کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

مورنامہ

۱

دشت سے بستی میں آیا ایک مورزور تھا واں حسن کا رانی کے شور

۲

اڑ کے گھر راجا کے پہنچا بے قراردیکھ اس کو ہوگیا حیران کار

۳

جاذبہ تھا حسن کا اس کے کمالجانور بھی ہوگیا محو جمال

۴

تھی نگہ رخسار پر حیرت کے ساتھچشم تھی رفتار پر الفت کے ساتھ

۵

گر خرام ناز سے جی لے گئیخوش نگاہی جان تازہ دے گئی

۶

خستۂ انداز اس کا ہر بشررفتہ اس کے ناز کا ہر جانور

۷

دیکھتا تھا سیر میں جلوہ گریجا نشینہ میں جو بیٹھی وہ پری

۸

روبرو جاکر ہوا وہ بھی کھڑاٹک ٹھہر کر مضطرب ہو گر پڑا

۹

اضطراب عشق نے تاثیر کیدل دہی کرنے اٹھی دل گیر کی

۱۰

پیار سے کہنے لگی مت ہو اداسپاس رہ میرے کروں گی میں بھی پاس

۱۱

تو ہے وحشی اس قدر مانوس ہےانس انساں کو نہ ہو افسوس ہے

۱۲

ہے مزاج اپنے پرائے سے نفوربھاگوں ہوں مانند وحشی سب سے دور

۱۳

پاس رہنے سے ترے ہے دل خوشیہے بلا اس بال و پر میں دلکشی

۱۴

اس کشش کی تھی نہ مجھ کو کچھ خبرہوش اڑا کر لے گئی یہ مشت پر

۱۵

اب تو دل بھی لگ گیا ہے تیرے ساتھیک بیک سب سے اٹھایا میں نے ہاتھ

۱۶

پاس رہ کر پاس ظاہر ہے ضرورآوے راجا گھر میں تو پھر دور دور

۱۷

وہ مبادا ربط سے ہو بدگماںدوستی ہو جاوے تیری خصم جاں

۱۸

رنگ رنگ اس عشق کے ہیں گے سلوکرنگ ہردم بدلے ہے کین ملوک

۱۹

رنگ صحبت دیکھ کر رنگ اور لائےاس کو چسپاں اختلاطی خوش نہ آئے

۲۰

دل ہی راجا کا جو بدبر ہو تو پھرترک ہی کرنا پڑے دونوں کو سر

۲۱

دل بلاے بد ہے جو چاہے کرےکچھ نہیں پروا اسے کوئی مرے

۲۲

دل نہ ہوتا تو نہ جاتی دل کی تابدل بدن میں ایک ہے خانہ خراب

۲۳

دل سے کیسے کیسے گھر ویراں ہوئےلوگ کیا کیا بے سر و ساماں ہوئے

۲۴

دل اچٹے شہ فقیری کر گئےجنگلوں میں شہر سے جا مر گئے

۲۵

مرغ گلشن دل لگی آئے بگیربے کلی سے اس کے ظاہر ہیں اسیر

۲۶

دل نہ ہوتا کاشکے اجسام میںکرنی تھی ایسی عطا اجرام میں

۲۷

کرتے تا معلوم قدر عافیتہوتی اس عالم کی بھی ایسی ہی گت

۲۸

مختلط رہنے سے بعد ازچند روزشور بدنامی اٹھا اک سینہ سوز

۲۹

کھل گئی غماز لوگوں کی زباںسب پہ ظاہر ہوگیا راز نہاں

۳۰

کان راجا کے بھرے دشمن ہوابدگمان و بدبر و بدظن ہوا

۳۱

کار ظن بد کھنچا اک طول کوسمجھا نامعقول وہ معقول کو

۳۲

اب یوں ہی کرتا ہے ظاہرداریاںورنہ ہیں کینہ کی باتیں ساریاں

۳۳

دھوم رسوائی کی ہوئی اقران میںکسر شاں اس کی ہوئی اعیان میں

۳۴

آنا جانا گھر میں کا اب ہوچکاپاس ربط و رابطہ سب ہوچکا

۳۵

بدگمانی سے ہوا ہے کینہ ورزہے نمودار آنکھ سے خصمی کی طرز

۳۶

گھر میں لاتے ہیں کبھو تو گھیر کربات کہتا ہے تو منھ کو پھیر کر

۳۷

راہ میں ہے یا کبھو پھر جائے ہےپھر گیا تو دیر میں پھر آئے ہے

۳۸

چار سو چھوٹے ہوئے جاسوس ہیںہم دگر کے درپئے ناموس ہیں

۳۹

مصلحت ہے دور رہ ٹک آج کلاس میں شاید مٹ بھی جاوے کل مکل

۴۰

سر پہ لایا ہے بلا آفت کا ربطجی بچے ہیں شوق کا گر ہووے ضبط

۴۱

دل لگی تو اک خدا کا ہے غضباس سے پھر یارب ہے لب پر روز و شب

۴۲

دل گرفتہ دل شکستہ دل زدہان نے مارے مرد کیا کارآمدہ

۴۳

بے دلاں بے دل رہے تو خوب ہےتن بدن میں ایسے اک آشوب ہے

۴۴

دل کے جائے ہی ملے ہے امتیازاہل دل کہتے ہیں جو ہو دل گداز

۴۵

دل بلاے جاں ہے اے طاؤس ہائےاس کے پہلو سے ہے لب پر ہائے وائے

۴۶

ہے گی یہ دل بستگی خانہ خرابدربدر پھرنے کا کر دیوے ہے باب

۴۷

خانہ ویرانی نہیں میری ہی ابہے خرابی جہاں کا دل سبب

۴۸

اپنے تو گھر بار کا ہے ہی فسوسگھر ترا بھی ویسے ہے بار خروس

۴۹

کیا اڑایا ہے تجھے اے مشت پرخاک سے لے کر گیا افلاک پر

۵۰

واں سے پٹکے دیکھیے کیونکر تجھےساتھ آوارہ کرے کیدھر مجھے

۵۱

سن کھڑا طاؤس سب سنتا رہادرد و غم سے دیر سر دھنتا رہا

۵۲

بے زبانی تھی نہ کچھ کہنا بناچپکے ہی آزردہ دل رہنا بنا

۵۳

حزن کے ساتھ اک حزیں آواز کیگرتے پڑتے دوقدم پرواز کی

۵۴

دیر سر دیوار سے مارا کیاصبر سے ناچار پھر چارہ کیا

۵۵

پاس سے کچھ دور ہی رہنے لگاجور ہجر یار کے سہنے لگا

۵۶

بے دل و آزردہ گاہے ہے کھڑاسر جھکائے گاہ یک سو ہے پڑا

۵۷

مضطرب ہو شور کرتا ہے گہےدل پہ رکھ دیتا ہے سر تا ٹک رہے

۵۸

دور دور اس سے پھرے الفت کے ساتھپھر کے دیکھے اس طرف حسرت کے ساتھ

۵۹

آوے راجا یا نہ آوے یہ گیاصبر کرنا اس کو اس بن ہے بنا

۶۰

نوشکیبی دل لگی پر ہے عذابجی ملے ڈالے ہیں غم کے پیچ و تاب

۶۱

عشق و بے صبری بہت مشکل ہے کاممرگ عاشق کا ہے یہ بھی ایک نام

۶۲

جی کے گھبرائے ہوا تھا پرفشاںطاقت پرواز اس میں تھی کہاں

۶۳

فرط دل تنگی سے ہوکر دل گرااک پرافشانی میں سر کے بل گرا

۶۴

پاؤں میں نے زور تھا نے سر میں شورناتواں طاؤس تھا مانند مور

۶۵

دوڑی محبوبہ یہ اس کا حال دیکھرہ سکی نہ عاشقانہ چال دیکھ

۶۶

اشک ریزاں سر پہ اس کے رو رکھاخوف طعن خلق کا یک سو رکھا

۶۷

ہو تسلی جاتے بارے رہ گیاجان کا بھی ڈر کنارے رہ گیا

۶۸

چشم وا ہونے لگی اس زار سےکی نظر رانی کے منھ پر پیار سے

۶۹

سب لگے کہنے کہ اب تو یہ جیاجان رفتہ نے منھ ایدھر پھر کیا

۷۰

ہوگئی چتون بھی اس کی اب درستپانی چھڑکو تاکہ ہووے گرم و چست

۷۱

چھرچھراوے پانی چھڑکے بال و پراڑچلا رانی کا کہنا یاد کر

۷۲

کی نظر جاتے ادھر الفت بھریالفت ایسی جوکہ ہو حسرت بھری

۷۳

اس نظر سے رانی نے بھی رو دیاہوش سر سے صبر دل سے کھو دیا

۷۴

روتے روتے خواب گہ میں جا گریپھر نہ اس گھر میں کوئی دن آ پھری

۷۵

یہ گیا ہو پرفشاں دیوار پربیٹھا لیکن منھ ادھر سے پھیر کر

۷۶

لوگ تا جانیں کہ یہ بھی ہے اداسپھر نہ آوے شاید اب رانی کے پاس

۷۷

واں سے اڑ کر ایک کوٹھے پر گیاگم ہوا واں ایسا جیسے مر گیا

۷۸

یاں کھلی نمام لوگوں کی زباںکہتے تھے راجا سے جا کیا کیا نہاں

۷۹

اختلاط ان دونوں کا ظاہر کیااس حقیقت کا اسے ماہر کیا

۸۰

وہ تو کافر آگے ہی تھا سنگ دلاور ان کے کہنے سے ہو تنگ دل

۸۱

کہہ اٹھا میں فکر میں ہوں آج کلصاف دیتا ہوں مٹا سارا خلل

۸۲

جان سے ماروں گا میں اس مور کوپھر نہ سنیے گا کبھی اس شور کو

۸۳

ہے یہی ہنگامہ آرا جانورقطع کے شایاں تھے اس کے بال و پر

۸۴

تا نہ آتا شہر میں یہ دشت سےباز رہتا ایسے سیر و گشت سے

۸۵

یوز کاش اس کو کوئی کرتا شکارشیربچہ اس کو رکھتا کوئی مار

۸۶

چشم سے ہردم پڑا ٹپکے ہے زہراس کی چتون ہے بلاے شہر و دہر

۸۷

کج خرامی کا ہے فتنہ پیش خیزچلنا اس کا جوں چلے شمشیر تیز

۸۸

مت اسے حیوان صاحب جانیوبدبلا اس کو کہیں تو مانیو

۸۹

رقص سے ہنگامہ پردازی کرےپرفشاں ہو تو بداندازی کرے

۹۰

بولے تو آواز اس کی دل خراشکرم خوار و مار خوار و بدمعاش

۹۱

رانی تھی ناقص جو خود مائل ہوئیمفت لعن و طعن کی قائل ہوئی

۹۲

بن ملے اس کے رہے ہے وہ اداسمیں کھڑا رہنے نہ دوں اپنے تو پاس

۹۳

گھر میں آکر ان نے جو کی بود و باشتھی اسے خانہ خرابی کی تلاش

۹۴

رانی نے جو منھ لگایا سر چڑھاقدر سے مقدار سے آگے بڑھا

۹۵

پاؤں پھیلا گھر کا مالک ہوگیااس روش سے اپنا ہالک ہوگیا

۹۶

اب نہ کریے اس کے تیں جب تک ہلاکگھر نہیں ہوتا نظر آتا ہے پاک

۹۷

اس میں گو رانی بھی جاوے جان سےوہ بھی خوش ہو میری کسر شان سے

۹۸

فکر میں طاؤس کی راجا رہامنھ پہ رانی کے نہ ہرگز کچھ کہا

۹۹

کی تسلی اور تا کھاکر فریبہو شکیبا کوئی دن یہ ناشکیب

۱۰۰

قصہ کوتہ اڑ گیا یاں سے جو مورمنھ چھپا ایسا گیا جیسے کہ چور

۱۰۱

کس طرف جاتا رہا ہو پرفشاںکچھ نہ پیدا پھر ہوا اس کا نشاں

۱۰۲

کچھ خبر اس کی نہیں کیدھر گیایاں کہیں جیتا ہے وہ یا مر گیا

۱۰۳

یہ تاسف رانی کا جی کھا گیادل جو اس کا گل تھا سو مرجھا گیا

۱۰۴

کس سے پوچھے کس کنے جاکر کہےجوں خزاں کا پھول مرجھائی رہے

۱۰۵

کیا بہار عشق کے دیکھے ہے رنگزرد اس کا ہے گل تر دل ہے تنگ

۱۰۶

آنکھیں اس کی دو گل عنبر عجبسو خبر کی راہ پر وا روز و شب

۱۰۷

آوے جو کوئی منھ اس کا تک رہےدیکھیں حیرانی اسے کب تک رہے

۱۰۸

وہ تو گم گشتہ کہیں پیدا نہیںیاں تسلی یہ دل شیدا نہیں

۱۰۹

بے کلی اس گل کو رہتی ہے کمالرنگ اڑے ہے مور کا کرتے خیال

۱۱۰

ہوش سر سے جائے ہے پرواز کرہوتی ہے بے خود حزیں آواز کر

۱۱۱

غش پڑی رہتی ہے اس اوسیر میںپھر بحال آتی ہے ٹک تو دیر میں

۱۱۲

دل کی حالت ہے وہی اندوہ میںوہم لے جاتا ہے دشت و کوہ میں

۱۱۳

کہتی رہتی تھی کہ اے باد سحرلا کبھو طاؤس کی مجھ کو خبر

۱۱۴

جی اسے ڈھونڈے ہے پر پاتی نہیںاڑتی سی بھی یاں خبر آتی نہیں

۱۱۵

دل انھیں دو طرحوں میں ٹھہرے صبایا اسے لا یا مجھے واں لے کے جا

۱۱۶

ناقبول عشق ہوں میں تو ملولاس طرف آتی ہے گر باد قبول

۱۱۷

سن کے میرا حال ہوجاتی ہے سنگرم رفتن ہوتی ہے پھر سر کو دھن

۱۱۸

کام اس سے بھی نکلتا کچھ نہیںمجھ کو وہ ناکام چھوڑے ہے یہیں

۱۱۹

آئے ہے جو اس طرف باد دبورکچھ کچھ اس سے بھی کہا ہے بالضرور

۱۲۰

ان غموں کا کچھ نہ دے کر وہ جوابسر جھکائے یاں سے نکلے ہے شتاب

۱۲۱

باد صرصر سے بھی درد دل کہاسرسری سا ان نے بھی کچھ سن لیا

۱۲۲

جھکڑ آیا اس سے بھی تھی گفتگوپھر نہ ایدھر رو کیا ان نے کبھو

۱۲۳

لگ چلے ہے مجھ سے گر رنگ ہواگرم ہوکر اس سے میں کیا کیا کہا

۱۲۴

کہتے کہتے میں ہوئی یوں ہی سبککی نہ ان باؤں نے تسکیں دل کی ٹک

۱۲۵

بے قراری دل کی میرے ہے وہیدرہمی ہے حال کی سو ہے یہی

۱۲۶

صبر ہوسکتا نہیں میں کیا کروںکب تلک بے طاقتی سے دن بھروں

۱۲۷

جی تو ٹک آتے ہی آتے رک گیاتن بدن آتش سے غم کی پھک گیا

۱۲۸

بے قراری سے کہوں کیا اے صباجو نہ کہنا تھا سو تجھ سے میں کہا

۱۲۹

صبح کو جو آنکلتی ہے نسیماس سے بھی ہے درمیاں حال سقیم

۱۳۰

وہ بھی کچھ کرتی نہیں دل کی دواسن کے سب ہوجاتی ہے ووہیں ہوا

۱۳۱

جذب عشق اس جانور کا ہے بلامجھ کو برگ خشک سا دے ہے اڑا

۱۳۲

جی کھنچا جاتا ہے میرا اس طرفکر رہے گا جاذبہ اس کا تلف

۱۳۳

آپ کو کھویا گیا پر مجھ کو بھیکر گیا کھویا گیا سا چلتے ہی

۱۳۴

رات دن آرام اب مجھ کو نہیںخواب و خور سے کام اب مجھ کو نہیں

۱۳۵

چت چڑھے گلہاے بال و پر ہیں ابچپ کہ بلبل میں ہوں نالاں روز و شب

۱۳۶

درہمی حال طاؤس اب سنوعشق ہے تم کو بھی تو ٹک سر دھنو

۱۳۷

یاں سے وہ واسوختہ اڑتا گیادیر اس کا منھ ادھر مڑتا گیا

۱۳۸

پھر نہ ظاہر کچھ ہوا کیدھر گیاوادی آبادی کہیں جا مر گیا

۱۳۹

الغرض اک بن میں جا پنہاں رہادل جو آگے ہی گیا تھا یاں رہا

۱۴۰

آب و دانے کی نہ کرتا تھا تلاشدل ہی کے غم سے کیا کرتا معاش

۱۴۱

سرنگوں افتادہ رہتا دیر دیرغم سے محبوبہ کے ہی ہوتا تھا سیر

۱۴۲

حیرتی عشق واں رہتا رہےآتی جاتی باؤ سے کہتا رہے

۱۴۳

جائے تو رانی سے کہیو واشگافپھیکے خط کے حرف سا مٹتا ہوں صاف

۱۴۴

کیا لکھوں میں تو نہیں دست و قلمپھر نہیں ہے محرم آلام و غم

۱۴۵

اب تلک جیتا تو ہوں پر زندگیدور تجھ سے ہوگئی شرمندگی

۱۴۶

آنکھیں رہتی ہیں لگی تیری ہی اورکرتا ہوں اندھا سا میں فریاد و شور

۱۴۷

شور و فریاد آہ دونوں بے اثرتجھ تلک پہنچیں تو دے مجھ کو خبر

۱۴۸

صبر ٹک کرتا نہیں میں ناصبوراب کھنچا ہے کام بیتابی کا دور

۱۴۹

باؤ اودھر کی جو آتی ہے کبھومنھ ادھر کرتی نہیں بیگانہ خو

۱۵۰

یاں سے جز صرصر کوئی جاتا نہیںسرسری بھی پھر ادھر آتا نہیں

۱۵۱

اڑ کے پہنچوں کس طرح تیرے کنےسست بال و پر دل و جاں انمنے

۱۵۲

شوق ہردم کھینچے ہے اودھر مجھےہے نصیبوں میں تو دیکھوں گا تجھے

۱۵۳

کوئی جھکڑ آنکلتا ہے کبھودیر اس سے رہتی ہے یہ گفتگو

۱۵۴

کہیو جو ہو اس طرف تیرا گذرمور اک جنگل میں کرتا تھا بسر

۱۵۵

سر میں اس کے عشق کا سا شور ہےمضطرب دن رات نالاں زور ہے

۱۵۶

زارنالی سے طیور اس دشت کےترک کرنے پر ہیں سیر و گشت کے

۱۵۷

شور سے ہوتا ہے جب وہ نالہ کشطائر اس جنگل کے کر جاتے ہیں غش

۱۵۸

اب کوئی اس راہ سے جاتا نہیںجانکلتا ہے تو پھر آتا نہیں

۱۵۹

صبح اس کے نالوں سے ہے دھوم دھامطائروں کا شام تک ہے ازدحام

۱۶۰

شور کرتے کرتے پھاٹا ہے گلااب جو نالے کرتا ہے سو تلملا

۱۶۱

پاؤں پر پھیلاکے جب کھینچے ہے دمآہوان دشت کر جاتے ہیں رم

۱۶۲

روکے درندہ کسو کے کب رکےخاک کے نیچے گزندہ جا چھپے

۱۶۳

شور الحاصل ہے اس کا چار سوشہر و دہ میں اب یہی ہے گفتگو

۱۶۴

راو راجا سب کے ہاں مذکور ہےمور کا سررفتہ پر مشہور ہے

۱۶۵

رفتہ رفتہ یہ خبر یاں آگئیرانی بھی سن گن کہیں سے پا گئی

۱۶۶

آئی دل میں فکر جاں طاؤس کیکشتہ مردہ ہوگئی افسوس کی

۱۶۷

کین راجا کا خیال آیا اسےکیا کہوں کیا کیا ملال آیا اسے

۱۶۸

گر پڑی غش کر گئی مرجھا گئیناگہاں مانند گل کمھلا گئی

۱۶۹

کیا خبر آئی کہ وہ تھی بے خبرچوٹ کیسی پڑگئی تھی جان پر

۱۷۰

بات منھ سے کچھ نکلتی ہی نہ تھیدیر گذری تھی سنبھلتی ہی نہ تھی

۱۷۱

کھل گئیں آنکھیں جو دل پر تھا بہتکیا کرے ہاتھوں تلے رکھا بہت

۱۷۲

ہر طرف کی حسرت آلودہ نگاہلب پہ آئی ناتواں سینے سے آہ

۱۷۳

آہ کر پوچھا کہ راجا ہیں کہاںان کے کینے سے مجھے ہے خوف جاں

۱۷۴

یہ خبر ان کو نہ پہنچی ہووے کاشوے تو جی ماریں گے اس کا کر تلاش

۱۷۵

بدگمانی کا کھنچا ہے دور کاممور کا لیتا نہیں کینے سے نام

۱۷۶

مجھ پہ بھی اس جرم سے آیا غضبکشت و خوں کے سب ہیں درپے اس سبب

۱۷۷

یہ لگائی لاگ سے لوگوں نے آگگھر جلاتی رہتی ہے آگے سے لاگ

۱۷۸

دیکھیے کیا درمیاں آوے سلوکآگ ہے بھڑکی ہوئی کین ملوک

۱۷۹

لوگوں کی پھر اشتعالک دم بدمقہر ہے بیداد ہے ظلم و ستم

۱۸۰

آج کل سے یہ تو آئی ہے خبرجب نہ تب ہیں گوش راجا کے ادھر

۱۸۱

کلول ایسے جان پر سے کیا ٹلےکیا عجب آنکھیں ملے پاؤں تلے

۱۸۲

ہم کو پاتا ہے چھری پاتا نہیںکب پئے خوں ریز یاں آتا نہیں

۱۸۳

دشمنی کی بات ہی کچھ اور ہےنے ترحم ہے نہ مطلق غور ہے

۱۸۴

جانور کا انس کچھ ثابت نہیںانس انساں کی سی یہ تہمت نہیں

۱۸۵

غیرت اپنی بھی نہیں ہے مقتضیجیتی رہتی عشق کی ہو تہمتی

۱۸۶

زندگانی کیا ہے جب غیرت گئیمفت ذلت ہوگئی عزت گئی

۱۸۷

جب تلک آئی نہیں جیتے ہیں ہملوہو اپنا ہر زماں پیتے ہیں ہم

۱۸۸

جو مخاطب تھا کہا ان نے کہ ہاںاس خبر کا اب نہیں اودھم کہاں

۱۸۹

سن کے راجا نے کہا یہ اس کی دھومدامداروں کو بلا کاے قوم شوم

۱۹۰

لو خبر ہے کس طرف وہ خارزارآپ جاؤں گا ادھر بہر شکار

۱۹۱

گوکہ ہو وہ بادیہ پر شر و شورراہ چلتے ہوں عصا سے مار و مور

۱۹۲

ہر طرف راجا کے پہنچے دامدارہو تلاشی تا کدھر ہے دشت خار

۱۹۳

صیدپیشہ وے گئے ہر چار اوردیکھیں کس جنگل میں ہے وہ مورشور

۱۹۴

کس بیاباں میں ہے اس کی بود و باشکون سے ہے دشت و بر میں بدمعاش

۱۹۵

راہ میں ان سب کو یہ آئی خبرجس بیاباں میں ہے وہ تفتہ جگر

۱۹۶

خار کا جنگل نہیں ہے دشت مارروز روشن میں بھی ہے تیرہ و تار

۱۹۷

دم کش اژدر نکلے ہے گر سیر کودور سے کھینچے ہے وحش و طیر کو

۱۹۸

جلتے ہیں آتش زبانی سے بہتپتلے ہوجاتے ہیں پانی سے بہت

۱۹۹

یعنی دم سے طیر ہوتے ہیں گدازہے زبانہ آگ کا اس کی دراز

۲۰۰

ایسے ایسے سو پھریں ہیں واں سداجن کی وحش و طیر ہے اکثر غذا

۲۰۱

اور بھی رہتے ہیں واں اقسام مارگھر انھوں کے ہیں اسی جنگل کے غار

۲۰۲

ہے عجب ماروں میں مور آکر رہےمار بھی پھر کیسے اژدر اژدہے

۲۰۳

مرغ کر جاتے ہیں مرغ انداز دسکیا کریں اک مور کے کھانے سے بس

۲۰۴

مار کھاجا مور کا ہے یاں کے مارمور دس دس کھا گئے ہیں ایک بار

۲۰۵

گرد ہے اس دشت کے کوہ گراںاس سے اژدر جھانکے ہے پیدا نہاں

۲۰۶

جانور اڑتے جو ڈھب پر آگئےچار چار ایک ایک ان کو کھا گئے

۲۰۷

ہے زمانے سے بھی دھیمی ان کی چالجن کے ہیں کیڑے مکوڑے پائمال

۲۰۸

جیب کو اپنی گزوں تک دیں ہیں طولخشت و سنگ و خاک تک کھاویں اکول

۲۰۹

ان کے چاٹے دشت میں کم ہیں درختچٹ کیے ہیں کوہ تک کے سنگ سخت

۲۱۰

ماریے پتھرچٹے مشہور ہیںریزہ دنداں ان کے پتھر چور ہیں

۲۱۱

قدرت حق سے رہا ہے ان میں مورپھر قیامت کا سا اس کے سر میں شور

۲۱۲

مور کیا چوری چھپے آیا ہے یاںعشق کا اعجاز اسے لایا ہے یاں

۲۱۳

فتنہ در سر عشق کے یہ کام ہیںمور اژدر رانی راجا نام ہیں

۲۱۴

عشق ہے ہنگامہ ساز شور و شرقصے قضیے عشق سے ہیں مختصر

۲۱۵

دشت ماراں خاک ہوگا جل جلااژدہے مر جائیں گے سب تلملا

۲۱۶

بھیڑ لے کر ساتھ راجا آئے گاکل مکل میں مور مارا جائے گا

۲۱۷

خاک میں مل جائے گا کوہ گراںخاک سی اڑ جائے گی آخر کو واں

۲۱۸

رانی ہوگی فرط غیرت سے ستیجانور کے عشق کی ہے تہمتی

۲۱۹

طعن مردم سے ہوئی ہے بسکہ تنگزندگی کو جانتی ہے اپنا ننگ

۲۲۰

رفتہ رفتہ راجا کا گھر جائے گاعشق کام ان پردوں میں کر جائے گا

۲۲۱

لے گئے القصہ جاسوساں خبرجیتے مرتے پہنچے کچھ راجا کے گھر

۲۲۲

کی حقیقت اس جگہ کی تب بیاںحال واں کا ہوگیا سب پر عیاں

۲۲۳

راہ کی مشکل گذاری سب کہیسننے والے لوگوں کو حیرت رہی

۲۲۴

جنگلوں میں خارزاری نقل کیراہ واں نکلی نہ ہرگز عقل کی

۲۲۵

دشت ہر یک خارزار لق و دقپاؤں چلتے چلتے جاسوسوں کے شق

۲۲۶

سختی سنگستاں کی بیش از بیش تھیسالکوں کی واں کف پا ریش تھی

۲۲۷

غنچہ غنچہ اک بیاباں میں تھے خارغیر گل خار وھاں برگ اور نہ بار

۲۲۸

پاؤں ریگستاں میں تا زانو جلےراہ سر کے بھل کوئی کیوں کر چلے

۲۲۹

گرم تر اک دشت میں تھا آفتابسایہ واں پیدا نہ تھا نے قطرہ آب

۲۳۰

تشنگی سے کیا عجب ہے غش بھی ہوآب تو واں تھا نہ جو لب چش بھی ہو

۲۳۱

شہری اس کے شور سے یکسر تھے داغنکلے تھے دس بیس ہم بہر سراغ

۲۳۲

پھرتے پھرتے جنگلوں میں تھک گئےکتنوں کے تیں شیر و اژدر بھک گئے

۲۳۳

چلتے چلتے دور تک آئے نکلپڑ گئے تھے آبلے تلووں میں چل

۲۳۴

اور ابھی جنگل بڑے درپیش ہیںپاؤں دونوں شل ہیں تلوے ریش ہیں

۲۳۵

دیکھیے ہوتا ہے واں کیونکر نباہہے بہت مشکل گذر کانٹوں سے راہ

۲۳۶

ہر قدم خطرہ کہ ہیں شیر و پلنگاس پہ سر ماریں کہ رہ پرخار و سنگ

۲۳۷

پھر تراکم چار سو اشجار کاپھر ہراس اس میں گڑھے کا غار کا

۲۳۸

ہاتھی ارنے خوک کی واں باش و بودکرگدن کی دھوم سے اکثر نمود

۲۳۹

ہیں بیاباں مہلکی یہ تو سبھیزندگی کیونکر کرے واں آدمی

۲۴۰

قافلہ جاسوسوں کا اودھر چلاآدھا پر واں سو گیا گذرا کھپا

۲۴۱

زندگی سے جمع یہ مایوس ہےہر خطرگہ خانۂ جاسوس ہے

۲۴۲

کیا کرے جو رزق یوں مقسوم ہےواں ملے مرنا جہاں معلوم ہے

۲۴۳

کچھ ہو دشت مار تک جانا ہمیںمور کی واں سے خبر لانا ہمیں

۲۴۴

آب و دانہ لے چلا ہے اب تو واںآب و دانہ کچھ نہیں ملتا جہاں

۲۴۵

دیکھیے جانا ہو کیونکر اتفاقبھوکوں مرنا راہ چلنے میں ہے شاق

۲۴۶

سوچ کر آپس میں وے آگے گئےدن گئے تھے رات بھی جاگے گئے

۲۴۷

راہ میں دو چار فاقے بھی کیےکتنے ان میں سے موئے کتنے جیے

۲۴۸

طے ہوئے وے دشت جوں ہی ہولناکدشت ماراں پہنچے کچھ بے خوف و باک

۲۴۹

دیکھی اس کے ناحیہ میں ایک دھومتھا چرندوں کا درندوں کا ہجوم

۲۵۰

جمع رہتے تھے طیور دشت بھیصبح سے تھی ترک سیر و گشت بھی

۲۵۱

شور بیتابی سے بعضے تھے دہمسن کے نالے بعضے کر جاتے تھے رم

۲۵۲

حزن سے ہوتا ہے جس دم نالہ کشپاس ہی کچھ جانور کرتے ہیں غش

۲۵۳

دیکھ وا منقار اس کی رحم کرکچھ نہ کچھ رکھ دیتے منھ میں جانور

۲۵۴

کوئی دانہ بوند پانی گھاس پاتکاٹتا تھا اس طرح دن اور رات

۲۵۵

یا رکا تو سست سی پرواز کیاس بیاباں میں حزیں آواز کی

۲۵۶

کچھ اڑا بیتاب کچھ رکنے لگاسنگریزے کنکری چکنے لگا

۲۵۷

گر کہیں دوچار دانے پا گیاشکر کر اپنی زباں میں کھا گیا

۲۵۸

جو کسو تالاب سے پانی پیاآسماں کی اور منھ اپنا کیا

۲۵۹

تو نہ دے تو یعنی مجھ کو کون دےپرشکستہ کی خبر یوں کون لے

۲۶۰

سن کے راجا یہ خبر شاداں ہواخشمگیں تر خانہ آباداں ہوا

۲۶۱

حکم کش لوگوں سے اپنے یہ کہادیر اس موذی کے غم میں میں رہا

۲۶۲

اب یہ مژدہ لائے ہیں جاسوس جاان بنوں میں ایک بن میں وہ بھی تھا

۲۶۳

مجھ کو جانا اس طرف کا ہے اہمکھا گیا ہے جان اس دشمن کا غم

۲۶۴

لوگ میرے گرچہ ہیں حاضریراقپھر رکھو کچھ اور بھی بہر یساق

۲۶۵

جنگ حیوانات سے ہے بیشترہیں طرف اژدر نمر شیراں شتر

۲۶۶

یہ لڑائی طول کو گر کھنچ گئیہمت مردانہ سنیو ہچ گئی

۲۶۷

ہے لڑائی سخت کوہستان کیپھر بہم حیوان اور انسان کی

۲۶۸

منھ پسارے اژدہے ہیں گرم جنگکھینچ کر نگلے ہیں دم سے خشت و سنگ

۲۶۹

آئے ہاتھی بھی اتر گر کوہ سےہوسکے گا پھر نہ کچھ انبوہ سے

۲۷۰

ہوگیا باراہ سد راہ گرلیویں گے جاکر نفر راہ دگر

۲۷۱

ہو اگر جاموش دشتی سے مصافتو کوئی دم ہی کو ہے میدان صاف

۲۷۲

کرگدن آکر اگر ہوگا طرفتو الٹ دیوے گا کوئی صف کی صف

۲۷۳

منھ چڑھیں گے اس کے مردم کم بہتاک طرف ہو جاوے گا عالم بہت

۲۷۴

ہوگئی گر خرس سے استادگیدرمیاں آجائے گی افتادگی

۲۷۵

منھ اگر گرگ بغل زن آگیادیکھیو پیٹھ اک جہاں دکھلا گیا

۲۷۶

یوز و گرگ و شیر اگر آجائیں گےبددلوں کی فوج کو کھا جائیں گے

۲۷۷

مست ہاتھی ہوگئے چہرہ اگرمنھ چھپا لیں گے سپاہی بیشتر

۲۷۸

سامنے ہوگا اگر مار سیاہسامنے اس کے نہ ہووے گی سپاہ

۲۷۹

گرم کیں اژدر کوئی گر آگیاکھا گیا چٹ کر گیا جیتا گیا

۲۸۰

لوگ رکھو الغرض صاحب جگرپہنچیں سر پر مدعی کے بیشتر

۲۸۱

جدول ان کی تیغ کی جاری رہےان کی تردستی سے وہ عاری رہے

۲۸۲

ساتھ راجا کے گیا جم غفیرہم صغیر و ہم جوان و ہم کبیر

۲۸۳

راوراجا ساتھ جب سارے گئےکچھ نہ بولے شرم کے مارے گئے

۲۸۴

منزلیں طے ہوکے آئے دشت و دراترے واں جا لوگ لشکر سربسر

۲۸۵

بھڑکی آتش عشق کی جنگل جلےدوں لگا وہ طائر و اژدر چلے

۲۸۶

آگ پھیلی ان بنوں میں دور تکجل گئے حیواں کئی لنگور تک

۲۸۷

مار و اژدر اژدہے بھلسے گئےشیر و گرگ و کرگدن جھلسے گئے

۲۸۸

جل گیا طاؤس بھی اس آگ میںجی گئے بہتیرے دل کی لاگ میں

۲۸۹

مور کا مردہ گیا راجا کے پاساور جھلسے بھلسے طائر بے حواس

۲۹۰

پھر پڑی جو آگ سب لشکر جلااور راجا کا بھی اودھر گھر جلا

۲۹۱

یعنی رانی نے سنی جو یہ خبرآتش غم سے جلا اس کا جگر

۲۹۲

کھینچ آہ سرد یہ کہنے لگیعشق کی بھی آگ کیا بہنے لگی

۲۹۳

بن جلا کر بستیوں میں آلگیپھیل کر یاں دل جگر کو جالگی

۲۹۴

جمع کر خاشاک و خار و خس شتابجل گئی دے آگ وہ بھی بس شتاب

۲۹۵

کیا لگی تھی دل کو رانی جل گئیخاک ہوکر خاک ہی میں رل گئی

۲۹۶

عشق ہی کی ہیں یہ تازہ کاریاںعشق نے پردے میں جانیں ماریاں

۲۹۷

مور کے بدلے جلایا دشت مارمار و اژدر جل گئے چندیں ہزار

۲۹۸

جل کے لشکر ہوگیا تھا بے چراغیہ خبر سن ہوگیا راجا بھی داغ

۲۹۹

عشق سے کیا میرؔ اتنی گفت و گوخاک اڑا دی عشق نے ہر چار سو

۳۰۰

درمیاں نے کوہ نے انبوہ ہےرانی کا راجا کا اب اندوہ ہے

۳۰۱

طائر و طاؤس و حیواں اژدہےسب کھپے کیا عشق کی کوئی کہے

۳۰۲

یہ فسانہ رہ گیا عالم کے بیچبازماندہ ان کے ہیں سب غم کے بیچ

۵۵۵ / ۵۸۲