کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
چیدہ خواروں میں شہ روم ترے صبح و شامریزہ چینی سے تری بادشہ چیں کا قیامحبشی ہندی صفاہانی بخارائی تمامہیں ترے دست نگر لیجیے کس کس کا نامیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
گرسنہ چشم ترا آدم و سب اس کے خلفتو جو دعوت کرے تو آویں فرشتے صف صفدہر کا راتبہ ہے بحر ترا کشتی بہ کفمہر و مہ دیکھتے ہیں تیرے ہی ہاتھوں کی طرفیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
سایہ گستر دوجہاں کا ہے ترا لطف عمیمدے تو جنت کی نعیم اور تو ہی فوز عظیمتجھ سے مامول عطا سب تو کریم ابن کریمہووے یعقوب کہ اسحاق کہ ہو ابراہیمیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
مردمی کا تری دریا نہیں رکھتا ہے کنارایک موجے میں ترے سینکڑوں بیڑے ہوئے پارکاڑھے طوفان بلا سے تری ہمت نے پارنوح ممنون ہے یونس ہے ترا شکرگزاریا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
اہل عالم متمتع رہے ہیں تجھ سے مداممائدہ طور پہنچتا تھا ترے ہاں سے طعاممن و سلویٰ تھا فرستادہ کبھو بہر انامقول عیسیٰ بھی یہی تھا یہی موسیٰ کا کلامیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
ہے بچھا شرق سے تا غرب ترا دسترخوانجس پہ مہمان ہے ہر شام و سحر خلق جہانآسماں یاں کی گدائی سے بھرے ہے انبانماہ و خورشید کو ملتی ہیں یہاں سے دو نانیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
سر شاہان زمانہ تری خاک درگاہکج رکھیں تیرے بھروسے پہ فقیر اپنی کلاہمنھ ترا تکتے رہیں عارف و کامل آگاہتجھ سے سب پہنچے ہیں مقصود کو قصہ کوتاہیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
نام حاتم کا خنک جیسے لطیفہ مستورمعن زائد کا تری بزم میں زائد مشہوررنگ رنگ اطعمہ ہیں بذل پھر اس درجہ وفورکیا خداوندی ہے اللہ خدائی مشکوریا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
لطف ہے عام ترا سب تجھی سے پاتے ہیںتیری دولت ہے جو یہ شاہ و گدا کھاتے ہیںشکر نعمت یہ نہیں تیرا بجا لاتے ہیںاس جہاں سے بھی یہی کہتے ہوئے جاتے ہیںیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
ارض میں اور سماوات میں سب تیرا مالجس کا گھر چاہے تو کر دیوے اسے مالامالروز بہبود کا تجھ سے سر گردوں میں خیالاپنی خوبی کو زمیں رات کرے تجھ سے سوالیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
فی الحقیقت تری مہمان خلائق ہے سبتیرے دروازے سے محروم کوئی آوے ہے کبریجھنے ہی کی ہے گوں تیری مروت کا ہے ڈھبجاؤں ناکام اگر میں تو نہایت ہے عجبیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
کاسہ لیسی تیرے مطبخ کی کریں خرد و کبیرہاتھ پھیلائے رہے آگے ترے جم غفیرظرف ہیں جن کے بڑے سب وے یہیں کے ہیں فقیرآدم و جن و ملک شاہ و گدا میر و وزیریا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
۵۵۹ / ۵۸۲