کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
قدر کو میری بہت ہے برتریکب مری خورشید سے ہو ہمسریحکم بز رکھے ہے یاں شیر نریکر مخالف سوچ کر ٹک اژدریحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
منقبت خوانی سے میری سب ہیں سناس سوا مجھ میں نہیں ہے کوئی گنساتھ سر کے ہے علی گوئی کی دھنمدعی اس کان یا اس کان سنحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
شوق کامل سے تعجب ہے یہ کیاجو بدن ہو خاک سب بعد فنااور اس سے نے اگے سبزے کی جابرگ برگ اس کا کرے پھر یہ صداحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
تھا کبھو عاقل مخبط تھا کبھوگاہ کرتا گفتگو گہ جستجواب اخیر عمر ہے یہ آرزوایک دو دن ترک کر میں اور توحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
کل منافق ہوکے آیا بہبہاپھاڑے اپنے منھ کو جیسے اژدہاغار سا منھ کھولے بھیچک ہو رہامعرکے میں میں نے جو آکر کہاحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
دل میں میرے ہے تمناے کہنہو میسر اے خداے ذوالمننجس گھڑی ہوویں جدا جان اور تنہو مرے ہونٹھوں کے اوپر یہ سخنحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
ہے ولاے اہل بیت اپنا شعارجانے ہے اس کے تئیں سارا دیارزیر لب کہتا ہوں میں پر اب کی بارتو سہی جو میں کہوں سب میں پکارحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
رخت ہستی جائے رستم بار کرماروں اک مکا اگر تیار کرچپ رہیں موذی دلوں کو مار کرروز میداں گر کہوں للکار کرحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
اے مخالف بحث مت کر نابکاربات ایسے سے ہے مجھ کو ننگ و عاربس کہا اس آستاں کا ہوں غبارکیا کہا تجھ سے کروں میں بار بارحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
شیخ کو نسبت نہیں تجرید سےہے یہ خر جکڑا ہوا تقئید سےیہ عقائد ہوتے ہیں تائید سےگو کہا ان نے مری تقلید سےحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
اس عقیدے ہی پہ اپنے میں رہوںگو خوارج کے ستم اس میں سہوںبے ولا حیدر کے ہوں میں تو نہ ہوںلب ہلیں جب تک یہی تب تک کہوںحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
اب ہوا پیری سے ٹک میں مضمحلورنہ تھا یہ شور تا چین و چگلشوق میرا کچھ نہ تھا بے صدق دلرات دن رہتا تھا کہتا متصلحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
اے مرے سرمایۂ ہر دو جہاںعشق تیرا ہے مرے ہمراہ جاںہو اگر تن پر مرے ہر مو زباںبے گماں سرزد ہو اس سے ہر زماںحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
ہوں اگر یار و گدا و شاہ میںپر ہوں سر کار سے آگاہ میںدل وہیں ہے گو چلوں سو راہ میںمیرؔ جی باور کرو واللہ میںحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
۵۴۹ / ۵۸۲