نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا
کیوں غرق خون ہوکے ہمیں تو ڈبو گیاکیوں ہم سے بے علاقہ و فارغ سا ہوگیامیداں میں کارزار کے کیا آکے سوگیاآیا نہ پھر جو گھر کی طرف تو گیا ہوا
About this couplet
This is couplet 12 of 32 in “نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۲ / ۳۲