کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

مخمس در مدح حضرت علیؓ

۱

یاعلی شاہ اولیا ہے تومحرم راز اِنّما ہے توزور بازوے مصطفےٰؐ ہے تومظہر قدرت خدا ہے توعلم کس کو ہے یہ کہ کیا ہے تو

۲

گرچہ آخر کیا ہے تونے ظہورپر ترے قرب کا ہے رتبہ دورہے تو اللہ کا مجسم نورجانے ہیں جن کو کچھ ہے عقل و شعوراگلے پچھلوں کا پیشوا ہے تو

۳

تیرے پردے میں حق ہوا موجودتجھ سے کیا کیا عجب ہوئے مشہودجانتے ہیں تجھی کو سب معبودتھا زمین و زماں سے تو مقصودآرزو تو ہے مدعا ہے تو

۴

اس زمانے میں آہ دکھ ہے عظیمہے مری جان پر عذالب الیممستحق کرم ہوں میں تو کریمملتفت ہو بہت ہے حال سقیممیرے ہر درد کی دوا ہے تو

۵

فرصت وقت جوں حباب ہے کمحال مانند موج ہے درہمڈوب جاتا ہے جی مرا ہردمجوش زن گوکہ ہو محیط غمغم نہیں کچھ جو آشنا ہے تو

۶

تجھ سے ظاہر ہوئے چھپے سب بھیدجلوہ تیرے ظہور کا جاویدذرے ذرے کو تجھ سے ہے امیددن ہے طالع ہوا جہاں خورشیدسب پہ روشن ہے کیا چھپا ہے تو

۷

میرؔ کو کب تلک یہ رنج و غماس بھی اندوہ گیں کو کر خرممنبسط ہے ترا سحاب کرمیعنی سائے میں ہے ترے عالمسارے عالم میں چھا رہا ہے تو

۵۴۶ / ۵۸۲