کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مرثیۂ خروس کہ در خانۂ فقیر بود
کئی برس سے ہمارے کنے تھا ایک خروسخروس عرش کی اولاد سے ولے افسوس
پھرا جو اس سے یکایک زمانۂ کج بازقضا نے اس کو کیا ایک بار مرغ انداز
دیا کرے وہ اذاں دونوں وقت صبح و شامبجا ہے مرغ مصلی رکھیں گر اس کا نام
نہیں ہے مرغ چمن میں جہاں کے ایسا آجبہ رنگ کلۂ تاج خروس سر پر تاج
جو بیٹھے جھانپے میں پرواز پر سے مرغ خیالکھڑا ہو دھوپ میں تو رشک مرغ زریں بال
کبھو جو صحن میں گھر کے وہ اشرف الطیارپھرا ہے کیس کو ڈالے تو مرغ آتش خوار
نہ بطخیں ہیں ثناگستری میں اس کی مدامبزرگ داشت کریں مرغ سبزوار تمام
رہا ہمیشہ سے وہ مرغ مستعد جنگطرف نہ اس کے ہوئے بچگی میں قاز و کلنگ
جب ان نے گانٹھ کے اک لات حلق پر ماریشتردلی کی شترمرغ نے کئی باری
نہ اس کے سامنے کوئی کھڑا رہا مرغاحواصل اس سے بگڑتا تو تھا وہ کیا مرغا
بجز کنارہ نہ سیمرغ کو بنا چارہکہ فیل مرغ کو بکری کی طرح سے مارا
ہمیشہ گربہ و سگ سے تھی روک ٹوک اسےجہاں سے لے گئی آخر یہ نوک چوک اسے
خصومت اس کی تھی یک مادہ سگ سے شام و سحرکبھو وہ لات اسے مارتا کبھو شہپر
قضا جو پہنچی تھی نزدیک وہ بھی جھنجھلائیحریف ہوکے دلیرانہ سامنے آئی
یہ بہبہا تھا نہ سمجھا ادا کو کینے کیلگائی سامنے ہوتے ہی ایک سینے کی
ہلائی ان نے بھی گردن لگی کہیں بے کلکہ ایک دم میں گئی آہ اس کی گردن ڈھل
جھکا جو خاک کی جانب کو کیس بے جاں کازمیں پہ تاج گرا ہدہد سلیماں کا
ہوا کے مرغ ہوئے داغ اس کے ماتم سےسیاہ پوش رہے طائر حرم غم سے
وہاں جو نوحۂ مرغان قدس باز ہواکہ مرغ قبلہ نما کا بھی دل گداز ہوا
قفس کے مرغ نے سن ترک آب و دانہ کیاطیور نے بھی نہ پھر قصد آشیانہ کیا
ہوا زبسکہ پراگندہ یہ غم جاں سوزاداس رہنے لگے سارے مرغ دست آموز
خروس عرش ہی اس بن نہیں ہے سینہ فگارہزار مرغ کا اب گھر خروس پر ہے بار
زمانہ جب تئیں ہے اس کے درد کے مارےرہیں گے خاک فشاں مرغ خانگی سارے
خموش میرؔ تجھی کو نہیں یہ رنج و تعبکباب آتش غم میں ہیں مرغ و ماہی سب
۵۵۷ / ۵۸۲