن جہاں ہوااس پردے میں جو تھا پس پردہ عیاں ہوافرمان شاہ بحروبر ان پر رواں ہواپیر زمانہ دیدۂ عالم جواں ہواچشم و چراغ کون و مکاں مرتضےٰ علی

۵

شخصیت ایسی کس کی تھی کس کو تھا یہ شرفاس قدر سے تھا کون بغیر از شہ نجفاللہ رے زور کوئی نہ اس کا ہوا طرفدریاے موج خیز تھا اس کے کرم کا کفابن عم رسول زماں مرتضےٰ علی

۶

ہرچند ہے یہ عرصہ ہمیشہ سے پرغباریاران رفتہ کے بھی تردد ہیں یادگارلیکن کہاں یہ حربے کہاں ایسے مردکارنکلی نہ ویسی تیغ کہ جیسی تھی ذوالفقاردیکھا نہ تھا وہ جیسا جواں مرتضےٰ علی

۷

پامال راہ اس کے ہیں سرہاے پرغرورنزدیک اہل عقل کے رتبہ ہے اس کا دورشائستۂ سجود سمجھتے ہیں ذی شعورہے جملہ تن منزہ و سر تا قدم ہے نوراس بے نشاں سے دے ہے نشاں مرتضےٰ علی

۸

آیا ہے یہ جو شاہد غیبی شہود میںلایا ہے اس کو شوق ہی اس کا وجود میںانداز کیسے کیسے ہیں اس کی نمود میںگہ سر فرو نہ لاوے گہے ہو سجود میںہے خلوتی راز نہاں مرتضےٰ علی

۹

کب گفتگو انھوں سے ہے جن میں ہے بے تہیکاہے کو اس طریق پہ ہیں محو گمرہیختم رسلؐ کو قدر سے ہے اس کی آگہیقربان اس کے در کے گدا پر سے کی شہیخورشید چرخ عزت و شاں مرتضےٰ علی

۱۰

بارے چھپا ہو کوئی تو اس کو جتایئےجو بے بصر ہیں ان کے تئیں کچھ سجھایئےخورشید کو اشاروں سے کب تک بتایئےروشن ہیں سب پہ باتیں عبث کیا بنایئےحاجت نہیں بیاں ہے عیاں مرتضےٰ علی

۱۱

وہ جانے جس کو اور کسو سے کچھ ہووے کامشام و سحر یہاں تو وظیفہ اسی کا ناممیلان دل ہے میرؔ غرض اس طرف تمامسرمایہ دوجہاں کا ہے اپنا یہی امامیاں مرتضےٰ علی ہے وہاں مرتضےٰ علی

۵۴۵ / ۵۸۲