بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا
تو عام فریبی مجھ سے نہ کر ہم مرد ہیں سن لے اے دنیاجو منہ سے کہا وہ کر گزرے جو ٹھان لیا وہ ٹھان لیا
About this couplet
This is couplet 3 of 11 in “بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۳ / ۱۱