کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

معاملات عشق

۱

کچھ حقیقت نہ پوچھو کیا ہے عشقحق اگر سمجھو تو خدا ہے عشق

۲

عشق ہی عشق ہے نہیں ہے کچھعشق بن تم کہو کہیں ہے کچھ

۳

عشق تھا جو رسول ہو آیاان نے پیغام عشق پہنچایا

۴

عشق حق ہے کہیں نبی ہے کہیںہے محمدؐ کہیں علیؓ ہے کہیں

۵

عشق عالی جناب رکھتا ہےجبرئیل و کتاب رکھتا ہے

۶

عشق حاضر ہے عشق غائب ہےعشق ہی مظہر عجائب ہے

۷

عشق کیا کیا مصیبتیں لایاروز کو رات کرکے دکھلایا

۸

عشق میں لوگ زہر کھاتے ہیںعشق سے رنگ سبز پاتے ہیں

۹

عشق سر تا قدم امید ہوازیر تیغ ستم شہید ہوا

۱۰

مجھ سے مت پوچھ یہ کنھیں ہے عشقعشق ہے ان ہی کو جنھیں ہے عشق

۱۱

عشق سے رنگ زرد ہوتا ہےعشق سے دل میں درد ہوتا ہے

۱۲

رہتے ہیں عشق ہی میں مژگاں تریہیں دیکھی ہیں آنکھیں آتے بھر

۱۳

عشق ہی کا خراب ہے کنعاںعشق ہے ایک خانہ آباداں

۱۴

عشق لایا ہے آفتیں کیا کیااس سے آئیں قیامتیں کیا کیا

۱۵

قیس کیا رنج کھینچ کھینچ مواسر پہ فرہاد کے سنا جو ہوا

۱۶

عشق نے چھاتیاں جلائی ہیںآگیں کس کس جگہ لگائی ہیں

۱۷

عشق میں ایک جی کو کھو بیٹھےایک آنکھوں کو روکے رو بیٹھے

۱۸

ایکوں کا جیب تا بہ دامن چاکایک ڈالے ہے سر کے اوپر خاک

۱۹

شان ارفع ہیں جن کی خوار ہیں یاںعقل والے جنوں شعار ہیں یاں

۲۰

خستۂ عشق کچھ نہ میرؔ ہوئےبادشہ عشق میں فقیر ہوئے

۲۱

کوئی دل تنگ ہو کنویں میں گراکوئی ڈوبا کوئی گیا نہ پھرا

۲۲

جب پتنگا ہوا تھا اس سے داغتب دیا جی کو ان نے پیش چراغ

۲۳

عشق کی فاختہ ستم کش ہےعشق سے عندلیب دم کش ہے

۲۴

عشق باعث ہوا وطن چھوٹےمرغ پکڑے گئے چمن چھوٹے

۲۵

مایۂ درد و رنج سب ہے عشقمتصل رونے کا سبب ہے عشق

۲۶

پڑ گئے دل جگر میں آخر چھیدکچھ نہ پایا کنھوں نے عشق کا بھید

۲۷

اپنی تیغ ستم جو اینچے عشقجامے بہتوں کے خوں میں کھینچے عشق

۲۸

عشق سے قمری ہے حریف سرومہ سے آنکھیں لڑا رہا ہے تدرو

۲۹

عشق کے دل فگار سارے ہیںان نے کیا کیا جوان مارے ہیں

۳۰

کہیں حق ناحق ان نے خون کیےکہیں سر پر کھڑا ہے تیغ لیے

۳۱

کوئی محو گزاف ہیں اس سےکہیں میدان صاف ہیں اس سے

۳۲

اس سے یک جمع نے لیا ہے جوگایک فرقے کا ہے یہ جی کا روگ

۳۳

ایک کے لب پہ آہ ہے اس سےایک کا دن سیاہ ہے اس سے

۳۴

ایک کا شیوہ اس سے نالہ کشیایک کو بے دمی ہے جیسے غشی

۳۵

ایک ناشاد زندگانی سےایکوں کے دل گداز پانی سے

۳۶

ایک کے پھول گل پہ نالے ہیںایک کے جان ہی کے لالے ہیں

۳۷

ایک نے کوہ اس سے توڑ دیےایک تنکا کر ان نے چھوڑ دیے

۳۸

چپ لگی ہے کسو کو اس کے سبببند رہتے نہیں کسو کے لب

۳۹

کوئی باتیں کرے ہے شوق کے ساتھکوئی چپکا ہوا ہے ذوق کے ساتھ

۴۰

ہے تواجد کسی کو حال کہیںکہیں نقصان ہے کمال کہیں

۴۱

ایک محو لباس عریانیایک سرگرم دامن افشانی

۴۲

کسو کا ذکر کوئی ذاکر ہےکوئی صابر ہے کوئی شاکر ہے

۴۳

کہیں وسعت کہیں ہے تنگ اوقاتعشق کے ہیں گے مختلف حالات

۴۴

سیر قابل ہیں اس کے دیوانےسننے کے گوں ہیں اس کے افسانے

۴۵

وصل میں جن کے دل رہیں بے جافصل ہو تو انھوں کا حال ہو کیا

۴۶

اس بلا سے مجھے بھی کام ہواعاشق زار میرا نام ہوا

۴۷

قصہ میرا بھی سانحہ ہے عجبکس پہ گذرا ہے یہ ستم یہ غضب

معاملۂ اول

۴۸

ایک صاحب سے جی لگا میراان کے عشووں نے دل ٹھگا میرا

۴۹

ابتدا میں تو یہ رہی صحبتنام سے ان کے تھی مجھے الفت

۵۰

خوبی ان کی جو سب کہا کرتےگوش میرے ادھر رہا کرتے

۵۱

بخت برگشتہ پھر جو یار ہوئےاک طرح مجھ سے وے دوچار ہوئے

۵۲

کیا کہوں طرز دیکھنے کی آہدل جگر سے گذر گئی وہ نگاہ

۵۳

چپکے منھ ان کا دیکھ رہتا میںجی میں کیا کیا یہ کچھ نہ کہتا میں

۵۴

وے تو ہر چند اپنے طور کے تھےپر تصرف میں ایک اور کے تھے

۵۵

کرتے ظاہر میں احتیاط بہتمجھ سے بھی رکھتے اختلاط بہت

۵۶

بات کی طرز میری ہی بھاتیمیری آزردگی نہ خوش آتی

۵۷

پیار چتون سے پھر نکلنے لگادیکھنا دل کو میرے ملنے لگا

۵۸

کہیں دیکھوں تو بات دیر کہیںبے دماغ اور بے گمان رہیں

۵۹

کچھ کچھ آزار مجھ کو دینے لگےقسم اقسام مجھ سے لینے لگے

۶۰

میں جو کھاتا قسم تو ہو برہمکہنے لگتے کہ کیا گدا کی قسم

۶۱

ایک دو دن میں بعد رفع ملاللطف سے پوچھتے کہو کچھ حال

۶۲

جو گذرتی تھی مجھ پہ میں کہتایا کوئی اشک آنکھ سے بہتا

۶۳

دیکھ کر روتے آپ بھی روتےدل دہی کرتے جب تلک سوتے

معاملۂ دوم

۶۴

ایک مدت تلک یہ صحبت تھیکبھو الفت کبھو یہ کلفت تھی

۶۵

رفتہ رفتہ سلوک بیچ آیاہاتھ پاؤں کو اپنے لگوایا

۶۶

گاہ بے گاہ پاؤں پھیلاتےمیری آنکھوں سے تلوے ملواتے

۶۷

چل کر آتے تھے جب کبھو ایدھرپاؤں رکھتے تھے میری آنکھوں پر

۶۸

دیکھنے میں تو پائمالی تھیحسن سے چال یہ نہ خالی تھی

۶۹

جلتی چھاتی تو ہوتا میں سائلکہ ٹک اے سرو ہو ادھر مائل

۷۰

کف پا رکھیے یاں تو احساں ہےتیرے پاؤں تلے مری جاں ہے

۷۱

ہنس کے سینے پہ پاؤں رکھ دیتےدل مرا یوں بھی ہاتھ میں لیتے

۷۲

کیا کہوں کیسا قد بالا ہےقالب آرزو میں ڈھالا ہے

۷۳

ایک جاگہ سے ایک جاگہ خوبپیکر نازک اس کے سب محبوب

۷۴

موے سر ایسے جی بھی کریے نیازبل ہی کھایا کرے یہ عمر دراز

۷۵

اس کے کاکل سے حرف سر نہ کروکاکل صبح پر نظر نہ کرو

۷۶

کچھ بھی نسبت ہے تم کو سودا ہےکالے کوسوں کی بات کا کیا ہے

۷۷

اس کی زلفوں میں دل گئے نہ پھرےرہے سنبل کے پیچ پاچ دھرے

۷۸

اس جبیں سے ہے دل کی کب جاذبصبح صادق کے دعوے ہیں کاذب

۷۹

ویسی بھوئیں کشیدہ بھی ہیں کہیںیہ کمانیں کسو سے کھنچتی نہیں

۸۰

پھری پلکوں کی اور سب کی نگاہچشم پر میری تیری چشم سیاہ

۸۱

کہوں چتون کے دیکھنے کے طوراس قیامت پہ وہ قیامت اور

۸۲

سطح رخسار آئینے سے صافجو نہ ٹھہرے نگہ تو رکھیے معاف

۸۳

لطف بینی کا فہم ہے دشوارایک باریک بینی ہے درکار

۸۴

کیا جھمکتا ہے ہائے رنگ قبولجیسے مکھڑا گلاب کا سا پھول

۸۵

ہے دہن تنگی سے سخن کوتاہکچھ نکلتی نہیں سخن کی راہ

۸۶

اس سے گل کیا چنے کوئی ہمدمغنچۂ ناشگفتہ سے بھی کم

۸۷

برگ گل سے زباں ہے نازک ترپھول جھڑتے ہیں بات بات اوپر

۸۸

کیا کہوں کم ہیں ایسے شیریں گووہ زباں کاش میرے منھ میں ہو

۸۹

دم بدم سوے گوش اشارۂ صبحگوہر گوش یا ستارۂ صبح

۹۰

جب بناگوش ان نے دکھلایاصبح کا سا سماں نظر آیا

۹۱

ان لبوں کا مزا لیا سو بھانتتس کے اوپر ہمارا بھی ہے دانت

۹۲

تم نہ گل برگ و لعل ناب کہوبات جب تک نہ ٹھہرے چپکے رہو

۹۳

کوئی جاں بخش یوں کہے سو کہےہم تو مرتے ہی ان لبوں پہ رہے

۹۴

کنج لب آرزوے جان و دلآگے چلنا نگاہ کو مشکل

۹۵

ان لبوں سے جو کوئی کام رکھےقند و مصری کو کیوں نہ نام رکھے

۹۶

جو حلاوت انھوں کی کہیے ابہم دگر سے جدا نہ ہوویں لب

۹۷

جب وے کھاتے ہیں بیڑۂ پاں کورو نہیں دیتے لعل و مرجاں کو

۹۸

ایسی ہوتی نہیں ہے سرخ لبیرنگ گویا ٹپک پڑے گا ابھی

۹۹

ہو تبسم سے لعل کا دل خوںہنستے دیکھا تھا سو مجھے ہے جنوں

۱۰۰

نہیں دیکھے مسی ملے دنداںبرق ابر سیہ ہے تب خنداں

۱۰۱

کیسے کیسے چمکتی ہے بے تہجگ ہنسائی کرے ہے اپنی یہ

۱۰۲

بو اگر کیجے اس زنخ کا سیبجائے سر سے جنون کا آسیب

۱۰۳

رہے گردن میں ان کی میرا ہاتھیہ تو یارب ہے میرے جی کے ساتھ

۱۰۴

بس چلے تو گلے لگا ہی رہوںتیغ سے پھر جدا کریں تو نہ ہوں

۱۰۵

اس میں ہرچند جی کا نقصاں ہےمدعا اختلاط چسپاں ہے

۱۰۶

خوش و پرکار کب پری ان سیاور ہو تو کہاں ہے ہم جنسی

۱۰۷

دیکھے ازبس برآمدہ سینےایسا معلوم دل جو یوں چھینے

۱۰۸

کیا نظرگاہ کی کروں خوبینظریں اٹھتی نہیں یہ محبوبی

۱۰۹

شانہ و دست و ساعد و بازودلکشی میں تمام یک پہلو

۱۱۰

اس کے تو پہلو سے میں ہوکے جدادرد پہلو سے تنگ دل ہی رہا

۱۱۱

ہائے اس سے خدا جدا نہ کرےدور اس سے جیوں خدا نہ کرے

۱۱۲

یوں نہیں سرخ اس کی ہر انگشتڈوبی ہیں میرے خون میں یک مشت

۱۱۳

وہ کف دست راحت جاں ہےکاش سینے پہ رکھ دے غم یاں ہے

۱۱۴

کیا بیاں خوبی شکم کو کرےدیکھنے سے کبھو نہ پیٹ بھرے

۱۱۵

صدر کے ناحیے سے لے تا نافچپ کی جاگہ ہے کیونکے کہیے صاف

۱۱۶

اس سے پھر آگے غنچۂ گل ہےیاں سخن بابت تامل ہے

۱۱۷

پردے میں بھی جو کچھ کہا جاوےآپ سے تو نہ ٹک رہا جاوے

۱۱۸

گئی نظروں سے وہ کمر باریکہو نہ آنکھوں میں کیوں جہاں تاریک

۱۱۹

اور کیا دل زدے کو بات آوےکہیں یارب شتاب ہاتھ آوے

۱۲۰

نازکی اس میاں کی کیا کہیےبنے تو ہاتھوں میں لیے رہیے

۱۲۱

ٹک اگر لچکے تو قیامت ہےپھر قیامت تلک ندامت ہے

۱۲۲

کیوں پڑی ران پر نظر تا ساقاس بن اب زندگی ہوئی ہے شاق

۱۲۳

پاے جاناں سے گفتگو ہے ابخاک میں ملنے کا یہی ہے ڈھب

۱۲۴

وہ قدم کاش فرق سر پر ہوساق سیمیں مری کمر پر ہو

۱۲۵

وہ کف پا قریب ہو میرےٹھوکر اس کی نصیب ہو میرے

۱۲۶

پنڈلی نازک ہے شاخ سنبل کیپشت پا پنکھڑی سی ہے گل کی

۱۲۷

یوں نصیبوں سے ہو حنا کا ناؤںورنہ ڈوبے ہیں میرے خوں سے پاؤں

۱۲۸

ناخن پا حنائی ہیں ایسےبرگ گل پاے سرو ہوں جیسے

۱۲۹

ہو خراماں تو اس طرف نگہیںگل کفش اس کی لوگ دیکھ رہیں

۱۳۰

گل و بلبل سبھی تماشائیآگئے جس طرف بہار آئی

۱۳۱

رنگ رفتار دیکھ مجنوں ہوطرز گفتار جیسے افسوں ہو

۱۳۲

سر سے پاؤں تلک وہ محبوبیساتھ ان خوبیوں کے یہ خوبی

۱۳۳

کہ بہت دل ہے آشناے رحمدردمندوں کو جانے جاے رحم

۱۳۴

اب جو ثابت ہوئی ہے میری چاہاس کو مدنظر ہے مجھ سے نباہ

۱۳۵

طعن و تعریض بیچ میں آئےکچھ نہ خاطر میں وہ مجھے لائے

۱۳۶

رستے میں اک طرف وفا کے لیےچلے جاتے ہیں مجھ پہ لطف کیے

۱۳۷

نہیں آزار کی رواداریمہرورزی ہے یا وفاداری

۱۳۸

پر جو معشوقی آب و گل میں ہےچھیڑ رکھنے کا شوق دل میں ہے

۱۳۹

میں کروں تو کہیں خوش آتا ہےتیرا آزار جی سے بھاتا ہے

۱۴۰

خواہ ناخواہ وہ نہیں منظورکہ رہے دل شدہ مرا رنجور

۱۴۱

یہ بھی شوخی سے ہے گہے گاہےپر اس انداز سے کہ جی چاہے

معاملۂ سوم

۱۴۲

ایک دن فرش پر تھا میرا ہاتھباتیں کرتے تھے وے بھی میرے ساتھ

۱۴۳

پاؤں سے ایک انگلی مل ڈالیلطف سے درد وہ نہ تھا خالی

۱۴۴

درد سے کی جو میں نے بے تابیدست نازک سے دیر تک دابی

۱۴۵

یاد آتے ہیں ایسے لطف جو ابگذرے ہیں جان غم زدہ پہ غضب

۱۴۶

تن بدن دیکھ جی نہ رہتا تھامیں جو گستاخ ہوکے کہتا تھا

۱۴۷

کہ یہ جاگہ تم اس فقیر کو دومتبسم ہو کہتے وے یہ لو

۱۴۸

یہ بھی کیا کیا خیال رکھتے ہیںآرزوے محال رکھتے ہیں

۱۴۹

پھر گھڑی بھر میں کہتے ہو نہ ملولمار کھانے کی باتیں سب ہیں قبول

۱۵۰

جب سلوک ان کا یاد آتا ہےکیا کہوں جی ہی بھول جاتا ہے

معاملۂ چہارم

۱۵۱

ایک دن پان وے چباتے تھےسرخ لب ان کے مجھ کو بھاتے تھے

۱۵۲

کہہ اٹھا میں اگر اگال مجھےمنھ سے دو تو کرو نہال مجھے

۱۵۳

بولے یوں ہی ہے میں کہا ہاں سچجھوٹا کھاتے ہیں میٹھے کی لالچ

۱۵۴

ہنس کے اس وقت مجھ کو ٹال دیاپھر اسی رنگ سے اگال دیا

۱۵۵

ایسی صدرنگ مہربانی تھیتب سیہ رو کی زندگانی تھی

۱۵۶

اب کے سے رنگ گر فلک لاتاخاک کے رنگ میں مجھے پاتا

معاملۂ پنجم

۱۵۷

منقبت ایک مجھ سے کہوایاجس کا میں نے صلہ انھیں پایا

۱۵۸

پھر وہی کرتے میں جو کچھ کہتاایک پردہ سا بیچ میں رہتا

۱۵۹

دوستی رابطہ وفا اخلاصساتھ میرے تھا ان کو رابطہ خاص

۱۶۰

میں تقاضائی ملنے کا رہتامختلط ہونے کو سدا کہتا

۱۶۱

میری تسکیں تھی ہر زماں منظورآپ بھی کرتے ملنے کا مذکور

۱۶۲

وصل کے وعدے ہی رہا کرتےآج کل رات دن کہا کرتے

۱۶۳

دل تو تھا رحم آشنا ازبسکڑھتے تھے جان کر مجھے بے کس

۱۶۴

جانتے تھے کہ ہے یہ دل دادہسید خستہ خاک افتادہ

۱۶۵

دیکھتے مجھ کو جو پریشاں دلکہتے اے میرؔ کچھ نہیں حاصل

۱۶۶

دیکھ ٹک تو ہی تیرا حال ہے کیاجانے دے اب بھی یہ خیال ہے کیا

۱۶۷

آفت جاں ہے دوستی کرناکب تلک گھٹ کے اس طرح مرنا

۱۶۸

میں جو دیوانہ ان کے رو کا تھاشیفتہ پیچ دار مو کا تھا

۱۶۹

کچھ نہ سمجھی گئی کہن ان کیاب جدائی جو ہے کٹھن ان کی

۱۷۰

یاد کرتا ہوں اور روتا ہوںوعدہ بن ہی ہلاک ہوتا ہوں

معاملۂ ششم

۱۷۱

گل روؤں بن جگر ہے داغ کبابگیسوؤں بن ہے جی کو پیچ و تاب

۱۷۲

صورت ان کی خیال میں ہردمخواب میں جو ہوں وہ مژہ باہم

۱۷۳

میں تو بستر پہ دل شکستہ اداسچاند سا منھ انھوں کا تکیے پاس

۱۷۴

میں بچھونے پہ بے خود و بے خوابایک پیکر پری کا سا ہم خواب

۱۷۵

فرش پر پاؤں یہ غبار آلودان میں وے دونوں پا نگارآلود

۱۷۶

میں تو افتادہ محو عجز و نیازبازو میرے کسو کی بالش ناز

۱۷۷

جلتی آنکھوں کنے گل رخسارجس پہ کچھ بکھرے موے عنبربار

۱۷۸

پاس منھ کے وے لال تر نازکدست گستاخ پر کمر نازک

۱۷۹

فرش اس گل بدن سے سب بویاپھول میں نے بچھائے تھے گویا

۱۸۰

شب کٹی صورت خیالی سےدن کو ہوں میں شکستہ حالی سے

۱۸۱

گرچہ روزانہ بھی تصور تھالیکن اندوہ سے مکدر تھا

۱۸۲

کہیں تصویر سی نظر آئیکہیں منھ پھیر جیسے شرمائی

۱۸۳

کبھی دل ان کے روومو میں رہےکبھی ملنے کی آرزو میں رہے

۱۸۴

صورت حال اور کچھ ہر دمگاہ لب خشک گاہ مژگاں نم

۱۸۵

میں بھی مقدور تک وفا کی ہےجان غمناک پر جفا کی ہے

۱۸۶

برسوں تک میں پھرا ہوں سرگرداںروز و شب دونوں تھے مجھے یکساں

۱۸۷

نے فقط جان سے جہاں سے گیازن و فرزند خانماں سے گیا

۱۸۸

کیچ پانی ہو مینھ ہو یا برساتروز روشن ہو یا اندھیری رات

۱۸۹

ان تلک میرے تیں پہنچ رہنابیٹھے منھ دیکھنا نہ کچھ کہنا

۱۹۰

آشنا یار سارے بیگانےکہ ہوئے میرؔ جی تو دیوانے

۱۹۱

رشتۂ ربط انھوں نے توڑ دیاملنا جلنا سبھوں نے چھوڑ دیا

۱۹۲

نظر آتے نہیں ہیں مدت سےانس پیدا کیا ہے وحشت سے

۱۹۳

صبح ہوتے ہی گھر سے چلتے ہیںجیسے کھوئے گئے نکلتے ہیں

۱۹۴

چلتے جاتے ہیں دیکھتے ہی راہپر کہیں کی کہیں پڑے ہے نگاہ

۱۹۵

مل گیا جو کوئی تو بچ نکلےسڑی خبطی دوانے سچ نکلے

۱۹۶

شوق سے ان کے حال دیگرگوںپارہ پارہ دل و جگر سب خوں

۱۹۷

رنگ ہر دم مزاج کا کچھ اورکل کا کچھ اور آج کا کچھ اور

۱۹۸

کیا بیاں کریے بے قراری کاذکر کیا حال اضطراری کا

۱۹۹

جی پڑا ترسے ساتھ سونے کودل پریشان جمع ہونے کو

۲۰۰

پاس ان کے رہوں تو دل کو قرارپھر نہ ٹھہرے ٹک ایک کریے ہزار

۲۰۱

گئی برباد عزت ان کے لیےجلف لوگوں نے منھ پہ طعنے دیے

۲۰۲

گھورے پر سے جو اٹھ نہ سکتے تھےوے بھی کناس پوچ بکتے تھے

۲۰۳

سفر آیا جو ان کے تیں درپیشساتھ اس رنج میں بھی تھا درویش

۲۰۴

کیا کہوں جو اذیتیں دیکھیںہر قدم پر قیامتیں دیکھیں

۲۰۵

جو پڑھے گا تسنگ نامہ یاںہوگی ساری حقیقت اس پہ عیاں

۲۰۶

یاں نہ تفصیل کرنے کا تھا مقامکہ محبت سے یاں ہے حرف کلام

معاملۂ ہفتم

۲۰۷

بارے کچھ بڑھ گیا ہمارا ربطہوسکا پھر نہ دو طرف سے ضبط

۲۰۸

تب ہوا بیچ سے یہ رفع حجابجب بدن میں رہی نہ مطلق تاب

۲۰۹

ایک دن ہم وے متصل بیٹھےاپنے دل خواہ دونوں مل بیٹھے

۲۱۰

شوق کا سب کہا قبول ہوایعنی مقصود دل حصول ہوا

۲۱۱

واسطے جس کے تھا میں آوارہہاتھ آئی مرے وہ مہ پارہ

۲۱۲

گہ گہے دست دی ہم آغوشیہم سری ہم کناری ہم دوشی

۲۱۳

چند روز اس طرح رہی صحبتپیار اخلاص رابطہ الفت

۲۱۴

کچھ کہوں جو انھوں کی ہو تقصیرنارسائی تھی طالعوں کی میرؔ

۲۱۵

ہوگئے بخت اپنے برگشتہپھر کیا آسماں نے سرگشتہ

۲۱۶

بات ایسی ہی اتفاق پڑیکہ ہوئی سر پہ فرقت آن کھڑی

۲۱۷

لگی کہنے کہ مصلحت ہے یہکتنے روزوں جدا تو مجھ سے رہ

۲۱۸

یوں بھی آتا ہے عشق میں درپیشکہ نشان بلا ہوں الفت کیش

۲۱۹

میں اٹھایا نہیں ہے تجھ سے ہاتھکڑھیو مت تو ہے میری جان کے ساتھ

۲۲۰

اس جدائی کا مجھ کو بھی غم ہےکیا کروں آبرو مقدم ہے

۲۲۱

میں کہوں کیا مجھے نہ اپنا ہوشجیسے تصویر سامنے خاموش

۲۲۲

آنسو آنکھوں میں پر پیے جاؤںوے کہیں کچھ تو ہاں کیے جاؤں

۲۲۳

ان سے رخصت ہوئے جو بعد شامتیرہ دیکھا جہان کو ہر گام

۲۲۴

دل ٹھہرتا نہ تھا ملالت تھیجان کو رفتگی کی حالت تھی

۲۲۵

یوں ہوا ان کے کوچے سے آناجیسے ہووے جہان سے جانا

۲۲۶

اب جو گھر میں ہوں تو فسردہ ساچارپائی پہ ہوں تو مردہ سا

۲۲۷

جی انھوں میں فسردہ قالب یاںمتحرک ہو کیا تن بے جاں

۲۲۸

حال دل کا کہوں جو ہمدم ہوکروں پیغام کچھ جو محرم ہو

۲۲۹

جی میں کچھ آیا رو کے بیٹھ رہادل زدہ چپکا ہوکے بیٹھ رہا

۲۳۰

کوئی آیا جو واں سے جی آیاسو نہ آیا کبھی کبھی آیا

۲۳۱

دیکھیے چند یوں رہیں گے جداچاہے ہے کیا ہمارے حق میں خدا

۲۳۲

خون دل کب تلک پئیں گے ہمرنگ یہ ہے تو کیا جئیں گے ہم

۲۳۳

آہ کیا کیا بیاں کروں خوبیدل دہی حال پرسی محبوبی

۲۳۴

تند ہوکر نہ بات کو کہناملتفت حال زار پر رہنا

۲۳۵

لطف مبذول حال پر ہر آنتازہ ہر دم مروت و احسان

۲۳۶

لب سے جاں بخش حرف سے دل جولطف سے پوچھنا کہ خوش ہے تو

۲۳۷

یاد کر روؤں ان کی کون سی باتکس طرح کاٹوں ہجر کے اوقات

۲۳۸

ملنا ان سے ہو پھر گھٹے غم بھیآئے جیتوں میں جانیے ہم بھی

۲۳۹

مدت ہجر اگر تمام ہوئیورنہ اپنی تو صبح شام ہوئی

۵۵۶ / ۵۸۲