بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا
جب قتل ہوا میں تڑپا بھی چھینٹیں بھی اڑائیں مان لیاالزام خود اس پر کیا یہ نہیں دامن کو نہ کیوں گردان لیا
About this couplet
This is couplet 2 of 11 in “بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۲ / ۱۱