کلامِ شادردیف الف
نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا
۱
نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیااک عمر سے تھی تکلیف جسے کل شب کو وہ قیدی چھوٹ گیا
۲
تھی تیری تمنا کاہش جاں اس درد سے میں دیوانہ تھاچھالا تھا دل اپنے سینے میں اے وا اسفا وہ پھوٹ گیا
۳
سب اپنی ہی اپنی دھن میں پھنسے تیرا تو نہ نکلا کام کوئیجو آیا ترے دروازے پر وہ اپنا ہی ماتھا کوٹ گیا
۴
تابوت پہ میرے آئے جو مٹی میں ملایا یوں کہہ کرپھیلا دیے دست و پا اپنے اتنے ہی میں بس جی چھوٹ گیا
۵
آیا تھا یہی دل میں میرے رندوں ہی پہ کلی بھی پھینکوںساقی کا اشارہ پاتے ہی میں زہر ستم کو گھوٹ گیا
۶
ہو ہندوئے خال لب تیرا یا ترک نگہہ ہو اے قاتلدہلی تھا ہمارا دل شاید جو آیا وہ اس کو لوٹ گیا
۷
نازک تھا بہت کچھ دل میرا اے شادؔ تحمل ہو نہ سکااک ٹھیس لگی تھی یوں ہی سی کیا جلد یہ شیشہ ٹوٹ گیا
۵ / ۷۹