کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

عمر گذری ہوچکا آسودگی کا روزگار

۱

عمر گذری ہوچکا آسودگی کا روزگاررنج و محنت کے تئیں آرام سے ہے ننگ و عار

۲

معرکہ ہے یک طرف دونوں ہوئے ہیں سامنےزخم دل کی یہ ہنسی وہ گریۂ بے اختیار

۳

مجہلہ ہے گتھ رہے یک طرف ہیں کتنے جو یہصبر سے بے طاقتی دل اور درد بے شمار

۴

عاشقی جب کی تھی میں نے تب نہ تھیں یہ خواریاںکیا کہوں کیا کچھ دکھاتا ہے مجھے اب ہجر یار

۵

سینہ دیکھو چاک منھ ناخن سے سب نوچا ہواآنکھیں دیکھو ڈوبی خوں میں جی کو دیکھو بے قرار

۶

اے کہ گفتی عشق را درماں بہ ہجراں کردہ اندکاش می گفتی کہ ہجراں را چہ درماں کردہ اند

۷

اک کنارے وے تو جو ہیں گے زمیں کے زیر یاںخاک پر بسمل پڑے ہیں کیسے کیسے شیر یاں

۸

دو قدم پر ہے یہ ہنگامہ ترے کوچے کے بیچآ شتابی کچھ نہیں لگنے کی تجھ کو دیر یاں

۹

منھ پہ کھانے والے تلواروں کے بھوکے موت کےسینکڑوں یک جا ہیں وے جینے سے تھے جو سیر یاں

۱۰

دھڑ نہیں سر ہی پڑا ہے سر نہیں تو دھڑ ہی ہےہیں زیارت کردنی صد کشتۂ شمشیر یاں

۱۱

غم زدے بے خانماں بے وارثے بیکس غریبزخموں کے دامن لے منھ پر ہو رہے ہیں ڈھیر یاں

۱۲

گر تو ہم آئی پئے طوف شہیداں دور نیستگریہ می آید دریں جا راہ چنداں دور نیست

۱۳

لے لپیٹ ایک آن میں وحشت سے یہ سارا جہاںخاک اڑا ہر ایک دم میں کارواں در کارواں

۱۴

تیرہ کر عالم کو رہ سرمایۂ گرد و غبارچشم ما روشن تو ہو آوارۂ کون و مکاں

۱۵

یمن بخشے طے کیا کرنا زمیں کا تیرے تیںکھینچنا سر کا مبارک ہو تجھے تا آسماں

۱۶

لیکن اتنا بھی برآشفتہ نہ ہوجانا کہیںپیش رو رکھتے ہیں سارے خاطر واماندگاں

۱۷

سو خدا ناکردہ ہم کہتے نہیں اس راہ سےکوئی دم وقفہ کرے یا دیر ہووے تجھ کو یاں

۱۸

یک قدم اے گرد باد دامن صحرا بایستدر قفا ماندہ ست مشت خاک ما تنہا بایست

۱۹

گرچہ ہجراں میں ترے جاتا تھا جی میرا چلاپر یہ تھا دل میں کہ شاید دیوے تو داد وفا

۲۰

وصل خاطرخواہ تو معلوم تھا میرے تئیںآس دل کو لگ رہی تھی جب تلک تھا میں جدا

۲۱

گاہ باشد رحم کو بھی کام فرماوے وہ شوخدیکھ مجھ ناکام کو یک دم کرے ترک جفا

۲۲

ایک ساعت پاس بیٹھے درد دل میرا سنےکرکے غم خواری کہے یہ تیرے تیں کیا ہوگیا

۲۳

سو تو یہ سب ہوچکا اے کاشکے ملتا نہ توایسے آجانے کا تیرے کون یاں مشتاق تھا

۲۴

آمدی و حسرت وصل از دلم برداشتیحسرتے بود از وصال آں ہم بہ من نگذاشتی

۲۵

ہیں خرابے آج جتنے کل یہ تھے لوگوں کے گھرمت بناے خانہ میں منعم رہا کر اس قدر

۲۶

طاق کسریٰ تو سنا ہوگا کہ کیسا تھا محلاب کہیں اس طاق کا کسریٰ کے پیدا ہے اثر

۲۷

گھر کا صاحب تو اڑایا کرکے یکساں خاک سےاینٹ مارے اینٹ سے یہ کچھ ہوا اس گھر اپر

۲۸

خط باطل سے لکھا ہے صفحۂ کون و مکاںکیوں دماغ اپنا جلاتا ہے رہے ہے تو کدھر

۲۹

کیسے کیسے خانوادے خاک میں یاں مل گئےجاے عبرت ہے یہ معمورہ جہاں کا بے خبر

۳۰

ہرکجا افتادہ بینی خشت در ویرانہ اےہست فرد دفتر احوال صاحب خانہ اے

۳۱

کم بہت سننے میں آتا ہے کوئی رنجور ہےیا کسی مجروح کا زخم جگر ناسور ہے

۳۲

روشنی آنکھوں کی ہے منظور ساری خلق کوقوت دل کا جدھر دیکھو تدھر مذکور ہے

۳۳

ہم کنے بھی تھے یہ دو آتش کے پرکالے کبھوان سے ہم ایذا جو کھینچی ہے کسے مقدور ہے

۳۴

ایک نے مارا چھڑک کر جی سے ہم کو آب داغایک نے جیسا جلایا اب تلک مشہور ہے

۳۵

ہم کو حیرانی ہے اس میں جس کو سنتے ہیں اسےان ہی دونوں آفتوں کی پرورش منظور ہے

۳۶

ما سرشک گرم و آہ آتشیں دیدیم و بسبہرہ اے کز چشم و دل دیدیم ایں دیدیم و بس

۳۷

دل نہیں مجھ کو ملا یہ کوئی جی کا ہے وبالگفتنی ہو تو کہوں اے میرؔ میں کچھ اس کا حال

۳۸

خودبخود گھٹتا ہی جاہے آرزو کیا ہے اسےچاہتا ہے سیم و زر یا کوئی دلبر خوش جمال

۳۹

یاد میں میری ہوا ہو کچھ سبب تو ہے بجاعشق بازی مفلسی آزردگی رنج و ملال

۴۰

نے کسو کے گیسو و کاکل کا وابستہ ہوں میںنے کسی کے چاند سے مکھڑے کا مجھ کو ہے خیال

۴۱

کیا کروں ایذاے بے موجب غرض تجھ سے بیاںنے غم و درد جدائی ہے نہ اندوہ وصال

۴۲

نیستم عاشق بظاہر لیک می کاہد دلمعمر بگذشت و نمی دانم چہ می خواہد دلم

۵۵۱ / ۵۸۲