کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مخمس در مدح حضرت علیؓ
یاعلی شاہ اولیا ہے تومحرم راز اِنّما ہے توزور بازوے مصطفےٰؐ ہے تومظہر قدرت خدا ہے توعلم کس کو ہے یہ کہ کیا ہے تو
گرچہ آخر کیا ہے تونے ظہورپر ترے قرب کا ہے رتبہ دورہے تو اللہ کا مجسم نورجانے ہیں جن کو کچھ ہے عقل و شعوراگلے پچھلوں کا پیشوا ہے تو
تیرے پردے میں حق ہوا موجودتجھ سے کیا کیا عجب ہوئے مشہودجانتے ہیں تجھی کو سب معبودتھا زمین و زماں سے تو مقصودآرزو تو ہے مدعا ہے تو
اس زمانے میں آہ دکھ ہے عظیمہے مری جان پر عذالب الیممستحق کرم ہوں میں تو کریمملتفت ہو بہت ہے حال سقیممیرے ہر درد کی دوا ہے تو
فرصت وقت جوں حباب ہے کمحال مانند موج ہے درہمڈوب جاتا ہے جی مرا ہردمجوش زن گوکہ ہو محیط غمغم نہیں کچھ جو آشنا ہے تو
تجھ سے ظاہر ہوئے چھپے سب بھیدجلوہ تیرے ظہور کا جاویدذرے ذرے کو تجھ سے ہے امیددن ہے طالع ہوا جہاں خورشیدسب پہ روشن ہے کیا چھپا ہے تو
میرؔ کو کب تلک یہ رنج و غماس بھی اندوہ گیں کو کر خرممنبسط ہے ترا سحاب کرمیعنی سائے میں ہے ترے عالمسارے عالم میں چھا رہا ہے تو
۵۴۶ / ۵۸۲