نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا

روتی ہے جب سکینہ تو روتا ہے زار زارآخر کو گر پڑے ہے وہ بے تاب ڈاڑھ مارجاتی ہے چھوٹ ہاتھ سے اونٹوں کی گر مہارکیا کیا سنے ہے غیروں سے چھاتی جلا ہوا

About this couplet

This is couplet 17 of 32 in “⁨نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۷ / ۳۲