کلامِ شادردیف الف

تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا

۱

تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گاآنکھ والوں سے نہ دیکھا جائے گا

۲

سب طرح کی سختیاں سہہ جائے گاکیوں دلا تو بھی کبھی کام آئے گا

۳

ایک دن ایسا بھی ناصح آئے گاغم کو میں اور غم مجھے کھا جائے گا

۴

اے فلک ایسا بھی اک دن آئے گاجب کیے پر اپنے تو پچھتائے گا

۵

وصل میں دھڑکا ہے ناحق ہجر کاوہ دن آئیں گے تجھے سمجھائے گا

۶

آ چکے احباب اٹھانے میری لاشناز اس کو دیکھیے کب لائے گا

۷

چوٹ کھائے دل کا ماتم دار ہےمیرا نالہ بھی تڑپتا جائے گا

۸

چھوڑ دے ہم وحشیوں کو اے غبارپیچھے پیچھے تو کہاں تک آئے گا

۹

منتظر ہے جان بر لب آمدہدیکھیے کب پھر کے قاصد آئے گا

۱۰

ہجر میں نالے غنیمت جان لےپھر تو خود اے ضعف تو پچھتائے گا

۱۱

نیم کشتہ ہیں تو ہیں پھر کیا کریںکچھ اگر بولیں تو وہ شرمائے گا

۱۲

جوش وحشت تجھ پہ صدقے اپنی جانکون تلوے اس طرح سہلائے گا

۱۳

اور بھی تڑپا دیا غم خوار نےخود ہے وحشی کیا مجھے بہلائے گا

۱۴

راہرو تجھ سا کہاں اے خضر شوقکون تیری خاک پا کو پائے گا

۱۵

باغ میں کیا جائیں آتی ہے خزاںگل کا اترا منہ نہ دیکھا جائے گا

۱۶

میری جاں میں کیا کروں گا کچھ بتاجب تصور رات بھر تڑپائے گا

۱۷

کیوں نہ میں مشتاق ناصح کا رہوںنام تیرا اس کے لب پر آئے گا

۱۸

دل کے ہاتھوں روح اگر گھبرا گئیکون اس وحشی کو پھر بہلائے گا

۱۹

کھو گئے ہیں دونوں جانب کے سرےکون دل کی گتھیاں سلجھائے گا

۲۰

میں کہاں واعظ کہاں توبہ کروجو نہ سمجھا خود وہ کیا سمجھائے گا

۲۱

تھک کے آخر بیٹھ جائے گا غبارکارواں منہ دیکھ کر رہ جائے گا

۲۲

دل کے ہاتھوں سے جو گھبراؤگے شادؔکون اس وحشی کو پھر سمجھائے گا

۲۳

کم نہ سمجھو شوق کو اے شادؔ تماک نہ اک بڑھ کے یہ آفت لائے گا

۲۴

ہے خزاں گل گشت کو جاؤ نہ شادؔگریۂ شبنم نہ دیکھا جائے گا

۲۵

کچھ نہ کہنا شادؔ سے حال خزاںاس خبر کو سنتے ہی مر جائے گا

۶ / ۷۹