کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
جاتی ہے شب تارے گنتے دن کو پھرتا ہوں خرابکب تلک اس خاکداں میں جوں بگولا پیچ و تابدل تڑپتا ہے جدا جی کو جدا ہے اضطرابہر گھڑی تازہ تعب ہر دم نیا ہے اک عذابیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
اب گرا جاتا ہوں چشم خلق سے لے ٹک سنبھالدیکھ مت اس سے زیادہ خوار و زار و خستہ حالمرحمت کر مکرمت کر رنج سے مجھ کو نکالکب تلک محزوں رہوں میں تا کجا کھینچوں ملالیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
کیا لکھے اعجاز تیرے خامۂ جادوشعارتو وہی ہے ایک لیکن نام تیرے ہیں ہزاروقت جب ہوتا ہے تنگ اے قدرت پروردگارنام لے لے کر ترے کہتا ہے ہر اک یوں پکاریا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
حاجت اہل جہاں وابستہ تجھ سے ہے مدامسہل ہیں یاں مشکلیں آساں ہیں یاں دشوار کامعارف و عامی سبھوں کا ہے وظیفہ تیرا نامزیر لب ہر اک کے رہتا ہے یہی ہر صبح و شامیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
تنگ ہے عرصہ نہایت دم رکا جاتا ہے آہیاں سے جانا بھی نہیں آتا ہے بن اے خضر راہلیتے ہیں آنکھیں چھپائے جن پہ جاتی ہے نگاہآستاں بن تیرے دکھلائی نہیں دیتی پناہیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
حرف زن ہوتا ہوں جب میں تنگی احوال سےصفحہ صفحہ درد کرتا ہے تراوش قال سےلطف بن تیرے چھڑاوے کون اس جنجال سےآئی ہے سر پر قیامت شامت اعمال سےیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
آسمان بے تمیز و بے تہ و دشمن کمالدوستی کے پردے میں کرتا ہے مجھ کو پائمالیعنی سر سہلا کے بھیجا کھا گیا یکسر نکالاب تلک جیتے تو ہیں پر زندگانی ہے وبالیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
خاک سے یکساں ہوا ہوں ہو کرم سے دستیارہوں گدا تجھ آستاں کا کر ٹک اک امداد کاردل کو میرے جس گھڑی ہوتا ہے شاہا اضطراربار بار آوے ہے منھ پر اس گھڑی بے اختیاریا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
سارے عالم سے کرے ہے کج روی چرخ نژندقافیہ ہے تنگ ازبس امن کی راہیں ہیں بندغم فروکن کچھ نہیں میرا ہے یہ شعر بلندپڑھتے ہیں سب شیخ و شاب و ناتوان و دردمندیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
غالباً پہنچے بہم اب میرؔ کو بھی برگ و سازآبلہ یک بن گیا ہے جملہ تن ہو کر گدازشام کہتا ہے یہی رکھ خاک پر روے نیازصبح پڑھتا ہے یہی جاے دعا بعد از نمازیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
۵۶۰ / ۵۸۲