کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ

۱

پارسا ہیں جو جواں پیر ہدیٰ کہتے ہیںجو ولایت رکھے ہیں شاہ ولا کہتے ہیںسالک مسلک دل راہ نما کہتے ہیںایک مولا کہیں ہیں ایک خدا کہتے ہیںیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۲

آفتاب فلک عز و علا تو ہی تھاچہرہ آراے زمیں اور سما تو ہی تھاجانشینی پیمبرؐ کے سزا تو ہی تھاقالب خاکی کے پردے میں خدا تو ہی تھایا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۳

ہے تری قدر سے بے ختم رسلؐ کون آگاہحبذا شان تری صل علیٰ تیری جاہزور سے تیرے اڑے کوہ بسان پر کاہوہ ثبات اس قد و قامت پہ یہ قدرت اللہیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۴

تجھ کو وہ خلوتی راز نہاں پاتے ہیںجس کو اب خلق میں ہر جاے عیاں پاتے ہیںافسر و تخت ترے در سے شہاں پاتے ہیںسر ترے سجدے کا شائستہ کہاں پاتے ہیںیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۵

پاشکستوں کی ہوئی کام روائی تجھ سےبستہ کاروں کی ہوئی عقدہ کشائی تجھ سےگھٹتی آئیں کی گئی ٹک نہ اٹھائی تجھ سےرہ گئی دین محمدؐ کی بڑائی تجھ سےیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۶

خشمگینی تری دشمن کے سر آفت لائیعمرو و عنتر نے سنبھلنے کی نہ فرصت پائیروکشی مہد میں اژدر سے نہ ٹک بن آئیزور و قدرت نے ترے قدرت حق دکھلائییا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۷

شور و ہنگامہ تھا کیسا ہی مٹایا تونےصبح محشر تئیں فتنے کو سلایا تونےدر خیبر کو دو انگشت سے ڈھایا تونےکاڑھ خورشید کو دوبارہ دکھایا تونےیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۸

عالم کون و فساد آکے کیا تونے پاکدہر گلزار ہوا جھڑ گئے خار و خاشاکدیو سرکش ہوئے آوازہ ترا سن کے ہلاکپردۂ قاف تلک پہنچی ترے زور کی دھاکیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۹

تھے قوی پنجہ ترے عہد میں سب جان سے سیربھیڑ بکری کی طرح خوف سے رہتے تھے دلیرہر زبردست زمانے کا رہا تیرا زیرتونے سلماں کے لیے توڑ دیا پنجۂ شیریا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۱۰

تجھ سے پایا نہ گیا بعد نبیؐ فاضل ترہے فضیلت تری قرآن سے ثابت سب پرقرب کیا تیرا بیاں کیجیے اے فخر بشرجس جگہ تو ہے تو وھاں جلتے ہیں جبریل کے پریا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۱۱

دوش پر رحمت عالم کے رکھا تونے پاخانۂ حق سے دیا شرک کی صورت کو مٹاعالم خاکی میں تھا مصلحتاً جلوہ نماعرش اعظم سے بھی تھی ورنہ پرے تیری جایا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۱۲

اے ترا مرتبہ بالاتر فہم و ادراکایک رتبے کے تئیں پہنچی ترے جلوے سے خاکہیں ترے شوق میں سرگشتہ شب و روز افلاکپر کہاں عالم خاک اور کہاں عالم پاکیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۱۳

اپنے اسرار کا تو آپ ہی کچھ دانا ہےورنہ کن نے تجھے جوں چاہیے پہچانا ہےایک فرقے نے تجھے روح قدس مانا ہےایک نے ذات مقدس تجھی کو جانا ہےیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۱۴

شان و شوکت تری کیا کہہ سکے عاجزتقریریعنی مداح ترا کیونکے ہو الکن ہے میرؔزیب دیتی ہے تجھی کو شہی کل امیرتیں فقیروں کے تئیں بخش دیے تاج و سریریا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

۵۵۰ / ۵۸۲