کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مورنامہ
دشت سے بستی میں آیا ایک مورزور تھا واں حسن کا رانی کے شور
اڑ کے گھر راجا کے پہنچا بے قراردیکھ اس کو ہوگیا حیران کار
جاذبہ تھا حسن کا اس کے کمالجانور بھی ہوگیا محو جمال
تھی نگہ رخسار پر حیرت کے ساتھچشم تھی رفتار پر الفت کے ساتھ
گر خرام ناز سے جی لے گئیخوش نگاہی جان تازہ دے گئی
خستۂ انداز اس کا ہر بشررفتہ اس کے ناز کا ہر جانور
دیکھتا تھا سیر میں جلوہ گریجا نشینہ میں جو بیٹھی وہ پری
روبرو جاکر ہوا وہ بھی کھڑاٹک ٹھہر کر مضطرب ہو گر پڑا
اضطراب عشق نے تاثیر کیدل دہی کرنے اٹھی دل گیر کی
پیار سے کہنے لگی مت ہو اداسپاس رہ میرے کروں گی میں بھی پاس
تو ہے وحشی اس قدر مانوس ہےانس انساں کو نہ ہو افسوس ہے
ہے مزاج اپنے پرائے سے نفوربھاگوں ہوں مانند وحشی سب سے دور
پاس رہنے سے ترے ہے دل خوشیہے بلا اس بال و پر میں دلکشی
اس کشش کی تھی نہ مجھ کو کچھ خبرہوش اڑا کر لے گئی یہ مشت پر
اب تو دل بھی لگ گیا ہے تیرے ساتھیک بیک سب سے اٹھایا میں نے ہاتھ
پاس رہ کر پاس ظاہر ہے ضرورآوے راجا گھر میں تو پھر دور دور
وہ مبادا ربط سے ہو بدگماںدوستی ہو جاوے تیری خصم جاں
رنگ رنگ اس عشق کے ہیں گے سلوکرنگ ہردم بدلے ہے کین ملوک
رنگ صحبت دیکھ کر رنگ اور لائےاس کو چسپاں اختلاطی خوش نہ آئے
دل ہی راجا کا جو بدبر ہو تو پھرترک ہی کرنا پڑے دونوں کو سر
دل بلاے بد ہے جو چاہے کرےکچھ نہیں پروا اسے کوئی مرے
دل نہ ہوتا تو نہ جاتی دل کی تابدل بدن میں ایک ہے خانہ خراب
دل سے کیسے کیسے گھر ویراں ہوئےلوگ کیا کیا بے سر و ساماں ہوئے
دل اچٹے شہ فقیری کر گئےجنگلوں میں شہر سے جا مر گئے
مرغ گلشن دل لگی آئے بگیربے کلی سے اس کے ظاہر ہیں اسیر
دل نہ ہوتا کاشکے اجسام میںکرنی تھی ایسی عطا اجرام میں
کرتے تا معلوم قدر عافیتہوتی اس عالم کی بھی ایسی ہی گت
مختلط رہنے سے بعد ازچند روزشور بدنامی اٹھا اک سینہ سوز
کھل گئی غماز لوگوں کی زباںسب پہ ظاہر ہوگیا راز نہاں
کان راجا کے بھرے دشمن ہوابدگمان و بدبر و بدظن ہوا
کار ظن بد کھنچا اک طول کوسمجھا نامعقول وہ معقول کو
اب یوں ہی کرتا ہے ظاہرداریاںورنہ ہیں کینہ کی باتیں ساریاں
دھوم رسوائی کی ہوئی اقران میںکسر شاں اس کی ہوئی اعیان میں
آنا جانا گھر میں کا اب ہوچکاپاس ربط و رابطہ سب ہوچکا
بدگمانی سے ہوا ہے کینہ ورزہے نمودار آنکھ سے خصمی کی طرز
گھر میں لاتے ہیں کبھو تو گھیر کربات کہتا ہے تو منھ کو پھیر کر
راہ میں ہے یا کبھو پھر جائے ہےپھر گیا تو دیر میں پھر آئے ہے
چار سو چھوٹے ہوئے جاسوس ہیںہم دگر کے درپئے ناموس ہیں
مصلحت ہے دور رہ ٹک آج کلاس میں شاید مٹ بھی جاوے کل مکل
سر پہ لایا ہے بلا آفت کا ربطجی بچے ہیں شوق کا گر ہووے ضبط
دل لگی تو اک خدا کا ہے غضباس سے پھر یارب ہے لب پر روز و شب
دل گرفتہ دل شکستہ دل زدہان نے مارے مرد کیا کارآمدہ
بے دلاں بے دل رہے تو خوب ہےتن بدن میں ایسے اک آشوب ہے
دل کے جائے ہی ملے ہے امتیازاہل دل کہتے ہیں جو ہو دل گداز
دل بلاے جاں ہے اے طاؤس ہائےاس کے پہلو سے ہے لب پر ہائے وائے
ہے گی یہ دل بستگی خانہ خرابدربدر پھرنے کا کر دیوے ہے باب
خانہ ویرانی نہیں میری ہی ابہے خرابی جہاں کا دل سبب
اپنے تو گھر بار کا ہے ہی فسوسگھر ترا بھی ویسے ہے بار خروس
کیا اڑایا ہے تجھے اے مشت پرخاک سے لے کر گیا افلاک پر
واں سے پٹکے دیکھیے کیونکر تجھےساتھ آوارہ کرے کیدھر مجھے
سن کھڑا طاؤس سب سنتا رہادرد و غم سے دیر سر دھنتا رہا
بے زبانی تھی نہ کچھ کہنا بناچپکے ہی آزردہ دل رہنا بنا
حزن کے ساتھ اک حزیں آواز کیگرتے پڑتے دوقدم پرواز کی
دیر سر دیوار سے مارا کیاصبر سے ناچار پھر چارہ کیا
پاس سے کچھ دور ہی رہنے لگاجور ہجر یار کے سہنے لگا
بے دل و آزردہ گاہے ہے کھڑاسر جھکائے گاہ یک سو ہے پڑا
مضطرب ہو شور کرتا ہے گہےدل پہ رکھ دیتا ہے سر تا ٹک رہے
دور دور اس سے پھرے الفت کے ساتھپھر کے دیکھے اس طرف حسرت کے ساتھ
آوے راجا یا نہ آوے یہ گیاصبر کرنا اس کو اس بن ہے بنا
نوشکیبی دل لگی پر ہے عذابجی ملے ڈالے ہیں غم کے پیچ و تاب
عشق و بے صبری بہت مشکل ہے کاممرگ عاشق کا ہے یہ بھی ایک نام
جی کے گھبرائے ہوا تھا پرفشاںطاقت پرواز اس میں تھی کہاں
فرط دل تنگی سے ہوکر دل گرااک پرافشانی میں سر کے بل گرا
پاؤں میں نے زور تھا نے سر میں شورناتواں طاؤس تھا مانند مور
دوڑی محبوبہ یہ اس کا حال دیکھرہ سکی نہ عاشقانہ چال دیکھ
اشک ریزاں سر پہ اس کے رو رکھاخوف طعن خلق کا یک سو رکھا
ہو تسلی جاتے بارے رہ گیاجان کا بھی ڈر کنارے رہ گیا
چشم وا ہونے لگی اس زار سےکی نظر رانی کے منھ پر پیار سے
سب لگے کہنے کہ اب تو یہ جیاجان رفتہ نے منھ ایدھر پھر کیا
ہوگئی چتون بھی اس کی اب درستپانی چھڑکو تاکہ ہووے گرم و چست
چھرچھراوے پانی چھڑکے بال و پراڑچلا رانی کا کہنا یاد کر
کی نظر جاتے ادھر الفت بھریالفت ایسی جوکہ ہو حسرت بھری
اس نظر سے رانی نے بھی رو دیاہوش سر سے صبر دل سے کھو دیا
روتے روتے خواب گہ میں جا گریپھر نہ اس گھر میں کوئی دن آ پھری
یہ گیا ہو پرفشاں دیوار پربیٹھا لیکن منھ ادھر سے پھیر کر
لوگ تا جانیں کہ یہ بھی ہے اداسپھر نہ آوے شاید اب رانی کے پاس
واں سے اڑ کر ایک کوٹھے پر گیاگم ہوا واں ایسا جیسے مر گیا
یاں کھلی نمام لوگوں کی زباںکہتے تھے راجا سے جا کیا کیا نہاں
اختلاط ان دونوں کا ظاہر کیااس حقیقت کا اسے ماہر کیا
وہ تو کافر آگے ہی تھا سنگ دلاور ان کے کہنے سے ہو تنگ دل
کہہ اٹھا میں فکر میں ہوں آج کلصاف دیتا ہوں مٹا سارا خلل
جان سے ماروں گا میں اس مور کوپھر نہ سنیے گا کبھی اس شور کو
ہے یہی ہنگامہ آرا جانورقطع کے شایاں تھے اس کے بال و پر
تا نہ آتا شہر میں یہ دشت سےباز رہتا ایسے سیر و گشت سے
یوز کاش اس کو کوئی کرتا شکارشیربچہ اس کو رکھتا کوئی مار
چشم سے ہردم پڑا ٹپکے ہے زہراس کی چتون ہے بلاے شہر و دہر
کج خرامی کا ہے فتنہ پیش خیزچلنا اس کا جوں چلے شمشیر تیز
مت اسے حیوان صاحب جانیوبدبلا اس کو کہیں تو مانیو
رقص سے ہنگامہ پردازی کرےپرفشاں ہو تو بداندازی کرے
بولے تو آواز اس کی دل خراشکرم خوار و مار خوار و بدمعاش
رانی تھی ناقص جو خود مائل ہوئیمفت لعن و طعن کی قائل ہوئی
بن ملے اس کے رہے ہے وہ اداسمیں کھڑا رہنے نہ دوں اپنے تو پاس
گھر میں آکر ان نے جو کی بود و باشتھی اسے خانہ خرابی کی تلاش
رانی نے جو منھ لگایا سر چڑھاقدر سے مقدار سے آگے بڑھا
پاؤں پھیلا گھر کا مالک ہوگیااس روش سے اپنا ہالک ہوگیا
اب نہ کریے اس کے تیں جب تک ہلاکگھر نہیں ہوتا نظر آتا ہے پاک
اس میں گو رانی بھی جاوے جان سےوہ بھی خوش ہو میری کسر شان سے
فکر میں طاؤس کی راجا رہامنھ پہ رانی کے نہ ہرگز کچھ کہا
کی تسلی اور تا کھاکر فریبہو شکیبا کوئی دن یہ ناشکیب
قصہ کوتہ اڑ گیا یاں سے جو مورمنھ چھپا ایسا گیا جیسے کہ چور
کس طرف جاتا رہا ہو پرفشاںکچھ نہ پیدا پھر ہوا اس کا نشاں
کچھ خبر اس کی نہیں کیدھر گیایاں کہیں جیتا ہے وہ یا مر گیا
یہ تاسف رانی کا جی کھا گیادل جو اس کا گل تھا سو مرجھا گیا
کس سے پوچھے کس کنے جاکر کہےجوں خزاں کا پھول مرجھائی رہے
کیا بہار عشق کے دیکھے ہے رنگزرد اس کا ہے گل تر دل ہے تنگ
آنکھیں اس کی دو گل عنبر عجبسو خبر کی راہ پر وا روز و شب
آوے جو کوئی منھ اس کا تک رہےدیکھیں حیرانی اسے کب تک رہے
وہ تو گم گشتہ کہیں پیدا نہیںیاں تسلی یہ دل شیدا نہیں
بے کلی اس گل کو رہتی ہے کمالرنگ اڑے ہے مور کا کرتے خیال
ہوش سر سے جائے ہے پرواز کرہوتی ہے بے خود حزیں آواز کر
غش پڑی رہتی ہے اس اوسیر میںپھر بحال آتی ہے ٹک تو دیر میں
دل کی حالت ہے وہی اندوہ میںوہم لے جاتا ہے دشت و کوہ میں
کہتی رہتی تھی کہ اے باد سحرلا کبھو طاؤس کی مجھ کو خبر
جی اسے ڈھونڈے ہے پر پاتی نہیںاڑتی سی بھی یاں خبر آتی نہیں
دل انھیں دو طرحوں میں ٹھہرے صبایا اسے لا یا مجھے واں لے کے جا
ناقبول عشق ہوں میں تو ملولاس طرف آتی ہے گر باد قبول
سن کے میرا حال ہوجاتی ہے سنگرم رفتن ہوتی ہے پھر سر کو دھن
کام اس سے بھی نکلتا کچھ نہیںمجھ کو وہ ناکام چھوڑے ہے یہیں
آئے ہے جو اس طرف باد دبورکچھ کچھ اس سے بھی کہا ہے بالضرور
ان غموں کا کچھ نہ دے کر وہ جوابسر جھکائے یاں سے نکلے ہے شتاب
باد صرصر سے بھی درد دل کہاسرسری سا ان نے بھی کچھ سن لیا
جھکڑ آیا اس سے بھی تھی گفتگوپھر نہ ایدھر رو کیا ان نے کبھو
لگ چلے ہے مجھ سے گر رنگ ہواگرم ہوکر اس سے میں کیا کیا کہا
کہتے کہتے میں ہوئی یوں ہی سبککی نہ ان باؤں نے تسکیں دل کی ٹک
بے قراری دل کی میرے ہے وہیدرہمی ہے حال کی سو ہے یہی
صبر ہوسکتا نہیں میں کیا کروںکب تلک بے طاقتی سے دن بھروں
جی تو ٹک آتے ہی آتے رک گیاتن بدن آتش سے غم کی پھک گیا
بے قراری سے کہوں کیا اے صباجو نہ کہنا تھا سو تجھ سے میں کہا
صبح کو جو آنکلتی ہے نسیماس سے بھی ہے درمیاں حال سقیم
وہ بھی کچھ کرتی نہیں دل کی دواسن کے سب ہوجاتی ہے ووہیں ہوا
جذب عشق اس جانور کا ہے بلامجھ کو برگ خشک سا دے ہے اڑا
جی کھنچا جاتا ہے میرا اس طرفکر رہے گا جاذبہ اس کا تلف
آپ کو کھویا گیا پر مجھ کو بھیکر گیا کھویا گیا سا چلتے ہی
رات دن آرام اب مجھ کو نہیںخواب و خور سے کام اب مجھ کو نہیں
چت چڑھے گلہاے بال و پر ہیں ابچپ کہ بلبل میں ہوں نالاں روز و شب
درہمی حال طاؤس اب سنوعشق ہے تم کو بھی تو ٹک سر دھنو
یاں سے وہ واسوختہ اڑتا گیادیر اس کا منھ ادھر مڑتا گیا
پھر نہ ظاہر کچھ ہوا کیدھر گیاوادی آبادی کہیں جا مر گیا
الغرض اک بن میں جا پنہاں رہادل جو آگے ہی گیا تھا یاں رہا
آب و دانے کی نہ کرتا تھا تلاشدل ہی کے غم سے کیا کرتا معاش
سرنگوں افتادہ رہتا دیر دیرغم سے محبوبہ کے ہی ہوتا تھا سیر
حیرتی عشق واں رہتا رہےآتی جاتی باؤ سے کہتا رہے
جائے تو رانی سے کہیو واشگافپھیکے خط کے حرف سا مٹتا ہوں صاف
کیا لکھوں میں تو نہیں دست و قلمپھر نہیں ہے محرم آلام و غم
اب تلک جیتا تو ہوں پر زندگیدور تجھ سے ہوگئی شرمندگی
آنکھیں رہتی ہیں لگی تیری ہی اورکرتا ہوں اندھا سا میں فریاد و شور
شور و فریاد آہ دونوں بے اثرتجھ تلک پہنچیں تو دے مجھ کو خبر
صبر ٹک کرتا نہیں میں ناصبوراب کھنچا ہے کام بیتابی کا دور
باؤ اودھر کی جو آتی ہے کبھومنھ ادھر کرتی نہیں بیگانہ خو
یاں سے جز صرصر کوئی جاتا نہیںسرسری بھی پھر ادھر آتا نہیں
اڑ کے پہنچوں کس طرح تیرے کنےسست بال و پر دل و جاں انمنے
شوق ہردم کھینچے ہے اودھر مجھےہے نصیبوں میں تو دیکھوں گا تجھے
کوئی جھکڑ آنکلتا ہے کبھودیر اس سے رہتی ہے یہ گفتگو
کہیو جو ہو اس طرف تیرا گذرمور اک جنگل میں کرتا تھا بسر
سر میں اس کے عشق کا سا شور ہےمضطرب دن رات نالاں زور ہے
زارنالی سے طیور اس دشت کےترک کرنے پر ہیں سیر و گشت کے
شور سے ہوتا ہے جب وہ نالہ کشطائر اس جنگل کے کر جاتے ہیں غش
اب کوئی اس راہ سے جاتا نہیںجانکلتا ہے تو پھر آتا نہیں
صبح اس کے نالوں سے ہے دھوم دھامطائروں کا شام تک ہے ازدحام
شور کرتے کرتے پھاٹا ہے گلااب جو نالے کرتا ہے سو تلملا
پاؤں پر پھیلاکے جب کھینچے ہے دمآہوان دشت کر جاتے ہیں رم
روکے درندہ کسو کے کب رکےخاک کے نیچے گزندہ جا چھپے
شور الحاصل ہے اس کا چار سوشہر و دہ میں اب یہی ہے گفتگو
راو راجا سب کے ہاں مذکور ہےمور کا سررفتہ پر مشہور ہے
رفتہ رفتہ یہ خبر یاں آگئیرانی بھی سن گن کہیں سے پا گئی
آئی دل میں فکر جاں طاؤس کیکشتہ مردہ ہوگئی افسوس کی
کین راجا کا خیال آیا اسےکیا کہوں کیا کیا ملال آیا اسے
گر پڑی غش کر گئی مرجھا گئیناگہاں مانند گل کمھلا گئی
کیا خبر آئی کہ وہ تھی بے خبرچوٹ کیسی پڑگئی تھی جان پر
بات منھ سے کچھ نکلتی ہی نہ تھیدیر گذری تھی سنبھلتی ہی نہ تھی
کھل گئیں آنکھیں جو دل پر تھا بہتکیا کرے ہاتھوں تلے رکھا بہت
ہر طرف کی حسرت آلودہ نگاہلب پہ آئی ناتواں سینے سے آہ
آہ کر پوچھا کہ راجا ہیں کہاںان کے کینے سے مجھے ہے خوف جاں
یہ خبر ان کو نہ پہنچی ہووے کاشوے تو جی ماریں گے اس کا کر تلاش
بدگمانی کا کھنچا ہے دور کاممور کا لیتا نہیں کینے سے نام
مجھ پہ بھی اس جرم سے آیا غضبکشت و خوں کے سب ہیں درپے اس سبب
یہ لگائی لاگ سے لوگوں نے آگگھر جلاتی رہتی ہے آگے سے لاگ
دیکھیے کیا درمیاں آوے سلوکآگ ہے بھڑکی ہوئی کین ملوک
لوگوں کی پھر اشتعالک دم بدمقہر ہے بیداد ہے ظلم و ستم
آج کل سے یہ تو آئی ہے خبرجب نہ تب ہیں گوش راجا کے ادھر
کلول ایسے جان پر سے کیا ٹلےکیا عجب آنکھیں ملے پاؤں تلے
ہم کو پاتا ہے چھری پاتا نہیںکب پئے خوں ریز یاں آتا نہیں
دشمنی کی بات ہی کچھ اور ہےنے ترحم ہے نہ مطلق غور ہے
جانور کا انس کچھ ثابت نہیںانس انساں کی سی یہ تہمت نہیں
غیرت اپنی بھی نہیں ہے مقتضیجیتی رہتی عشق کی ہو تہمتی
زندگانی کیا ہے جب غیرت گئیمفت ذلت ہوگئی عزت گئی
جب تلک آئی نہیں جیتے ہیں ہملوہو اپنا ہر زماں پیتے ہیں ہم
جو مخاطب تھا کہا ان نے کہ ہاںاس خبر کا اب نہیں اودھم کہاں
سن کے راجا نے کہا یہ اس کی دھومدامداروں کو بلا کاے قوم شوم
لو خبر ہے کس طرف وہ خارزارآپ جاؤں گا ادھر بہر شکار
گوکہ ہو وہ بادیہ پر شر و شورراہ چلتے ہوں عصا سے مار و مور
ہر طرف راجا کے پہنچے دامدارہو تلاشی تا کدھر ہے دشت خار
صیدپیشہ وے گئے ہر چار اوردیکھیں کس جنگل میں ہے وہ مورشور
کس بیاباں میں ہے اس کی بود و باشکون سے ہے دشت و بر میں بدمعاش
راہ میں ان سب کو یہ آئی خبرجس بیاباں میں ہے وہ تفتہ جگر
خار کا جنگل نہیں ہے دشت مارروز روشن میں بھی ہے تیرہ و تار
دم کش اژدر نکلے ہے گر سیر کودور سے کھینچے ہے وحش و طیر کو
جلتے ہیں آتش زبانی سے بہتپتلے ہوجاتے ہیں پانی سے بہت
یعنی دم سے طیر ہوتے ہیں گدازہے زبانہ آگ کا اس کی دراز
ایسے ایسے سو پھریں ہیں واں سداجن کی وحش و طیر ہے اکثر غذا
اور بھی رہتے ہیں واں اقسام مارگھر انھوں کے ہیں اسی جنگل کے غار
ہے عجب ماروں میں مور آکر رہےمار بھی پھر کیسے اژدر اژدہے
مرغ کر جاتے ہیں مرغ انداز دسکیا کریں اک مور کے کھانے سے بس
مار کھاجا مور کا ہے یاں کے مارمور دس دس کھا گئے ہیں ایک بار
گرد ہے اس دشت کے کوہ گراںاس سے اژدر جھانکے ہے پیدا نہاں
جانور اڑتے جو ڈھب پر آگئےچار چار ایک ایک ان کو کھا گئے
ہے زمانے سے بھی دھیمی ان کی چالجن کے ہیں کیڑے مکوڑے پائمال
جیب کو اپنی گزوں تک دیں ہیں طولخشت و سنگ و خاک تک کھاویں اکول
ان کے چاٹے دشت میں کم ہیں درختچٹ کیے ہیں کوہ تک کے سنگ سخت
ماریے پتھرچٹے مشہور ہیںریزہ دنداں ان کے پتھر چور ہیں
قدرت حق سے رہا ہے ان میں مورپھر قیامت کا سا اس کے سر میں شور
مور کیا چوری چھپے آیا ہے یاںعشق کا اعجاز اسے لایا ہے یاں
فتنہ در سر عشق کے یہ کام ہیںمور اژدر رانی راجا نام ہیں
عشق ہے ہنگامہ ساز شور و شرقصے قضیے عشق سے ہیں مختصر
دشت ماراں خاک ہوگا جل جلااژدہے مر جائیں گے سب تلملا
بھیڑ لے کر ساتھ راجا آئے گاکل مکل میں مور مارا جائے گا
خاک میں مل جائے گا کوہ گراںخاک سی اڑ جائے گی آخر کو واں
رانی ہوگی فرط غیرت سے ستیجانور کے عشق کی ہے تہمتی
طعن مردم سے ہوئی ہے بسکہ تنگزندگی کو جانتی ہے اپنا ننگ
رفتہ رفتہ راجا کا گھر جائے گاعشق کام ان پردوں میں کر جائے گا
لے گئے القصہ جاسوساں خبرجیتے مرتے پہنچے کچھ راجا کے گھر
کی حقیقت اس جگہ کی تب بیاںحال واں کا ہوگیا سب پر عیاں
راہ کی مشکل گذاری سب کہیسننے والے لوگوں کو حیرت رہی
جنگلوں میں خارزاری نقل کیراہ واں نکلی نہ ہرگز عقل کی
دشت ہر یک خارزار لق و دقپاؤں چلتے چلتے جاسوسوں کے شق
سختی سنگستاں کی بیش از بیش تھیسالکوں کی واں کف پا ریش تھی
غنچہ غنچہ اک بیاباں میں تھے خارغیر گل خار وھاں برگ اور نہ بار
پاؤں ریگستاں میں تا زانو جلےراہ سر کے بھل کوئی کیوں کر چلے
گرم تر اک دشت میں تھا آفتابسایہ واں پیدا نہ تھا نے قطرہ آب
تشنگی سے کیا عجب ہے غش بھی ہوآب تو واں تھا نہ جو لب چش بھی ہو
شہری اس کے شور سے یکسر تھے داغنکلے تھے دس بیس ہم بہر سراغ
پھرتے پھرتے جنگلوں میں تھک گئےکتنوں کے تیں شیر و اژدر بھک گئے
چلتے چلتے دور تک آئے نکلپڑ گئے تھے آبلے تلووں میں چل
اور ابھی جنگل بڑے درپیش ہیںپاؤں دونوں شل ہیں تلوے ریش ہیں
دیکھیے ہوتا ہے واں کیونکر نباہہے بہت مشکل گذر کانٹوں سے راہ
ہر قدم خطرہ کہ ہیں شیر و پلنگاس پہ سر ماریں کہ رہ پرخار و سنگ
پھر تراکم چار سو اشجار کاپھر ہراس اس میں گڑھے کا غار کا
ہاتھی ارنے خوک کی واں باش و بودکرگدن کی دھوم سے اکثر نمود
ہیں بیاباں مہلکی یہ تو سبھیزندگی کیونکر کرے واں آدمی
قافلہ جاسوسوں کا اودھر چلاآدھا پر واں سو گیا گذرا کھپا
زندگی سے جمع یہ مایوس ہےہر خطرگہ خانۂ جاسوس ہے
کیا کرے جو رزق یوں مقسوم ہےواں ملے مرنا جہاں معلوم ہے
کچھ ہو دشت مار تک جانا ہمیںمور کی واں سے خبر لانا ہمیں
آب و دانہ لے چلا ہے اب تو واںآب و دانہ کچھ نہیں ملتا جہاں
دیکھیے جانا ہو کیونکر اتفاقبھوکوں مرنا راہ چلنے میں ہے شاق
سوچ کر آپس میں وے آگے گئےدن گئے تھے رات بھی جاگے گئے
راہ میں دو چار فاقے بھی کیےکتنے ان میں سے موئے کتنے جیے
طے ہوئے وے دشت جوں ہی ہولناکدشت ماراں پہنچے کچھ بے خوف و باک
دیکھی اس کے ناحیہ میں ایک دھومتھا چرندوں کا درندوں کا ہجوم
جمع رہتے تھے طیور دشت بھیصبح سے تھی ترک سیر و گشت بھی
شور بیتابی سے بعضے تھے دہمسن کے نالے بعضے کر جاتے تھے رم
حزن سے ہوتا ہے جس دم نالہ کشپاس ہی کچھ جانور کرتے ہیں غش
دیکھ وا منقار اس کی رحم کرکچھ نہ کچھ رکھ دیتے منھ میں جانور
کوئی دانہ بوند پانی گھاس پاتکاٹتا تھا اس طرح دن اور رات
یا رکا تو سست سی پرواز کیاس بیاباں میں حزیں آواز کی
کچھ اڑا بیتاب کچھ رکنے لگاسنگریزے کنکری چکنے لگا
گر کہیں دوچار دانے پا گیاشکر کر اپنی زباں میں کھا گیا
جو کسو تالاب سے پانی پیاآسماں کی اور منھ اپنا کیا
تو نہ دے تو یعنی مجھ کو کون دےپرشکستہ کی خبر یوں کون لے
سن کے راجا یہ خبر شاداں ہواخشمگیں تر خانہ آباداں ہوا
حکم کش لوگوں سے اپنے یہ کہادیر اس موذی کے غم میں میں رہا
اب یہ مژدہ لائے ہیں جاسوس جاان بنوں میں ایک بن میں وہ بھی تھا
مجھ کو جانا اس طرف کا ہے اہمکھا گیا ہے جان اس دشمن کا غم
لوگ میرے گرچہ ہیں حاضریراقپھر رکھو کچھ اور بھی بہر یساق
جنگ حیوانات سے ہے بیشترہیں طرف اژدر نمر شیراں شتر
یہ لڑائی طول کو گر کھنچ گئیہمت مردانہ سنیو ہچ گئی
ہے لڑائی سخت کوہستان کیپھر بہم حیوان اور انسان کی
منھ پسارے اژدہے ہیں گرم جنگکھینچ کر نگلے ہیں دم سے خشت و سنگ
آئے ہاتھی بھی اتر گر کوہ سےہوسکے گا پھر نہ کچھ انبوہ سے
ہوگیا باراہ سد راہ گرلیویں گے جاکر نفر راہ دگر
ہو اگر جاموش دشتی سے مصافتو کوئی دم ہی کو ہے میدان صاف
کرگدن آکر اگر ہوگا طرفتو الٹ دیوے گا کوئی صف کی صف
منھ چڑھیں گے اس کے مردم کم بہتاک طرف ہو جاوے گا عالم بہت
ہوگئی گر خرس سے استادگیدرمیاں آجائے گی افتادگی
منھ اگر گرگ بغل زن آگیادیکھیو پیٹھ اک جہاں دکھلا گیا
یوز و گرگ و شیر اگر آجائیں گےبددلوں کی فوج کو کھا جائیں گے
مست ہاتھی ہوگئے چہرہ اگرمنھ چھپا لیں گے سپاہی بیشتر
سامنے ہوگا اگر مار سیاہسامنے اس کے نہ ہووے گی سپاہ
گرم کیں اژدر کوئی گر آگیاکھا گیا چٹ کر گیا جیتا گیا
لوگ رکھو الغرض صاحب جگرپہنچیں سر پر مدعی کے بیشتر
جدول ان کی تیغ کی جاری رہےان کی تردستی سے وہ عاری رہے
ساتھ راجا کے گیا جم غفیرہم صغیر و ہم جوان و ہم کبیر
راوراجا ساتھ جب سارے گئےکچھ نہ بولے شرم کے مارے گئے
منزلیں طے ہوکے آئے دشت و دراترے واں جا لوگ لشکر سربسر
بھڑکی آتش عشق کی جنگل جلےدوں لگا وہ طائر و اژدر چلے
آگ پھیلی ان بنوں میں دور تکجل گئے حیواں کئی لنگور تک
مار و اژدر اژدہے بھلسے گئےشیر و گرگ و کرگدن جھلسے گئے
جل گیا طاؤس بھی اس آگ میںجی گئے بہتیرے دل کی لاگ میں
مور کا مردہ گیا راجا کے پاساور جھلسے بھلسے طائر بے حواس
پھر پڑی جو آگ سب لشکر جلااور راجا کا بھی اودھر گھر جلا
یعنی رانی نے سنی جو یہ خبرآتش غم سے جلا اس کا جگر
کھینچ آہ سرد یہ کہنے لگیعشق کی بھی آگ کیا بہنے لگی
بن جلا کر بستیوں میں آلگیپھیل کر یاں دل جگر کو جالگی
جمع کر خاشاک و خار و خس شتابجل گئی دے آگ وہ بھی بس شتاب
کیا لگی تھی دل کو رانی جل گئیخاک ہوکر خاک ہی میں رل گئی
عشق ہی کی ہیں یہ تازہ کاریاںعشق نے پردے میں جانیں ماریاں
مور کے بدلے جلایا دشت مارمار و اژدر جل گئے چندیں ہزار
جل کے لشکر ہوگیا تھا بے چراغیہ خبر سن ہوگیا راجا بھی داغ
عشق سے کیا میرؔ اتنی گفت و گوخاک اڑا دی عشق نے ہر چار سو
درمیاں نے کوہ نے انبوہ ہےرانی کا راجا کا اب اندوہ ہے
طائر و طاؤس و حیواں اژدہےسب کھپے کیا عشق کی کوئی کہے
یہ فسانہ رہ گیا عالم کے بیچبازماندہ ان کے ہیں سب غم کے بیچ
۵۵۵ / ۵۸۲