بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا

اقسام تھے یاس و حسرت کے اصناف امید بے حد کےجب چلنے لگے ہم دنیا سے ساتھ اپنے بہت سامان لیا

About this couplet

This is couplet 4 of 11 in “⁨بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (⁨کلامِ شاد⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۱