کلامِ شادردیف الف
جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا
۱
جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنابڑا گناہ یہاں ہے الف سے بے کہنا
۲
شب فراق میں سائے سے ڈر کے کہتا ہوںاجی یہ رات ڈرانی ہے جاگتے رہنا
۳
چمن میں پھول کھلے باغ میں بہار آئیعروس دہر نے گویا پہن لیا گہنا
۴
ہماری آہ و بکا سے ہے جسم شوق قوییہ ہاتھ بایاں ہے اپنا وہ ہاتھ ہے دہنا
۵
فغان بلبل شیدا نہ جانیے اس کوبجا رہا ہے کوئی صحن باغ میں شحنہ
۶
غم فراق میں اے آسماں نہیں موقوفوہ جو سہائیں مجھے مجھ کو ہر طرح سہنا
۷
نکال دے کہ ہے ایسے میں جوئے اشک رواںبرا ہے بات کا اے چشم دل میں لے رہنا
۸
گلی میں یار کی ہو یا کسی خرابے میںہمیں تو حشر کے دن تک کہیں پہ مر رہنا
۹
اثر بھی شادؔ کے شعروں میں ہے متانت بھییہ کہنہ مشق ہیں ان کی غزل کا کیا کہنا
۴ / ۷۹