کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
معاملات عشق
کچھ حقیقت نہ پوچھو کیا ہے عشقحق اگر سمجھو تو خدا ہے عشق
عشق ہی عشق ہے نہیں ہے کچھعشق بن تم کہو کہیں ہے کچھ
عشق تھا جو رسول ہو آیاان نے پیغام عشق پہنچایا
عشق حق ہے کہیں نبی ہے کہیںہے محمدؐ کہیں علیؓ ہے کہیں
عشق عالی جناب رکھتا ہےجبرئیل و کتاب رکھتا ہے
عشق حاضر ہے عشق غائب ہےعشق ہی مظہر عجائب ہے
عشق کیا کیا مصیبتیں لایاروز کو رات کرکے دکھلایا
عشق میں لوگ زہر کھاتے ہیںعشق سے رنگ سبز پاتے ہیں
عشق سر تا قدم امید ہوازیر تیغ ستم شہید ہوا
مجھ سے مت پوچھ یہ کنھیں ہے عشقعشق ہے ان ہی کو جنھیں ہے عشق
عشق سے رنگ زرد ہوتا ہےعشق سے دل میں درد ہوتا ہے
رہتے ہیں عشق ہی میں مژگاں تریہیں دیکھی ہیں آنکھیں آتے بھر
عشق ہی کا خراب ہے کنعاںعشق ہے ایک خانہ آباداں
عشق لایا ہے آفتیں کیا کیااس سے آئیں قیامتیں کیا کیا
قیس کیا رنج کھینچ کھینچ مواسر پہ فرہاد کے سنا جو ہوا
عشق نے چھاتیاں جلائی ہیںآگیں کس کس جگہ لگائی ہیں
عشق میں ایک جی کو کھو بیٹھےایک آنکھوں کو روکے رو بیٹھے
ایکوں کا جیب تا بہ دامن چاکایک ڈالے ہے سر کے اوپر خاک
شان ارفع ہیں جن کی خوار ہیں یاںعقل والے جنوں شعار ہیں یاں
خستۂ عشق کچھ نہ میرؔ ہوئےبادشہ عشق میں فقیر ہوئے
کوئی دل تنگ ہو کنویں میں گراکوئی ڈوبا کوئی گیا نہ پھرا
جب پتنگا ہوا تھا اس سے داغتب دیا جی کو ان نے پیش چراغ
عشق کی فاختہ ستم کش ہےعشق سے عندلیب دم کش ہے
عشق باعث ہوا وطن چھوٹےمرغ پکڑے گئے چمن چھوٹے
مایۂ درد و رنج سب ہے عشقمتصل رونے کا سبب ہے عشق
پڑ گئے دل جگر میں آخر چھیدکچھ نہ پایا کنھوں نے عشق کا بھید
اپنی تیغ ستم جو اینچے عشقجامے بہتوں کے خوں میں کھینچے عشق
عشق سے قمری ہے حریف سرومہ سے آنکھیں لڑا رہا ہے تدرو
عشق کے دل فگار سارے ہیںان نے کیا کیا جوان مارے ہیں
کہیں حق ناحق ان نے خون کیےکہیں سر پر کھڑا ہے تیغ لیے
کوئی محو گزاف ہیں اس سےکہیں میدان صاف ہیں اس سے
اس سے یک جمع نے لیا ہے جوگایک فرقے کا ہے یہ جی کا روگ
ایک کے لب پہ آہ ہے اس سےایک کا دن سیاہ ہے اس سے
ایک کا شیوہ اس سے نالہ کشیایک کو بے دمی ہے جیسے غشی
ایک ناشاد زندگانی سےایکوں کے دل گداز پانی سے
ایک کے پھول گل پہ نالے ہیںایک کے جان ہی کے لالے ہیں
ایک نے کوہ اس سے توڑ دیےایک تنکا کر ان نے چھوڑ دیے
چپ لگی ہے کسو کو اس کے سبببند رہتے نہیں کسو کے لب
کوئی باتیں کرے ہے شوق کے ساتھکوئی چپکا ہوا ہے ذوق کے ساتھ
ہے تواجد کسی کو حال کہیںکہیں نقصان ہے کمال کہیں
ایک محو لباس عریانیایک سرگرم دامن افشانی
کسو کا ذکر کوئی ذاکر ہےکوئی صابر ہے کوئی شاکر ہے
کہیں وسعت کہیں ہے تنگ اوقاتعشق کے ہیں گے مختلف حالات
سیر قابل ہیں اس کے دیوانےسننے کے گوں ہیں اس کے افسانے
وصل میں جن کے دل رہیں بے جافصل ہو تو انھوں کا حال ہو کیا
اس بلا سے مجھے بھی کام ہواعاشق زار میرا نام ہوا
قصہ میرا بھی سانحہ ہے عجبکس پہ گذرا ہے یہ ستم یہ غضب
معاملۂ اول
ایک صاحب سے جی لگا میراان کے عشووں نے دل ٹھگا میرا
ابتدا میں تو یہ رہی صحبتنام سے ان کے تھی مجھے الفت
خوبی ان کی جو سب کہا کرتےگوش میرے ادھر رہا کرتے
بخت برگشتہ پھر جو یار ہوئےاک طرح مجھ سے وے دوچار ہوئے
کیا کہوں طرز دیکھنے کی آہدل جگر سے گذر گئی وہ نگاہ
چپکے منھ ان کا دیکھ رہتا میںجی میں کیا کیا یہ کچھ نہ کہتا میں
وے تو ہر چند اپنے طور کے تھےپر تصرف میں ایک اور کے تھے
کرتے ظاہر میں احتیاط بہتمجھ سے بھی رکھتے اختلاط بہت
بات کی طرز میری ہی بھاتیمیری آزردگی نہ خوش آتی
پیار چتون سے پھر نکلنے لگادیکھنا دل کو میرے ملنے لگا
کہیں دیکھوں تو بات دیر کہیںبے دماغ اور بے گمان رہیں
کچھ کچھ آزار مجھ کو دینے لگےقسم اقسام مجھ سے لینے لگے
میں جو کھاتا قسم تو ہو برہمکہنے لگتے کہ کیا گدا کی قسم
ایک دو دن میں بعد رفع ملاللطف سے پوچھتے کہو کچھ حال
جو گذرتی تھی مجھ پہ میں کہتایا کوئی اشک آنکھ سے بہتا
دیکھ کر روتے آپ بھی روتےدل دہی کرتے جب تلک سوتے
معاملۂ دوم
ایک مدت تلک یہ صحبت تھیکبھو الفت کبھو یہ کلفت تھی
رفتہ رفتہ سلوک بیچ آیاہاتھ پاؤں کو اپنے لگوایا
گاہ بے گاہ پاؤں پھیلاتےمیری آنکھوں سے تلوے ملواتے
چل کر آتے تھے جب کبھو ایدھرپاؤں رکھتے تھے میری آنکھوں پر
دیکھنے میں تو پائمالی تھیحسن سے چال یہ نہ خالی تھی
جلتی چھاتی تو ہوتا میں سائلکہ ٹک اے سرو ہو ادھر مائل
کف پا رکھیے یاں تو احساں ہےتیرے پاؤں تلے مری جاں ہے
ہنس کے سینے پہ پاؤں رکھ دیتےدل مرا یوں بھی ہاتھ میں لیتے
کیا کہوں کیسا قد بالا ہےقالب آرزو میں ڈھالا ہے
ایک جاگہ سے ایک جاگہ خوبپیکر نازک اس کے سب محبوب
موے سر ایسے جی بھی کریے نیازبل ہی کھایا کرے یہ عمر دراز
اس کے کاکل سے حرف سر نہ کروکاکل صبح پر نظر نہ کرو
کچھ بھی نسبت ہے تم کو سودا ہےکالے کوسوں کی بات کا کیا ہے
اس کی زلفوں میں دل گئے نہ پھرےرہے سنبل کے پیچ پاچ دھرے
اس جبیں سے ہے دل کی کب جاذبصبح صادق کے دعوے ہیں کاذب
ویسی بھوئیں کشیدہ بھی ہیں کہیںیہ کمانیں کسو سے کھنچتی نہیں
پھری پلکوں کی اور سب کی نگاہچشم پر میری تیری چشم سیاہ
کہوں چتون کے دیکھنے کے طوراس قیامت پہ وہ قیامت اور
سطح رخسار آئینے سے صافجو نہ ٹھہرے نگہ تو رکھیے معاف
لطف بینی کا فہم ہے دشوارایک باریک بینی ہے درکار
کیا جھمکتا ہے ہائے رنگ قبولجیسے مکھڑا گلاب کا سا پھول
ہے دہن تنگی سے سخن کوتاہکچھ نکلتی نہیں سخن کی راہ
اس سے گل کیا چنے کوئی ہمدمغنچۂ ناشگفتہ سے بھی کم
برگ گل سے زباں ہے نازک ترپھول جھڑتے ہیں بات بات اوپر
کیا کہوں کم ہیں ایسے شیریں گووہ زباں کاش میرے منھ میں ہو
دم بدم سوے گوش اشارۂ صبحگوہر گوش یا ستارۂ صبح
جب بناگوش ان نے دکھلایاصبح کا سا سماں نظر آیا
ان لبوں کا مزا لیا سو بھانتتس کے اوپر ہمارا بھی ہے دانت
تم نہ گل برگ و لعل ناب کہوبات جب تک نہ ٹھہرے چپکے رہو
کوئی جاں بخش یوں کہے سو کہےہم تو مرتے ہی ان لبوں پہ رہے
کنج لب آرزوے جان و دلآگے چلنا نگاہ کو مشکل
ان لبوں سے جو کوئی کام رکھےقند و مصری کو کیوں نہ نام رکھے
جو حلاوت انھوں کی کہیے ابہم دگر سے جدا نہ ہوویں لب
جب وے کھاتے ہیں بیڑۂ پاں کورو نہیں دیتے لعل و مرجاں کو
ایسی ہوتی نہیں ہے سرخ لبیرنگ گویا ٹپک پڑے گا ابھی
ہو تبسم سے لعل کا دل خوںہنستے دیکھا تھا سو مجھے ہے جنوں
نہیں دیکھے مسی ملے دنداںبرق ابر سیہ ہے تب خنداں
کیسے کیسے چمکتی ہے بے تہجگ ہنسائی کرے ہے اپنی یہ
بو اگر کیجے اس زنخ کا سیبجائے سر سے جنون کا آسیب
رہے گردن میں ان کی میرا ہاتھیہ تو یارب ہے میرے جی کے ساتھ
بس چلے تو گلے لگا ہی رہوںتیغ سے پھر جدا کریں تو نہ ہوں
اس میں ہرچند جی کا نقصاں ہےمدعا اختلاط چسپاں ہے
خوش و پرکار کب پری ان سیاور ہو تو کہاں ہے ہم جنسی
دیکھے ازبس برآمدہ سینےایسا معلوم دل جو یوں چھینے
کیا نظرگاہ کی کروں خوبینظریں اٹھتی نہیں یہ محبوبی
شانہ و دست و ساعد و بازودلکشی میں تمام یک پہلو
اس کے تو پہلو سے میں ہوکے جدادرد پہلو سے تنگ دل ہی رہا
ہائے اس سے خدا جدا نہ کرےدور اس سے جیوں خدا نہ کرے
یوں نہیں سرخ اس کی ہر انگشتڈوبی ہیں میرے خون میں یک مشت
وہ کف دست راحت جاں ہےکاش سینے پہ رکھ دے غم یاں ہے
کیا بیاں خوبی شکم کو کرےدیکھنے سے کبھو نہ پیٹ بھرے
صدر کے ناحیے سے لے تا نافچپ کی جاگہ ہے کیونکے کہیے صاف
اس سے پھر آگے غنچۂ گل ہےیاں سخن بابت تامل ہے
پردے میں بھی جو کچھ کہا جاوےآپ سے تو نہ ٹک رہا جاوے
گئی نظروں سے وہ کمر باریکہو نہ آنکھوں میں کیوں جہاں تاریک
اور کیا دل زدے کو بات آوےکہیں یارب شتاب ہاتھ آوے
نازکی اس میاں کی کیا کہیےبنے تو ہاتھوں میں لیے رہیے
ٹک اگر لچکے تو قیامت ہےپھر قیامت تلک ندامت ہے
کیوں پڑی ران پر نظر تا ساقاس بن اب زندگی ہوئی ہے شاق
پاے جاناں سے گفتگو ہے ابخاک میں ملنے کا یہی ہے ڈھب
وہ قدم کاش فرق سر پر ہوساق سیمیں مری کمر پر ہو
وہ کف پا قریب ہو میرےٹھوکر اس کی نصیب ہو میرے
پنڈلی نازک ہے شاخ سنبل کیپشت پا پنکھڑی سی ہے گل کی
یوں نصیبوں سے ہو حنا کا ناؤںورنہ ڈوبے ہیں میرے خوں سے پاؤں
ناخن پا حنائی ہیں ایسےبرگ گل پاے سرو ہوں جیسے
ہو خراماں تو اس طرف نگہیںگل کفش اس کی لوگ دیکھ رہیں
گل و بلبل سبھی تماشائیآگئے جس طرف بہار آئی
رنگ رفتار دیکھ مجنوں ہوطرز گفتار جیسے افسوں ہو
سر سے پاؤں تلک وہ محبوبیساتھ ان خوبیوں کے یہ خوبی
کہ بہت دل ہے آشناے رحمدردمندوں کو جانے جاے رحم
اب جو ثابت ہوئی ہے میری چاہاس کو مدنظر ہے مجھ سے نباہ
طعن و تعریض بیچ میں آئےکچھ نہ خاطر میں وہ مجھے لائے
رستے میں اک طرف وفا کے لیےچلے جاتے ہیں مجھ پہ لطف کیے
نہیں آزار کی رواداریمہرورزی ہے یا وفاداری
پر جو معشوقی آب و گل میں ہےچھیڑ رکھنے کا شوق دل میں ہے
میں کروں تو کہیں خوش آتا ہےتیرا آزار جی سے بھاتا ہے
خواہ ناخواہ وہ نہیں منظورکہ رہے دل شدہ مرا رنجور
یہ بھی شوخی سے ہے گہے گاہےپر اس انداز سے کہ جی چاہے
معاملۂ سوم
ایک دن فرش پر تھا میرا ہاتھباتیں کرتے تھے وے بھی میرے ساتھ
پاؤں سے ایک انگلی مل ڈالیلطف سے درد وہ نہ تھا خالی
درد سے کی جو میں نے بے تابیدست نازک سے دیر تک دابی
یاد آتے ہیں ایسے لطف جو ابگذرے ہیں جان غم زدہ پہ غضب
تن بدن دیکھ جی نہ رہتا تھامیں جو گستاخ ہوکے کہتا تھا
کہ یہ جاگہ تم اس فقیر کو دومتبسم ہو کہتے وے یہ لو
یہ بھی کیا کیا خیال رکھتے ہیںآرزوے محال رکھتے ہیں
پھر گھڑی بھر میں کہتے ہو نہ ملولمار کھانے کی باتیں سب ہیں قبول
جب سلوک ان کا یاد آتا ہےکیا کہوں جی ہی بھول جاتا ہے
معاملۂ چہارم
ایک دن پان وے چباتے تھےسرخ لب ان کے مجھ کو بھاتے تھے
کہہ اٹھا میں اگر اگال مجھےمنھ سے دو تو کرو نہال مجھے
بولے یوں ہی ہے میں کہا ہاں سچجھوٹا کھاتے ہیں میٹھے کی لالچ
ہنس کے اس وقت مجھ کو ٹال دیاپھر اسی رنگ سے اگال دیا
ایسی صدرنگ مہربانی تھیتب سیہ رو کی زندگانی تھی
اب کے سے رنگ گر فلک لاتاخاک کے رنگ میں مجھے پاتا
معاملۂ پنجم
منقبت ایک مجھ سے کہوایاجس کا میں نے صلہ انھیں پایا
پھر وہی کرتے میں جو کچھ کہتاایک پردہ سا بیچ میں رہتا
دوستی رابطہ وفا اخلاصساتھ میرے تھا ان کو رابطہ خاص
میں تقاضائی ملنے کا رہتامختلط ہونے کو سدا کہتا
میری تسکیں تھی ہر زماں منظورآپ بھی کرتے ملنے کا مذکور
وصل کے وعدے ہی رہا کرتےآج کل رات دن کہا کرتے
دل تو تھا رحم آشنا ازبسکڑھتے تھے جان کر مجھے بے کس
جانتے تھے کہ ہے یہ دل دادہسید خستہ خاک افتادہ
دیکھتے مجھ کو جو پریشاں دلکہتے اے میرؔ کچھ نہیں حاصل
دیکھ ٹک تو ہی تیرا حال ہے کیاجانے دے اب بھی یہ خیال ہے کیا
آفت جاں ہے دوستی کرناکب تلک گھٹ کے اس طرح مرنا
میں جو دیوانہ ان کے رو کا تھاشیفتہ پیچ دار مو کا تھا
کچھ نہ سمجھی گئی کہن ان کیاب جدائی جو ہے کٹھن ان کی
یاد کرتا ہوں اور روتا ہوںوعدہ بن ہی ہلاک ہوتا ہوں
معاملۂ ششم
گل روؤں بن جگر ہے داغ کبابگیسوؤں بن ہے جی کو پیچ و تاب
صورت ان کی خیال میں ہردمخواب میں جو ہوں وہ مژہ باہم
میں تو بستر پہ دل شکستہ اداسچاند سا منھ انھوں کا تکیے پاس
میں بچھونے پہ بے خود و بے خوابایک پیکر پری کا سا ہم خواب
فرش پر پاؤں یہ غبار آلودان میں وے دونوں پا نگارآلود
میں تو افتادہ محو عجز و نیازبازو میرے کسو کی بالش ناز
جلتی آنکھوں کنے گل رخسارجس پہ کچھ بکھرے موے عنبربار
پاس منھ کے وے لال تر نازکدست گستاخ پر کمر نازک
فرش اس گل بدن سے سب بویاپھول میں نے بچھائے تھے گویا
شب کٹی صورت خیالی سےدن کو ہوں میں شکستہ حالی سے
گرچہ روزانہ بھی تصور تھالیکن اندوہ سے مکدر تھا
کہیں تصویر سی نظر آئیکہیں منھ پھیر جیسے شرمائی
کبھی دل ان کے روومو میں رہےکبھی ملنے کی آرزو میں رہے
صورت حال اور کچھ ہر دمگاہ لب خشک گاہ مژگاں نم
میں بھی مقدور تک وفا کی ہےجان غمناک پر جفا کی ہے
برسوں تک میں پھرا ہوں سرگرداںروز و شب دونوں تھے مجھے یکساں
نے فقط جان سے جہاں سے گیازن و فرزند خانماں سے گیا
کیچ پانی ہو مینھ ہو یا برساتروز روشن ہو یا اندھیری رات
ان تلک میرے تیں پہنچ رہنابیٹھے منھ دیکھنا نہ کچھ کہنا
آشنا یار سارے بیگانےکہ ہوئے میرؔ جی تو دیوانے
رشتۂ ربط انھوں نے توڑ دیاملنا جلنا سبھوں نے چھوڑ دیا
نظر آتے نہیں ہیں مدت سےانس پیدا کیا ہے وحشت سے
صبح ہوتے ہی گھر سے چلتے ہیںجیسے کھوئے گئے نکلتے ہیں
چلتے جاتے ہیں دیکھتے ہی راہپر کہیں کی کہیں پڑے ہے نگاہ
مل گیا جو کوئی تو بچ نکلےسڑی خبطی دوانے سچ نکلے
شوق سے ان کے حال دیگرگوںپارہ پارہ دل و جگر سب خوں
رنگ ہر دم مزاج کا کچھ اورکل کا کچھ اور آج کا کچھ اور
کیا بیاں کریے بے قراری کاذکر کیا حال اضطراری کا
جی پڑا ترسے ساتھ سونے کودل پریشان جمع ہونے کو
پاس ان کے رہوں تو دل کو قرارپھر نہ ٹھہرے ٹک ایک کریے ہزار
گئی برباد عزت ان کے لیےجلف لوگوں نے منھ پہ طعنے دیے
گھورے پر سے جو اٹھ نہ سکتے تھےوے بھی کناس پوچ بکتے تھے
سفر آیا جو ان کے تیں درپیشساتھ اس رنج میں بھی تھا درویش
کیا کہوں جو اذیتیں دیکھیںہر قدم پر قیامتیں دیکھیں
جو پڑھے گا تسنگ نامہ یاںہوگی ساری حقیقت اس پہ عیاں
یاں نہ تفصیل کرنے کا تھا مقامکہ محبت سے یاں ہے حرف کلام
معاملۂ ہفتم
بارے کچھ بڑھ گیا ہمارا ربطہوسکا پھر نہ دو طرف سے ضبط
تب ہوا بیچ سے یہ رفع حجابجب بدن میں رہی نہ مطلق تاب
ایک دن ہم وے متصل بیٹھےاپنے دل خواہ دونوں مل بیٹھے
شوق کا سب کہا قبول ہوایعنی مقصود دل حصول ہوا
واسطے جس کے تھا میں آوارہہاتھ آئی مرے وہ مہ پارہ
گہ گہے دست دی ہم آغوشیہم سری ہم کناری ہم دوشی
چند روز اس طرح رہی صحبتپیار اخلاص رابطہ الفت
کچھ کہوں جو انھوں کی ہو تقصیرنارسائی تھی طالعوں کی میرؔ
ہوگئے بخت اپنے برگشتہپھر کیا آسماں نے سرگشتہ
بات ایسی ہی اتفاق پڑیکہ ہوئی سر پہ فرقت آن کھڑی
لگی کہنے کہ مصلحت ہے یہکتنے روزوں جدا تو مجھ سے رہ
یوں بھی آتا ہے عشق میں درپیشکہ نشان بلا ہوں الفت کیش
میں اٹھایا نہیں ہے تجھ سے ہاتھکڑھیو مت تو ہے میری جان کے ساتھ
اس جدائی کا مجھ کو بھی غم ہےکیا کروں آبرو مقدم ہے
میں کہوں کیا مجھے نہ اپنا ہوشجیسے تصویر سامنے خاموش
آنسو آنکھوں میں پر پیے جاؤںوے کہیں کچھ تو ہاں کیے جاؤں
ان سے رخصت ہوئے جو بعد شامتیرہ دیکھا جہان کو ہر گام
دل ٹھہرتا نہ تھا ملالت تھیجان کو رفتگی کی حالت تھی
یوں ہوا ان کے کوچے سے آناجیسے ہووے جہان سے جانا
اب جو گھر میں ہوں تو فسردہ ساچارپائی پہ ہوں تو مردہ سا
جی انھوں میں فسردہ قالب یاںمتحرک ہو کیا تن بے جاں
حال دل کا کہوں جو ہمدم ہوکروں پیغام کچھ جو محرم ہو
جی میں کچھ آیا رو کے بیٹھ رہادل زدہ چپکا ہوکے بیٹھ رہا
کوئی آیا جو واں سے جی آیاسو نہ آیا کبھی کبھی آیا
دیکھیے چند یوں رہیں گے جداچاہے ہے کیا ہمارے حق میں خدا
خون دل کب تلک پئیں گے ہمرنگ یہ ہے تو کیا جئیں گے ہم
آہ کیا کیا بیاں کروں خوبیدل دہی حال پرسی محبوبی
تند ہوکر نہ بات کو کہناملتفت حال زار پر رہنا
لطف مبذول حال پر ہر آنتازہ ہر دم مروت و احسان
لب سے جاں بخش حرف سے دل جولطف سے پوچھنا کہ خوش ہے تو
یاد کر روؤں ان کی کون سی باتکس طرح کاٹوں ہجر کے اوقات
ملنا ان سے ہو پھر گھٹے غم بھیآئے جیتوں میں جانیے ہم بھی
مدت ہجر اگر تمام ہوئیورنہ اپنی تو صبح شام ہوئی
۵۵۶ / ۵۸۲