کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسین

۱

نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسیندم ایک اور ہے اب میہماں امام حسینچراغ آخر شب ہے گا یاں امام حسینسحر نمود ہوئی پر کہاں امام حسین

۲

فلک نکالی نئی گردش اب کے اے خوں خوارکہ قتل ہوتے ہیں ابن علی کے خویش و تبارہوئی ہے اول مہ میں کچھ اور لیل و نہارگھٹے ہے بدر نمط ہر زماں امام حسین

۳

سفر مدینے سے گویا کہ تھا بلا کا سراقدم جو راہ میں رکھا تو ہائے پھر نہ پھراملا نہ قطرۂ آب اور لوہو اس کا گراہوا تھا کس گھڑی واں سے رواں امام حسین

۴

نبیؐ نے برسوں تئیں جس کا ناز اٹھایا تھاعلیؓ نے آنکھوں پہ مدت جسے بٹھایا تھاجسے کہ مہد میں جبریل نے جھلایا تھاوہ خاک و خون میں اب ہے طپاں امام حسین

۵

مصیبت اس کے تئیں طرفہ پیش آئی ہےاکیلا دشت میں ہے پیاس ہے لڑائی ہےنہ کوئی یار ہے نے خویش ہے نہ بھائی ہےرہا ہے بیکس و بے مہرباں امام حسین

۶

تمام شکل نبیؐ ہی کا تھا علی اکبراسی کو دیکھتے مشتاق روے پیغمبرؐہوا برابر خاک سیہ وہ گوہر تردیا ہے ہاتھ سے کیسا جواں امام حسین

۷

فرات خاک سر اس کے کہ جس کا ایسا آبکہ جس سے موجیں اٹھیں با ہزار پیچ و تابتمام بادیہ کے وحش و طیر ہوں سیرابدکھاوے تشنہ لبی سے زباں امام حسین

۸

بھتیجا یوسف ثانی تھا جس کو کھو بیٹھابغل میں اصغر ناداں کو لا کے رو بیٹھاحشم خدم سبھی سے ناامید ہو بیٹھامحل رحم تھا بے خانماں امام حسین

۹

پیاس حد سے زیادہ تھی ہائے دم نہ لیاتمام آب کا خنجر کی ایک گھونٹ کیارضا میں مر ہی گیا آنکھ موند کر نہ جیاشہید تیغ ستم پیشگاں امام حسین

۱۰

کوئی نہ دادگر و دادرس جو دیوے دادستم اس ایک پہ واں ہورہا تھا حد سے زیادبلند چاروں طرف سے ہوئی تھی تیغ عنادتلف دریغ ہوا درمیاں امام حسین

۱۱

ہوا جو قتل شہ کم سپاہ دیں مہجورپڑا تھا خاک کے اوپر نپٹ ہی بے دستورجگر کے ٹکڑے پڑے لعل پارہ سے تھے حضورگیا ہے دیکھ کے کیسا سماں امام حسین

۱۲

کہوں سو شام کے لوگوں کی کیا مروت کوپھر ان کے آنکھ چھپانے کو یا قساوت کوچلے ہیں قبلہ کو رو کرکے سب عبادت کوہوا ہے ذبح ابھی ناتواں امام حسین

۱۳

عجب عبادت حق پر تھے مستعد ناسازشتاب قتل نبی زادہ بیچ کر غمازنماز کرنے کو دوڑے تھے سب یہ کیسی نمازپڑا تھا خاک میں خوں میں عیاں امام حسین

۱۴

سر آفتاب کا دیں کے کیا روانۂ شامکفن بغیر رکھی خاک و خوں میں لاش امامپھرا کی مضطرب الحال روح خیرانامپڑا تھا بے سر و ساماں جہاں امام حسین

۱۵

جھڑے کٹے یہ گل و بوٹے سارے دل افروزپسر برادر و قاسم دلوں میں جن کے سوزگیا تو جان سے پر خوب سیر کی دس روزچمن میں اپنے بہار خزاں امام حسین

۱۶

کہیں تھے عترت احمد کے دل جلے رو روچراغ اب نہ رہا گھر میں عابدیں بن سووہ قیدی شام کو جاتا ہے دیکھیے کیا ہوگیا ہے ہم سے تو دامن فشاں امام حسین

۱۷

ہوا جو لاشۂ مظلوم پر سے ہوکے گذارقیامت ایک ہوئی عترت نبی سے دوچارپکارا دیکھتے ہی رو کے عابد بیماررہا تھا ایک میں تیرا نشاں امام حسین

۱۸

عناں ہے ابلق ایام کی فلک کے ہاتھکہوں سو کیا کہوں بنتی نہیں ہے کوئی باتیہ کاش جان سبک کھوئی ہوتی تیرے ساتھگلے میں طوق ہے میرے گراں امام حسین

۱۹

مژہ میں لخت جگر اپنے میں پروتا ہوںکباب آتش غیرت کے بیچ ہوتا ہوںحرم کے لوگوں کو میں دیکھ دیکھ روتا ہوںپھر اس پہ ان کی یہ آہ و فغاں امام حسین

۲۰

پڑا جلے ہے ترا لاشہ دھوپ میں مظلوماسیر کرکے مجھے لے چلی ہے قوم شومکفن کی فکر جو کرجاؤں تیری سو معلومہو آفتاب ترا سایہ باں امام حسین

۲۱

خدا کو سونپ کے اس بے کفن کو وہ بے دلگیا یہ کہہ کے کہ بابا ہے سخت یہ مشکلجرس کے طرز میں نالاں ہوں ساتھ تا منزلگیا ہے چھوڑ کے تو کارواں امام حسین

۲۲

فلک نے کی نہ مدد اب بھی ان غریبوں کیخراب ہوتی نہ مٹی جو بے نصیبوں کیتسلی ہوتی رہی باقی ناشکیبوں کیہوا نہ زیر زمیں بھی نہاں امام حسین

۲۳

خبر بھی ہے تجھے کس کا لہو پیا ہے تیںچراغ خانۂ حیدر بجھا دیا ہے تیںکرے گا نفع نہ محشر کو جو کیا ہے تیںگیا ہے کھینچ کے جی کا زیاں امام حسین

۲۴

قیامت ایک نمودار ہوگی محشر کوسخن میں لاویں گے جب اس جوان بے سر کوعجب نہیں ہے جو بے تابی آوے داور کوکرے گا گر یہ مصیبت بیاں امام حسین

۲۵

تمھارے لطف سے خاطر میں میرؔ کے ہے نہاںکہ روز حشر کو ہووے رکاب ہی میں رواںصف نعال جوانان کربلا ہو جہاںملے اسے بھی اسی جا مکاں امام حسین

۵۵۲ / ۵۸۲