کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
درویش جو ہیں مقصد دلخواہ کہیں ہیںسالک جو ہیں وے راہبر راہ کہیں ہیںاک واقف اسرار و دل آگاہ کہیں ہیںاک چرخ حقیقت کا تجھے ماہ کہیں ہیںکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
مذکور کہیں نام ترا کام روا ہےمشہور لقب ایک جگہ راہ نما ہےہر ایک نے کچھ حسب خرد اپنے کہا ہےسمجھا نہ کوئی یہ کہ حقیقت میں تو کیا ہےکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
من بعد نبیؐ باعث بہبود تو ہی ہےنزدیک خردمندوں کے مسجود تو ہی ہےکچھ کوئی کہو خلق سے مقصود تو ہی ہےپہنچیں جو حقیقت کو تو معبود تو ہی ہےکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
جس روز سے تو تھا نہ کوئی عرصے میں آیافتنے کو ترے شور نے تا حشر سلایابالفرض فلک سے بھی اگر ہاتھ ملایااک روز میں کر خاک برابر ہی دکھایاکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
اس بات کو جانیں ہیں سب آگاہ تہ کارایوبؑ نے جب نالہ کیا کھینچ کے آزارقدرت نے کیا حق کی ترے پردے میں اظہارصورت سے شفا کی تو ہوا آکے نمودارکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
آدم کی انابت تھی شب و روز تری اورجپتے ہیں ملک نام ترا چرخ پہ کر شورقائل ہیں ترے لے کے سلیمان سے تا موراللہ ری تری شوکت و احسنت ترا زورکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
ہستی میں ترا جلوہ ترا شور عدم میںتیرا ہی تصرف ہے حدوث اور قدم میںہوتا نہ ترا دست حمایت کا جو یم میںیونسؑ کی توقع نہ تھی ماہی کے شکم میںکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
پردے میں صدا تھی تری داؤد کا الحانشمہ تھا تری چشم کا اک نوح کا طوفانجاں بخش دم عیسوی میں تو ہی تھا پنہانتھا ہاتھ ترا معجزۂ موسی عمرانکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
یعقوب کا تھا کلبۂ احزاں میں تو غم خواریوسف کا ملک ہو کے ہوا چہ میں مددگاررحمت کا فرشتہ ہو ترے لطف نے پر مارکی آتش نمرود براہیم پہ گلزارکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
الٹا ہے دو انگشت سے دروازۂ خیبرچیرا ہے کس انداز سے گہوارے میں اژدرکیا ہاتھ تھا جس سے کہ گیا جان سے عنترظاہر ہے کہ یاں تھا وہی ظاہر وہی مظہرکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
ثانی ترا پاتے نہیں تسلیم و رضا میںایوب سے ہو صبر ترا سا نہ بلا میںمشہور سخاوت ہے تری شاہ و گدا میںتیں خود کے تئیں بخش دیا راہ خدا میںکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
اے وہ کہ تو ہے جان و جہاں سارا ہے قالبدر پر جو اکٹھے ہوں ترے سینکڑوں طالباک پل میں روا کردے تو ان سب کے مطالبہم عاجز و عاجز ہیں تو ہے غالب و غالبکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
ہے میرؔ پریشاں دل و آوارہ و مضطرکیا تیری صفت کرسکے یا حیدر صفدرہے وصف ترا حیز امکان سے باہرکہتے ہیں خردور تری قدرت کو نظر کرکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
۵۵۸ / ۵۸۲