کلامِ شادردیف الف

اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا

۱

اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیاکہ منہ سے نام لیا دل میں تو اتر آیا

۲

بہت دنوں پہ مری چشم میں نظر آیااے اشک خیر تو ہے، تو کدھر کدھر آیا

۳

ہزار شکر کہ اس دل میں تو نظر آیایہ نقشہ صفحۂ خالی پہ جلد اتر آیا

۴

بشر حباب کی صورت ہمیں نظر آیابھری جو قطرہ کے اندر ہوا ابھر آیا

۵

زباں پہ آتا ہے نالہ بھی سو کرشموں سےکہاں سے آپ کے انداز کا اثر آیا

۶

عدم میں عیش ہے چلتا ہوں میں بھی لے اے دلجہاں میں جتنے مصیبت کے دن تھے بھر آیا

۷

لکھے کو روئیے اب تابہ حشر تربت میںکہ میرے مرنے پہ خط لے کے نامہ بر آیا

۸

پڑا ہے شب سے یوں ہی اب تلک نہ لی کروٹدل ستم زدہ اس کی گلی سے مر آیا

۹

ہزار شکر خدا کا یہی غنیمت ہےنہ خیر آیا مرے دل کو اور شر آیا

۱۰

ریا تو دل میں تھی ماتھے پہ اب ہے اس کا نشاںکہاں کا داغ کہاں دفعتاً ابھر آیا

۱۱

مقیم دل ہے ڈنواں ڈول رہ کے اب ایماںبتوں کے قہر سے چھوٹا خدا کے گھر آیا

۱۲

ہمارے پائے طلب نے بڑی مہم سر کیکہ کٹ کے سامنے قاتل کے اپنا سر آیا

۱۳

شراب پی کے میں پہنچا فلک پہ اے ساقیکہاں سے ان کئی قطروں میں یہ اثر آیا

۱۴

وہ چاہے بد کہے قاصد بتوں کو یا مجھ کوحرم میں چین سے ایمان جا کے دھر آیا

۱۵

لحد میں شانہ ہلا کر یہ موت کہتی ہےلے اب تو چونک مسافر کہ اپنے گھر آیا

۱۶

ہزار شکر ہوا آفتاب حشر طلوعبڑی تو لاج رہی یہ کہ تو نظر آیا

۱۷

گواہیاں ہوئیں اعضا کی حشر میں مقبولوہ پاک ہو گئے الزام میرے سر آیا

۱۸

ہجوم غم نے سکھانے کی لاکھ کوشش کیہمیں تو آہ بھی کرنا نہ عمر بھر آیا

۱۹

جو چند دن میں ہوئے ذی کمال کون ہیں شادؔہمیں تو شعر کا کہنا نہ عمر بھر آیا

۲۰

اسی کو شعر سمجھتے ہیں شادؔ اہل مذاقادھر پڑھا کہ دلوں میں ادھر اتر آیا

۳ / ۷۹