کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
عقل ہے تو مرا کہا کر تومحو یاد علی رہا کر تویک طرح یہ بھی ہے رہا کر تواشک رخسار پر بہا کر تویا علی یا علی کہا کر تو
نہیں ورد و وظیفہ کچھ درکارسبحہ گردانی سے کر استغفاراس کو جپنا ہے عاقلوں کا شعارچپکے چپکے ہو یا پکار پکاریا علی یا علی کہا کر تو
متفق اس پہ ہیں خواص و عوامکہ ولا اس کی معرفت ہے تمامہو نماز سحر کہ طاعت شامسر فرو کر پس از درود و سلامیا علی یا علی کہا کر تو
لحظہ لحظہ جدا ہے اس کی شاناس کی عادت مروت و احساندوستی اس کی عین ہے ایمانچلے جب تک زباں غنیمت جانیا علی یا علی کہا کر تو
ایسے مظہر کا فہم ہے دشوارہے یہ وہ ایک جس کے نام ہزارگرم تسبیح اس کے ہیں ابراراللہ اللہ کی جا بھی سو سو باریا علی یا علی کہا کر تو
وہی احیاکن عظام رمیموہی رحماں وہی رؤف و رحیمدم بخشش وہی رسول کریمگہ جرأت وہی علی عظیمیا علی یا علی کہا کر تو
جور انواع دشمنوں کے سہپر نہ کر یار گفتگو بے تہدوستی میں علی کی بیخود رہبات یہ ہے گی اور کچھ مت کہہیا علی یا علی کہا کر تو
اسم یہ ایک جو مکرم ہےسب کے نزدیک اسم اعظم ہےیہ سب اوراد پر مقدم ہےغرض اے ہم نشیں جو آدم ہےیا علی یا علی کہا کر تو
رہ ولاے علی کا خواہش مندہے یہ شیوہ خدا رسول پسنددب کے ہرگز نہ رکھ زباں کو بندپست کرنے کو مدعی کے بلندیا علی یا علی کہا کر تو
بدرآسا علی تمام ہے نورذات پاک اس کی ہے علیم صدوربھول مت اس کو گر تجھے ہے شعوریاد خاطر رہے ضرور ضروریا علی یا علی کہا کر تو
سونپ رکھ اس کو اپنی موت و حیاترحمت صرف ہے علی کی ذاتبس ہے اس کی ولا براے نجاتباتیں یوں سو ہیں پر یہی ہے باتیا علی یا علی کہا کر تو
شوق تیرے تئیں نہیں ہے ہنوزورنہ سینہ رہا کرے پرسوزاس طرح جیسے طفل نوآموزسیکھے جو حرف وہ کہے شب و روزیا علی یا علی کہا کر تو
ورد اوراد کا نہ لے تو نامشغل و اشغال چھوڑ بیٹھ تمامذکر اذکار سے تجھے کیا کامایک دو دم ہمیشہ صبح و شامیا علی یا علی کہا کر تو
خوف محشر سے میرؔ حال ہے کیایہ حواسوں کا اختلال ہے کیااس سے محشور رہ ملال ہے کیاہے علی تو یہ پھر خیال ہے کیایا علی یا علی کہا کر تو
۵۴۸ / ۵۸۲