کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
موہنی بلی
ایک بلی موہنی تھا اس کا نامان نے میرے گھر کیا آکر قیام
ایک دو سے ہوگئی الفت گزیںکم بہت جانے لگی اٹھ کر کہیں
ربط پھر پیدا کیا میرے بھی ساتھدیکھتی رہنے لگی میرا ہی ہاتھ
آئے ہے مجھ پاس یہ اٹھ کر سویرگربۂ زرد فلک نکلے ہے دیر
یعنی وقت گرگ و میش آئے ہے پاسپھر مرا پہروں کیا ہے ان نے پاس
چھیچھڑا ٹکڑا جو کچھ پایا کرےفقر میرا دیکھ کر کھایا کرے
بختوں سے ٹوٹا ہے چھینکا بھی اگران نے اودھر کی نہیں مطلق نظر
دخل کیا ہے جھانکے یہ چھینکے کی اورٹکڑے کو دیکھے نہ گو بھوکی ہو زور
اس مروت پیشہ سے کیا ہے گلہخوف سے آپھی گہے چوہا ملا
ایک بلی کچھ گئی تھی آکے چکھیہ لڑی تو منھ پہ پنجہ اپنے رکھ
برسوں یاد آوے گی یہ پاکیزہ خوآگے آئی ہی نہیں چلتے کبھو
لانگھی ہو جو گھر سے جاتے تد رہوںچلتے چھینکا ہو کبھو تو کچھ کہوں
تھی جو ظاہر جوں کڑاہی تیرہ رنگپر تماشا کردنی تھے اس کے ڈھنگ
شوق میں ہمسائیاں اس کے رہیںجو گئی بھی ٹک تو مانگے سے کہیں
پھرنے کو تو پھرتی کیا دلی نہ تھیپر جلے پاؤں کی یہ بلی نہ تھی
رفتہ رفتہ کوٹھوں پر جانے لگیپہروں پہروں میں یہ پھر آنے لگی
حاملہ ہوکر کئی بچے دیےایک دو بھی سو نہ ان میں سے جیے
متصل ایسا ہوا جو اتفاقمرگ ان بچوں کی گذری سب پہ شاق
حفظ اس کی کوکھ کا لازم ہواجھاڑے پھونکے کا ہر اک عازم ہوا
نذریں مانیں نقش لائے ڈھونڈھ کرنیل کے ڈوروں میں باندھے پیٹ پر
چھیچھڑوں میں بعضوں نے افسوں لکھےبعضوں نے تعویذ لے کر خوں لکھے
بی بلائی سے بہت کی التجاگربۂ محراب سے چاہی دعا
گوشت کی چیلوں کو پھینکیں بوٹیاںماش کی موٹی پکائیں روٹیاں
لڑکیاں بٹھلائیاں کھاٹوں تلےاس طرح جوں دبکی بلی کم ہلے
دیتے ٹکڑا منھ کو ہر اک کھولتےاور بولی بلیوں کی بولتے
صدقے اترے چھیچھڑے جو ڈھیر ڈھیرگربۂ لاوہ نے کھائے ہو کے سیر
کیں مناجاتیں دل شب لاتعدگربۂ زاہد سے بھی چاہی مدد
بوہریرہ کے تئیں مانا بہتبلیوں کو بھی دیا کھانا بہت
مدح جس بلی کی کرتا تھا عبیدتھی دعاگوئی میں وہ بے مکر و شید
خواجہ عصمت کرتے تھے طاعت جہاںایک بلی بیٹھی تھی آکر وہاں
صبح دم ہوتی وہی گرم سجودگہ قیام اس کے تئیں تھا گہ قعود
چاہی ہمت اس سے اٹھ کر ہر سحرکچھ تو باطن نے کیا اس کے اثر
پانچ بچے اس نے اس نوبت دیےبارے سب وے قدرت حق سے جیے
کیوں نہ ایسی ہووے امداد سترگبی بلائی بوہریرہ سب بزرگ
اک توجہ رکھے تھے ظاہر کی اورآرزو بر لائے یہ باطن کی زور
اپنی ماں کے رات دن سینے لگےپانچوں بچے دودھ کچھ پینے لگے
دودھ کتنا جو کہ بس ہو سب کے تیںمیں بھی منگوانے لگا کچھ شب کے تیں
دودھ پی کر گائے بکری کا چلےروز و شب لوگوں کی آنکھوں کے تلے
دیر میں میں نے جو یہ ٹک غور کیبلیاں پانچوں ہیں یہ اک طور کی
دو مہینے تک بہت تھی احتیاطکتے بلی سب سے موقوف اختلاط
کوئی کتا آگیا ایدھر اگرلوگ دوڑے شیر سے منھ پھاڑ کر
در سے نکلیں سب ہوئے بازی کے گرمزرد زرد ان کی دمیں منھ نرم نرم
لچھے ریشم کے سے چندیں رنگ خالکچھ سفید و کچھ سیہ کچھ زرد و لال
آ نکلتی تھیں جدھر یہ پانچ چاروہ طرف ہوجاتی تھی باغ و بہار
ایک عالم عاشق و بے تاب تھاان کی خاطر بے خور و بے خواب تھا
لے گئے ایک ایک کر سب تین تومنی مانی رہ گئیں مجھ پاس دو
منی کی پھر ایک صاحب نے پسندتھی بھی نازک ایسی ہی طالع بلند
مانی کچھ بھاری تھی نکلی بردباررہ گئی یاں فقر کو کر اختیار
بوریے پر میرے اس کی خواب گاہدل سے میرے خاص اس کو ایک راہ
میں نہ ہوں تو راہ دیکھے کچھ نہ کھائےجان پاوے سن مری آواز پاے
سب سے آگے آن پہنچے در تلکدیکھے میرے پاؤں سے لے سر تلک
آنکھ سے معلوم ہو مشتاق ہےبلی یا اعجوبۂ آفاق ہے
بلیاں ہوتی ہیں اچھی ہر کہیںیہ تماشا سا ہے بلی تو نہیں
گردرو باندھے تو چہرہ حور کاچاندنی میں ہو تو بکا نور کا
گرم شوخی ہو اگر یہ مثل برقبجلی میں اس میں نہ کچھ کرسکیے فرق
یا پری اس پردے میں ہے جلوہ گراٹھتی اودھر سے نہیں ہرگز نظر
کیسی ہی بلی ولایت کی ہو زورخوب دیکھو تو ہے اس کے صدقے حور
ربط ہے اپنے بھی جی کو اس کے ساتھبیٹھے ہے تو پیٹھ پر میرا ہے ہاتھ
ایک دن جاکر کہیں ٹک سو گئیمانی مانی سارے گھر میں ہوگئی
بلی کا ہوتا نہیں اسلوب یہہے کبودی چشم یک محبوب یہ
دیکھے جس دم یک ذرا کوئی اس کو گھورچشم شور آفتاب اس دم ہو کور
حسن کیا کیا مانی کے کریے بیاںسو جہاں جب تک یہ ہووے درمیاں
خوبی منی کی نہ کوئی کہہ سکےدیکھے اس کو تو نہ اس بن رہ سکے
داغ گلزاری سے اس کے تازہ باغاس زمان تیرہ کی چشم و چراغ
کیا دماغ اعلیٰ طبیعت کیا نفیسکیا مصاحب بے بدل کیسی جلیس
یہ نفاست یہ لطافت یہ تمیزآنکھ دوڑے ہی نہ ہو کیسی ہی چیز
اس کو گر کعبے میں یہ ہو شوخ و چستہے کبوتر مارنا واں کا درست
چوہا چڑیاں ان نے کچھ کھایا نہیںحج کو جانا اس کے تیں آیا نہیں
حب ہرہ جوکہ ہے ایمان میںہے اسی بلی کی شاید شان میں
تھا بہت منی کا جننا آرزوسو جنی دو بلیاں ہیں ماہ رو
خال ہیں ان پر بھی ماں کے سے عیاںپر وہ خوبی اور محبوبی کہاں
موہنی اور سوہنی ہے ان کا نامپھرتی ہیں پھندنا سی دونوں صبح و شام
نیلے دھاگے گردنوں میں ہیں پڑےلوگ آنکھوں میں ہی رہتے ہیں کھڑے
حفظ ابھی بلوں سے ان کا ہے ضروررہیو ان دونوں سے چشم شور دور
دیکھے ان کی اور جو ٹک کرکے خشمکاڑھ کر دیں بلیوں کو اس کی چشم
قصہ کوتہ موہنی آگے موئییک قیامت جان پر اس بن ہوئی
صبر بن چارہ نہ تھا آخر کیابلی ماروں میں اسے گڑوا دیا
شاد وہ جس کے رہیں قائم مقاموائے اس پر جس کسو کا لیں نہ نام
۵۵۴ / ۵۸۲