کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مخمس در مدح حضرت علیؓ
ہے حقیقت سے تو اگر آگہیاد میں روز و شب علی کی رہکعبہ اس کا ہی در ہے اے ابلہمیرے مولا کی ذات پاک ہے وہجس کو کہتے ہیں لا شریک لہ
اک تلطف میں خاک ساری زراک توجہ میں قطرہ آب گہراک نظر میں نہال خشک ہو تراک سخن میں تمام یہ بہتراعرج و اعمیٰ ابرص و اکمہ
ہاتھ پکڑے دم مصائب یہیار ہووے گہ نوائب یہہے غرض مظہر عجائب یہمستقل ہے نبیؐ کا نائب یہجو کہے سو یہ کچھ کرے سو یہ
ہر نفس لب پہ گفتگو اس کیہر زماں جی کو جستجو اس کیپوچھ مت کچھ ولا سے تو اس کیخواہش اس کی ہے آرزو اس کیمطلب و مدعا و مقصد وہ
شان ارفع تری فلک کردارایک ہے تو برابر دو ہزاراللہ اللہ ترا ثبات و قرارحلم سے تیرے کہتے تھے کہسارسن کے کبک دری ہنسے قہ قہ
دیکھے سب لوگ پھر کے چاروں دانگمردمی یاں کی ہے عجائب سوانگشخص ہمت کے ان کے ہاتھ نہ مانگمانگے ہے تو جو کچھ خدا سے مانگجو کہے ہے سو تو علی سے کہہ
شاد اس نام سے جو خوگر ہےاسم اعظم یہی مقرر ہےانس کرنا اسی سے بہتر ہےیہی جنت یہی تو کوثر ہےاس میں تو پھر بگاہ یا بیگہ
خلق سب دیکھے اس کے ہاتھ کی اورلے سلیماں سے مفتقر تا مورکف ہمت کی اس کے دھوم ہے زورظرف ہوتا تو یوں نہ کرتے شوربحر و عماں نکل گئے بے تہ
ہے وہ امیدگاہ خلق خداروز محشر اسی سے سب کو رجاوہ مروت شعار و جملہ حیابحر ذخار جود و کان عطااس سے نفع گدا تمتع شہ
مرتبہ کچھ نہ پوچھو اس گھر کابندگی یاں کی فخر قیصر کاشاہ چیں پیش دست قنبر کاآسماں ہے گدا اسی در کادیکھتے ہیں ادھر ہی مہر و مہ
اس کی ہمت اسی کو بن آوےدولت اس کی جہان سب کھاوےبار اس در پہ جو گدا پاوےایک آواز کرکے لے جاوےمال و اسباب و ملک و تاج و کلہ
میرؔ عازم ہوئے ہو کیدھر کےجو تلاشی ہو یار و یاور کےرہگرے دوستی حیدر کےنہیں محتاج ہوتے رہبر کےہے اسی راہ میں خدا ہمرہ
۵۴۷ / ۵۸۲